53

پنجاب اور سندھ حکومت نے ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز روک دی

پاکستان کے سب سے بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے فلم ساز سرمد کھوسٹ کی آنے والی فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز کو روک دیا۔

دونوں صوبائی حکومتوں کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے روز آیا ہے جب کہ سرمد کھوسٹ نے اپنی فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور اسے روکنے کے خلاف متحرک تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف لاہور کی سول کورٹ میں درخواست دائر کی۔

سرمد کھوسٹ نے لاہور کی سول کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان نے ان کی فلم کی ریلیز روکنے کی کال دے دی ہے اور مذکورہ تنظیم کے کارکنان ان کے خلاف مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں۔

فلم ساز نے عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان کی فلم پر غلط الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ ان کی فلم کسی بھی انفرادی شخص یا کسی بھی تنظیم یا فرقے کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان کی فلم معاشرے کو بہتر بنانے کے موضوع پر بنائی گئی ہے۔

فلم ساز نے دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کی فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو روکا جائے جس پر عدالت نے تمام فریقین سے 22 جنوری تک جواب طلب کیا تھا تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ پنجاب حکومت نے سرمد کھوسٹ کی فلم کو ریلیز کرنے سے روک دیا۔

سرمد کھوسٹ نے 21 جنوری کو فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے درخواست بھی دائر کی تھی—اسکرین شاٹ یوٹیوب
سرمد کھوسٹ نے 21 جنوری کو فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے درخواست بھی دائر کی تھی—اسکرین شاٹ یوٹیوب

پنجاب کے محکمہ اطلاعات نے فلم ساز سرمد کھوسٹ کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ 24 جنوری کو ’زندگی تماشا‘ کو ریلیز نہ کریں اور صوبائی حکومت کی جائزہ ٹیم کو فلم دکھانے کا انتظام کرے۔

صوبائی حکومت کے مطابق جائزہ کمیٹی ’زندگی تماشا‘ کا دوبارہ جائزہ لے کر اسے ریلیز کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ سنائے گی تاہم تب تک فلم کو سینما گھروں میں ریلیز نہ کیا جائے۔

صوبائی حکومت کے مطابق فلم سے متعلق محکمے کو متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں اور ان شکایات کے پیش نظر ہی فلم کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔

صوبائی حکومت نے فلم ساز کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ ماہ 3 فروری کو صوبائی جائزہ کمیٹی کو ’زندگی تماشا‘ دکھانے کا بندوبست کرے۔

فلم پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں پیش کرنے کے الزامات ہیں—اسکرین شاٹ
فلم پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں پیش کرنے کے الزامات ہیں—اسکرین شاٹ

پنجاب حکومت کی جانب سے فلم کی نمائش روکے جانے کے بعد اب ’زندگی تماشا‘ کو لاہور سمیت پنجاب کے کسی بھی شہر میں ریلیز نہیں کیا جا سکے گا۔

پنجاب کی طرح سندھ حکومت نے بھی ’زندگی تماشا‘ کو ریلیز نہ کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

سندھ فلم سینسر بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلم کے متنازع مواد سے متعلق کئی شکایات موصول ہوئی تھیں اور سینسر بورڈ سمجھتا ہے کہ فلم کا مواد دوسروں کے لیے تنگ دل کا باعث بن سکتا ہے اس لیے فلم کی ٹیم کو تجویز دی جاتی ہے کہ وہ ’زندگی تماشا‘ کو ریلیز نہ کرے۔

ساتھ ہی سندھ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سینسر فلم بورڈ کے دیگر احکامات تک فلم کو سینما گھروں میں ریلیز نہ کیا جائے۔

سندھ اور پنجاب کی جانب سے فلم کی نمائش روکے جانے کے احکامات سے قبل فلم ساز نے بتایا تھا کہ ان کی فلم کو پاکستان کے مرکزی فلم سینسر بورڈ نے کلیئر قرار دے کر نمائش کا سرٹیفکیٹ جاری کر رکھا ہے۔

فلم ساز نے فلم پر لگے الزامات کو مسترد کیا ہے—اسکرین شاٹ
فلم ساز نے فلم پر لگے الزامات کو مسترد کیا ہے—اسکرین شاٹ

’زندگی تماشا‘ پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جب کہ فلم ساز ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ فلم کی کہانی ’ایک اچھے مولوی کے گرد گھومتی ہے اور فلم میں کسی بھی انفرادی شخص، کسی فرقے یا مذہب کی غلط ترجمانی نہیں کی گئی‘۔

سرمد کھوسٹ نے بھی سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ انہیں فلم کی ریلیز روکنے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ دھمکیوں کی وجہ سے فلم کو ریلیز نہ کرے تاہم شوبز شخصیات نے ان کی حمایت کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ وہ ہرحال میں فلم کو ریلیز کرے۔

’زندگی تماشا‘ کو 24 جنوری کو ملک بھر میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

فلم کو 24 جنوری کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کو 24 جنوری کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں