پاکستان کی زرعی اور صنعتی معیشت میں پنجاب کی کپاس (وائٹ گولڈ)اور خیبر پختونخوا کا تمباکو (گرین گولڈ)ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دونوں نقدآور فصلیں نہ صرف لاکھوں خاندانوں کا روزگار ہیں، بلکہ ملکی صنعت اور قومی خزانے کے لیے زرمبادلہ اور ٹیکس کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جہاں ایک طرف پنجاب کے کپاس کاشتکاروں اور ٹیکسٹائل مالکان کو حکومت کی طرف سے مسلسل سرپرستی اور سہولیات ملتی ہیں، وہی خیبر پختونخوا کے تمباکو کاشتکاروں اور مقامی چھوٹی سگریٹ ساز کمپنیوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ اگر معاشی اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو تمباکو کی صنعت قومی خزانے کو سب سے زیادہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں میں شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ سیکٹر سالانہ 300 سے 320 ارب روپے تک کا بھاری ٹیکس قومی خزانے میں جمع کراتا ہے۔ اتنے بڑے ریونیو کا ایک بڑا حصہ خیبر پختونخوا کے اضلاع صوابی، مردان، چارسدہ، بونیر، سوات، دیر، باجوڑ، مانسہرہ اور پشاور کے کسانوں کی محنت سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے بدلے میں یہاں کے کسانوں اور مقامی صنعتکاروں کو کیا ملتا ہے؟ تمباکو کے کاشتکاروں کا گلہ ہے کہ ان اضلاع میں، جہاں تمباکو کی پیداوار ہے، وہاں صرف استحصال، بھاری ٹیکس اور خوف کی فضا قائم کی گئی ہے۔پنجاب کے کاٹن سیکٹر کو امدادی قیمت، کھاد و بیج پر سبسڈی اور ریسرچ اداروں کی وسیع سرپرستی حاصل ہے۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کے تمباکو کاشتکاروں کے مطابق انہیں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جو گریڈنگ کے بہانے کسان کی سال بھر کی محنت کو سستے داموں خرید کر ان کا معاشی قتل کرتی ہیں۔ تمباکو کو بھٹیوں میں سکھانے کیلئے گیس اور لکڑی کی قیمتیں اب کسان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔سب سے سنگین صورتحال خیبر پختونخوا کی چھوٹی اور مقامی سگریٹ ساز کمپنیوں کی ہے۔ حکومت کی یکطرفہ اور ظالمانہ ٹیکس پالیسیوں نے ان مقامی کارخانوں کو بند ہونے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ان چھوٹی سگریٹ ساز کمپنیوں پر یکساں ٹیکس نافذ ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سوزوکی مہران اور مرسڈیز کار پر ایک جیسا ٹیکس لگایا جائے۔ اگر یہ برابری کہیں کا انصاف نہیں تو ملٹی نیشنل اور خیبرپختونخوا کی لوکل انڈسٹری پر یکساں ٹیکس کا نفاذ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ چھوٹی سگریٹ ساز کمپنیوں کے مطابق ان کی صنعتوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت رینجرز، آئی بی، اور ایف بی آر سمیت مختلف ادارے براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان پر مختلف النوع الزامات عائد کیے جا رہے ہیں مقامی صنعتکاروں کے مطابق حال یہ ہے کہ ایک طبقے پر الزامات کی بھرمار ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ ایک سال میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تقریبا 300 ارب روپے کا یکطرفہ فائدہ پہنچایا گیا ہے، جس کی وجہ سے مقامی سرمایہ کار خوف کی فضا میں سانس لے رہا ہے اور اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہے۔ایک اندازے کے مطابق اگر مقامی صنعتیں بند ہو گئیں تو اس کے اثرات صرف کارخانوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ صوبے میں سالانہ تقریبا 140 ملین کلوگرام تمباکو کاشت ہوتا ہے، جس میں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں صرف 30 ملین کلوگرام خریدتی ہیں۔ باقی کا 110 ملین کلوگرام تمباکو خریدنے والا مارکیٹ میں کوئی نہیں ہوگا، جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو تمباکو آج 1800 روپے فی کلوگرام بک رہا ہے اسے کوئی 300 روپے میں بھی لینے والا نہیں ہوگا۔ کاشتکاروں کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور منڈی والوں کا کاروبار ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔دوسری طرف، غریب اور مزدور طبقہ سگریٹ کی طلب پوری کرنے کے لیے سمگل شدہ سگریٹ کا سہارا لے گا۔ پاکستان کے 2600 کلومیٹر طویل بارڈر پر سمگلنگ کو کنٹرول کرنا ایف بی آر کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کا حتمی نقصان یہ ہوگا کہ مقامی صنعت ڈوب جائے گی، لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے اور معاشی تباہی کے نتیجے میں ان پسماندہ اضلاع کا غریب طبقہ اور نوجوان مایوس ہو کر جرائم، جنگ و جدل اور بدامنی کی طرف مائل ہوں گے۔ یہ وہ ٹیکنیکل اور سنجیدہ نکات ہیں جن کی گہرائی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم، وزیر خزانہ اور ایف بی آر کے علاوہ مقتدر حلقوں کو خود اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے کہ اس ناانصافی کے پیچھے کون سے ہاتھ اور مفادات کام کر رہے ہیں۔ اگر نیت صاف ہو تو مختصر دورانیے میں اس کی تہہ تک پہنچ کر ناانصافی کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔5 جون 2026 کو وفاقی حکومت اپنا سالانہ بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ یہ بجٹ جہاں حکومت کے لیے معاشی اہداف طے کرنے کا موقع ہے، وہی خیبر پختونخوا کے احساسِ محرومی کو دور کرنے کا آخری موقع بھی ہے۔ ہم ان سطور کے ذریعے وفاقی حکومت اور وزیرِ خزانہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آنے والے بجٹ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں اور چھوٹے مقامی سگریٹ ساز اداروں کے لیے ٹیکس کا الگ، منصفانہ اور درجہ بندی پر مبنی نظام وضع کیا جائے اور ان پر سے ٹیکس کا اضافی بوجھ کم کیا جائے۔ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور دیگر ریگولیشنز کے نام پر مقامی صنعت کاروں کی ہراسگی فوری بند کی جائے، چھاپوں اور بلاجواز سیکیورٹی نافذ کرنے کا سلسلہ روکا جائے اور ان کے اعتماد کو بحال کر کے کاروبار کے لیے سازگار ماحول دیا جائے۔ جس طرز پر پنجاب میں کاٹن انڈسٹری اور کسانوں کو مراعات اور ریلیف پیکجز دیے جاتے ہیں، اسی طرز پر کے پی کے تمباکو کاشتکاروں کو سستی توانائی (گیس اور بجلی)، جائز قیمت اور صنعتی تحفظ فراہم کیا جائے۔اگر حکومت نے اس بجٹ میں بھی کے پی کے اس "گرین گولڈ” اور اس سے وابستہ مقامی صنعت کو ریلیف نہ دیا، تو نہ صرف صوبے میں بے روزگاری اور بدامنی کا ایک نیا طوفان آئے گا بلکہ خود حکومت کو ملنے والا 320 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو بھی ڈوب جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمباکو انڈسٹری کو محض ‘دودھاری گائے’ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک اہم قومی اثاثہ مان کر تحفظ دیا جائے۔
پنجاب کا وائٹ گولڈ اور خیبرپختونخوا کا گرین گولڈ

