Home » کالم » پلوامہ حملہ مودی سرکار کی کارستانی

پلوامہ حملہ مودی سرکار کی کارستانی

پلوامہ حملے کے متعلق پہلے دن سے ہی ہر کسی کو تحفظات تھے۔ حملے کے بعد گزرتے دنوں میں بھارتی سرکار کی مشکوک حرکات و بیانات سے واقعے کی وقوع پذیری کے متعلق شکوک و شبہات بڑھتے گئے۔ اس دفعہ پاکستان پر الزام دھرنے کا منصوبہ بھی ناکام ہوگیا۔نہ صرف خطے کے عوام بلکہ دنیا نے بھی اس واقعے میں پاکستانی ہاتھ ہونے کا واویلا رد کر دیا۔ لیکن اب پلوامہ ڈرامے کو بے نقاب کرتے ہوئے بھارتی سماجی رہنما ومن وشرام کا بیان منظر عام پر آیا کہ پلوامہ حملہ مودی سرکار نے خود کرایا۔ومن وشرام نے واضح کہا کہ پلوامہ حملہ پاکستان کے خلاف مودی سرکار کی سوچی سمجھی سازش تھی اور حملہ مودی سرکاری نے خود کرایا۔ مودی سرکار کو پلوامہ حملے کا 8دن پہلے علم تھا اور یہ بات سکیورٹی میٹنگ میں ڈسکس ہوئی تھی ۔ مودی سرکار چاہتی تو حملہ روک سکتی تھی لیکن پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے مودی سرکار نے حملہ ہونے دیا۔ اس طرح انتخابا ت میں پاکستان مخالف ووٹ بھی مودی کو ملتے۔ اور تو اور حملے میں مرنے والے نوجوانوں نے درخواست بھی دی تھی کہ ہمیں بذریعہ فضائی راستہ منتقل کیا جائے کیونکہ حالات دیکھتے ہوئے انہیں بھی اسی قسم کے حملے کی سن گن تھی مگر مودی سرکار نے ڈرامہ رچانے کیلئے ان کی درخواست نہیں مانی۔حملے میں مرنے والے تمام نچلی ذاتوں کے لوگ ہیں ۔ یہ سازش سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے کسی کو نہیں مارا ۔ہماری سرکار نے 42 لوگوں کو مارا ہے اور نام پاکستان کا لیا جارہاہے۔ ہندو انتہا پسند تنظیم مہاراشٹر نوونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی پلوامہ حملے پر سوال اٹھا دئیے ہیں اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کوتفتیش کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول سے تحقیقات کی جائیں تو پلوامہ حملے کی حقیقت سامنے آ جائے گی۔ پلوامہ حملے میں مارے گئے فوجی سیاسی متاثرین ہیں۔ حکومتیں سیاسی مقاصد کیلئے ایسے کام کرتی ہیں لیکن مودی حکومت میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا۔ جب پلوامہ حملے کی خبر آئی تو مودی ایک فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے اور خبر ملنے کے باوجود بھی مصروف ہی رہے۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے مسلمان رہنما ہارون یوسف نے مودی حکومت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت میں کہیں گائے کا تین کلو گوشت فروخت ہو رہا ہو تو فوری پتہ چل جاتا ہے لیکن پلوامہ دھماکے میں استعمال ہونے والے 350 کلو دھماکہ خیر مواد کا انہیں پتہ نہیں چل سکا۔ بقول سرکار کے کہ پاکستان سے اسلحہ و دہشت گرد آئے۔ پاکستان سے آرڈی ایکس کا مواد اورگاڑی کیسے آئی؟ تمام سکیورٹی فورسزکے باوجود روکنے کاکام کیوں نہیں کیا؟پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں بھارت کے دانشوروں نے پاکستان کو فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی رد عمل خود بھارت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پاکستان کا تحمل اور برداشت عالمی سطح پر اسے مزید معتبر کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ میں بھارت تنہا ہے۔ پوری عالمی برادری میں کوئی بھی بھارت کا موقف سننے کو تیار نہیں۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے اعتراف کیا ہے کہ پلوامہ مبینہ حملہ میں کوئی پاکستانی نہیں بلکہ کشمیری نوجوان ملوث تھا۔ اگرکشمیری نوجوان عسکریت پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں تو اس کا مطلب جو کچھ بھی ہم کررہے ہیں،جنگ مسئلے کا حل نہیں اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ہمیں کشمیری عوام کے دل و دماغ جیتنے کی ضرورت ہے۔محبوبہ مفتی نے پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور بھارت کی جنگی دھمکیوں پر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان جوہری ملک ہے اس لیے بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکالنا چاہیے، جنگ کا سوچنے والے پاگل اور جذباتی ہیں‘۔ اسی بات پر جنگی جنون میں مبتلا بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو پاکستان کا حمایتی ٹھہراتے دیتے ہوئے غدار قرار دے دیا۔پلوامہ حملہ کے ہلاک شدگان نچلی ذات کے ہندو تھے۔ دلت ذات کے ہندوؤں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے انہیں ہندو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا لیکن ان کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے دلت بھارتی انتخابات میں بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔مودی کے حالیہ دورہ کشمیر کے موقع پر یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ کس طرح دلت برادری کا ووٹ حاصل کیا جائے۔ کشمیر میں ہی فیصلہ ہوا کہ دلت فوجیوں کو چارہ بنا کر خود کش حملہ کرایا جائے اور الزام پاکستان پر دھردیا جائے ۔ اس سے ایک تو پاکستان کی بدنامی ہوگی۔ دوسرا دلت برادری کی ہمدردیاں سمیٹی جائیں گی اور یوں پاکستان مخالف اور ہندو ازم کے کارڈ پر اگلا انتخاب جیتا جائے۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ پلوامہ حملہ کیس کے مرکزی ملزم عادل ڈارکو بھارتی فورسز نے 2017 میں گرفتار کیا تھا ۔اس کا ویڈیو بیان بھی زیر حراست ہی ریکارڈ کیا گیا۔ اگر بقول بھارتی ذمہ داران کے ، کہ عادل حراست سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا تو یہ بات میڈیا پر کیوں نہ لائی گئی۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عادل ڈار کبھی پاکستان نہیں گیا۔ کسی پاکستانی تنظیم سے اس کا تعلق نہ تھا ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس پر وہ آگ بگولہ ہوا۔ غرض ہر فقرہ، ہر لفظ غلط، ہر منصوبہ ناکام ہوا۔ یہ محض ایک ڈرامہ تھا جس کا الزام پاکستان پر ڈال دیا گیا تاہم پاکستان نے علیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کر دی۔ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خواب ایک دفعہ پھر ادھورا رہ گیا۔پلوامہ حملے کے بعد بھارتی حکومت اور اْن کا میڈیا بد حواسی کا شکار ہے اور وہ اپنی نااہلی کا الزام مسلسل پاکستان پر تھوپنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔انتہاء پسند بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کیے اور جنگ کی دھمکی دی تو بھارتی میڈیا نے بھی ٹماٹر کی ایکسپورٹ نہ کرنے پر بریکنگ نیوز بنائی تاکہ شہریوں کو مشتعل کیا جاسکے۔ لیکن بھارتی عوام سمجھ دار ہے وہ یقیناًبھارتی سرکار اور میڈیا کی باتوں میں نہیں آئے گی اور حقیقت تک پہنچنے کیلئے تمام وسائل استعمال کرے گی۔

About Admin

Google Analytics Alternative