پنجاب میں ہزاروں ایجوکیٹرز کا مستقبل داوَ پر

10

گزشتہ برس ماہ فروری میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے دی نیو ڈیل 2019-2023 کے نام سے ایک نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا تھاجس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم ایسا شعبہ ہے جسے گزشتہ سات دہائیوں سے وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا یہ شعبہ متقاضی ہے ۔ پنجاب کے دو کروڑ 80 لاکھ طلبہ کا مستقبل حکومت کی حکمت عملی سے وابستہ ہے ۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیرانتظام52ہزار سرکاری سکولوں میں ایک کروڑ20لاکھ بچے زیرتعلیم ہیں ۔ ہم ان بچوں کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنا کر انکا مستقبل سنورانا چاہتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی زبان ہی موثر ذریعہ ابلاغ ہوسکتی ہے اسی لئے دی نیو ڈیل کے تحت پرائمری لیول تک قومی زبان اردو میں تعلیم دی جائے گی اور انگریزی کو بطور مضمون پڑھایا جائے گا ۔ مڈل لیول پر سائنس ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ;200;رٹس اورریاضی کے رجحانات متعارف کرائے جائیں گے‘‘ ۔

اس پالیسی پر کتنی پیش رفت ہوئی یا اب تک اس کے کیا نتاءج بر;200;مد ہوئے یہ ایک الگ بحث ہے، تاہم اس عرصہ میں اتنا ضرور ہوا کہ 37ہزار ایجوکیٹرز کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ ان37ہزار ایجوکیٹرز کی بھرتیاں سال2014 اور2016 کے درمیان اس وقت کی صوبائی حکومت کی منظورشدہ ریکروٹمنٹ پالیسی میں درج قواعد و ضوابط اورطریقِ کار کے تحت تحریری ٹیسٹ اور باقاعدہ انٹرویوز کے بعد عمل میں ;200;ئی تھیں لیکن اب موجودہ پنجاب حکومت نے ان کے سروں پر ریگولرائزیشن ایکٹ کی تلوار لٹکا رکھی ہے ۔ چھ سال قبل ان اساتذہ کا تین سالہ کنٹریکٹ پیریڈ تھا جس کے بعد انہیں پالیسی کے مطابق ریگولر کیا جانا تھا ۔ بجائے اس کے کہ ان اساتذہ کو حکومت ریگولر کرتی اچانک ریگولرائزیشن ایکٹ سامنے لے ;200;ئی ہے کہ اب تمام ایجوکیٹرز پی پی ایس سی کے تحت دوبارہ ٹیسٹ انٹرویو کلیئر کریں ۔ یہ ایکٹ اپریل 2018 میں متعارف کرایا گیا جبکہ ایجوکیٹرز 2014 اور اس کے بعد بھرتی ہوئے ۔ متاثرہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس وقت نہ تو پالیسی میں کوئی ایسی شرط تھی نہ ہی کنٹریکٹ لیٹرز پر ایساکچھ لکھا تھا ۔ انکا یہ بھی کہنا ہے ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 شہباز شریف حکومت کے ;200;خری دنوں میں بنا یا گیاتھا جس میں شامل غیر منطقی اور الجھن پیدا کرنے والی شرائط کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شامل کیا گیا ،جسے موجودہ حکومت سمجھنے سے قاصر ہے ۔ یہ بات بڑی منطق کی ہے کہ جب ایک بڑی تعداد میں ایجوکیٹرز اساتذہ این ٹی ایس پاس کر کے 2014 پالیسی کے تحت میرٹ پر بھرتی ہوئے تھے اور پانچ چھ سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں تو پھر نئے سرے سے ppsc کے ٹیسٹ کی شرط سرا سر ظلم اور گڑے مردے اکھاڑنے کے مترادف ہے ۔

یقینا اس امر کا احساس بزدار حکومت کے مشیروں کو بھی ہوگا کہ کسی بھی نئی پالیسی کا اطلاق ہمیشہ مستقل کےلئے ہوتا ہے، پھرنجانے کیوں ان ہزاروں ایجوکیٹرزکونئے ریگولر ائزیشن ایکٹ کی سولی پر چڑھانے کی ٹھان لی گئی ہے ۔ حکومت پہلے ہی کئی ایسے غیر دانشمندانہ فیصلوں اور اقدامات کی وجہ سے مسائل کے گرداب میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے، مزید ’’کٹے‘‘ کھولنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ لہٰذا یہ فیصلہ قطعا ًدانشمندانہ ہے نہ ہی اسکے مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس اقدام کے خلاف پنجاب بھر کے ایجوکیٹرز سراپا احتجاج ہیں ۔ یہ احتجاج ایسے ماحول میں زور پکڑ رہا ہے جب بچوں کے سالانہ امتحانات سر پر ;200;ن کھڑے ہیں ۔ خدانخواستہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی اور اساتذہ کرام کلاس روم کی بجائے اپنے حق کےلئے سڑکوں پر نکلنے کےلئے مجبور رہے تو پھر بچوں کے تعلیمی سال کے ضائع ہونے کا کون ذمہ دار ہو گا ۔ ان اساتذہ کا ایک سادہ سا مسئلہ اور مطالبہ ہے ،جو کوئی مسئلہ فیثا غورث نہیں کہ بزدار انتظامیہ کے پلے نہ پڑ رہا ہو ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایس ایس ای اور اے ای او کو غیر مشروط مستقل کیا جائے کیونکہ ان اساتذہ کو تین سال بعد مستقل کیا جانا تھا جو چھ سال گزرنے کے باوجود نہیں ہو سکے ہیں ۔ اس مسئلے کے حل کےلئے انکے پاس چند تجاویز ہیں کہ موجودہ حکومت شہباز حکومت کے ایکٹ کی جگہ اپنا ریگولرائزیشن ایکٹ 2020ء لے کر ;200;ئے جسکے ذریعے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو یکساں اور بلا تفریق تحفظ فراہم کرتے ہوئے مستقل کیا جائے تاکہ بے یقینی کی اس کیفیت کا خاتمہ ہو ۔ اگر بوجوہ فی الوقت ایسا ممکن نہیں ہے تو ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 کی شق (2) 4 میں ترمیم کے ذریعے ;80808367; سفارشات کی شرط کو ;82;elax کیا جائے جیسا کہ قبل ازیں ریگولرائزیشن ترمیمی ;200;رڈیننس 2019ء میں 4 سال سروس والی شق میں ترمیم کرتے ہوئے اسے 3 سال کر دیا گیا ۔ مزید یہ کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب پوری طرح با اختیار ہیں کہ وہ گریڈ16کی پوسٹ کو پی پی ایس سی کے دائرہ اختیار سے ;87;ithdraw کرتے ہوئے انکی مستقلی کا ایگزیکٹو ;200;رڈر جاری کر دیں ،جیسا کہ قبل ازیں نوٹیفکیشن نمبر ;8379;(;8369;-;737373;)2-16;47;2007(;80;-;86;) مورخہ 7 اگست2015ء کے پیرا(2) میں واضح مثال موجود ہے ۔ ہمارے خیال میں یہ قابل عمل تجاویز ہیں ۔ ان پر غور کیاجانا چاہئے ۔ بلاشبہ کسی بھی محکمہ کے ملازمین حکومت کے دست و بازو ہوتے ہیں انہیں ریلیف فراہم کرنا حکومتِ وقت کی اولین ترجیح ہوتی ہے ۔ یہ کتنی افسوسناک صورتحال ہے کہ ایک ماہ بعدمارچ میں ان اساتذہ میں سے بعض جو 2014 ء میں بھرتی ہوئے تھے کا کنٹریکٹ دورانیہ ختم ہونے کو ہے جسکی وجہ سے ایجوکیٹرز شدید اضطراب کا شکارہیں ۔ وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس اپنی وزارت میں عمدہ کام کر رہے ہیں ۔ وہ کئی مثبت تبدیلیاں لاچکے ہیں ، جس سے اساتذہ کو متعدد مسائل سے نجات ملی ہے ۔ تاہم ایجوکیٹرز کا مسئلہ انکے لئے ایک بڑا امتحان ہے دیکھتے ہیں وہ اس سے کیسے نبرد ;200;زما ہوتے ہیں ۔