پوری قوم کو اپنی افواج پر ناز ہے

33

کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی بے گناہ شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں ۔ ان کے علاوہ ایک تعداد پاک فوج کے جوانوں اور افسران پر مشتمل ہے جو دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ جس پر پوری قوم کو فخر اور اپنی افواج پر ناز ہے ۔ آج شکر ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے پاک اور ملکی سرحدیں محفوظ ہیں ۔ یہ ان شہداء کی لازوال قربانیوں کا ثمر ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم اور ملک کو محفوظ اور دفاع کو مستحکم بنایا ۔ اگر پڑوسی ملک بھارت کو دیکھیں تو وہاں نہ حکومت نظر آتی ہے نہ بھارت کا آئین نظر آتا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نے ہندوتوا اور آر ایس ایس کے نظریہ کو فروغ دینے کی خاطر اپنے ملک کی اندرونی سیکورٹی کو بھی داءو پر لگا دیا ۔ شہریت قانون کے نام پر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر وہاں کی سر زمین تنگ کر دی ہے ۔ ایک کروڑ کشمیریوں کو محصور کیا گیا ہے ۔ گزشتہ چھ ماہ سے مقبوضہ وادی کو کھلی جیل میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ ہر روز بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے جہاں ان پر بے پناہ تشدد کیا جاتا ہے اور نا کردہ جرم میں قید کر دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جس میں نہتے کشمیریوں کو شہید نا کیا جاتا ہو،کشمیری خواتین کی عزتوں کو پامال نہ کیا جاتا ہو ۔ لیکن بے شرمی کی انتہاء دیکھیں کہ اس تمام صورت حال میں بھارتی حکمران اور فوجی جنرل پاکستان کو آئے روز دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ۔ یہ بد حواسی کی انتہا ہے یا بے شرمی کی ۔ اپنے ملک کے شہریوں کو آئینی حقوق اور شہریت سے محروم کرنے والے اور مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم باشندوں سے خوفزدہ بھارتی حکمران اور فوجی قیادت بجائے شرمسار ہونے کے پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان ان کی گیڈر بھبکیوں سے نہ پہلے ڈرا ہے اور نہ ہی اب ڈرنے والا ہے ۔ بلکہ حسب روایت بھارت کو ہی منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ پاکستان کوئی تر نوالہ نہیں ہے ۔ پاکستان کا دفاع بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ دنیا نے کشمیر کے معاملہ پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے ۔ پاکستان نے متعدد بار بین الاقوامی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے اور کر رہا ہے ۔ لیکن جاگتے سوئے کو کون جگا سکتا ہے ۔ بھارت اپنے آئین کے مطابق غیر ہندو شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کر سکتا نہ ہی ان کو ایسا کرنا چاہیئے ۔ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے بھارتی شہریوں کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں ۔ کشمیریوں کو ان کا جائز حق ضرور ملنا چاہیئے ۔ صدر ٹرمپ اس معاملے پر بھارتی قیادت سے بات چیت کریں گے،علم الاعداد کے مطابق بھارتی حکومت کو صدر ٹرمپ سے وابستہ امیدیں پوری نہیں ہوں گی اور بھارتی وزیراعظم مودی کو مایوسی ہوگی ۔ افغانستان میں امریکہ اور طالبان امن سمجھوتہ بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ بھارت پوری کوشش کرے گا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوں ۔ لیکن بھارت کو اس میں بھی ناکامی کا سامنا ہوگا ۔ امریکہ بھی یہ جانتا ہے کہ بھارت اپنے مفادات کی خاطر افغانستان میں امن نہیں چاہتا ۔ دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ ہر قیمت پر افغانستان سے امریکی فوجیوں کو نکالنا چاہتا ہے ۔ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی تکمیل کی صورت میں صدر ٹرمپ کو انتخابات میں کامیابی کی امید ہے ۔ اس لئے بھی امریکہ اور بھارت کے درمیان فی الحال تعلقات میں بہتری ممکن نظر نہیں آتی ۔ امریکہ طالبان امن معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد کرتے ہیں تو امریکہ تو افغانستان سے نکلنے میں کامیاب ہو جائےگا اور اس معاہدے میں اہم کردار پاکستان کا ہے ۔ لیکن بعد کی صورت حال کی کوئی بھی ذمہ داری نہیں لے سکتا ۔ افغانستان کے مختلف دھڑوں میں بھارت دخل اندازی ضرور کرے گا اور اقتدار کے معاملے پر گڑبڑ ہو سکتی ہے ۔ جس میں بھارت کے ہاتھ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہے اور افغانی پھر اندرونی لڑائیوں اور خانہ جنگی کی طرف جاتے ہیں تو افغانستان تو متاثر ہو گا ہی لیکن اس بدامنی کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے اور بھارت یہی چاہتا ہے ۔ اس لیئے پاکستان کو ایسی صورتحال کےلئے تیار رہنا چاہییے ۔ اگر ایک بار پھر افغانستان بدامنی کا شکار ہو جاتا ہے اور خدا نہ کرے کہ ایسا ہو تو اس بار پہلے سے زیادہ جانی نقصان کا اندیشہ ہوگا ۔ بھارت میں حالات مزید خراب ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ جس میں خاص طور پر مسلمانوں کے جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ ہے ۔ حالات کے مزید ابتر ہونے کی صورت میں مودی سرکار دنیا کی توجہ ہٹانے کےلئے کوئی ڈرامہ بازی کر کے پاکستان کےخلاف کوئی احمقانہ کاروائی کر سکتی ہے ۔ اگرچہ اس میں بھارتی حکمرانوں کا ہی منہ کالا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں

شہادت اور ہلاکت میں امتیاز