Home » کالم » پھر طلاق
Asif-Mehmood

پھر طلاق

Asif-Mehmood

جمائما بھابھی کے بعدعمران خان نے ریحام کو بھی طلاق دے دی ہے۔کل تک جنابِ عارف نظامی کی باجماعت مذمت کے ساتھ اس خبر کی تردیدکرنے والے احباب اب یہ خبر خود سنا رہے ہیں ۔ایک وعظ بھی خبر کے ہمراہ ہے:”معاملے کی سنجیدگی اور نزاکت کے پیشِ نظر میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے“۔یہ احساس گویا واعظ کو بھی ہے کہ طلاق کے اعلان کے باوجود کچھ ایسے پہلو ابھی باقی ہیں جہاں قیاس آرائیوں کا امکان موجود ہے۔رشتے ٹوٹ جائیں تو دکھ ہوتا ہے۔اخلاقیات اور وضع داری کا تقاضا بھی ہے کہ ایسے نازک مواقع پر کلمہِ خیر نہ کہا جا سکے تو خاموش رہا جائے۔مجھے یہ بھی کامل احسا س ہے کہ کسی کے نجی معاملات کو کوچہ و بازار کا موضوع نہیں بننا چاہیے۔لیکن عمران خان کا معاملہ اور ہے۔وہ ایک متبادل قیادت ہیں اور لاکھوں نوجوان ان سے غلو کی حد تک عقیدت رکھتے ہیں۔ان کے شب و روز کو محض ذاتی زندگی کا غلاف اوڑھا کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔چند سوالات بہت اہم ہیں۔
زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے کے بعد ، کہا جاتا ہے کہ، آدمی کے مزاج میں ٹھہراﺅ آ جاتا ہے اور وہ دل کی بجائے اپنے معاملات عقل کے سپرد کر دیتا ہے اوراس کے من کی دنیا میں تفکر و تدبر کے پہلو غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔عمران خان باسٹھ سال کے ایک بزرگ ہیں۔زندگی کی ساٹھ سے زیادہ بہاریں دیکھنے کے بعد وہ دوسری شادی کرتے ہیں اور وہ چند ماہ نہیں چل پاتی تو یہ محض ذاتی معاملہ نہیں رہتا ۔(ویسے بھی یہ انوکھی قسم کا ’ ذاتی مسئلہ‘ ہے جس کا اعلان پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات کر رہا ہے۔تحریک انصاف کے دستور میں کہاں لکھا ہے کہ پارٹی کا عہدیدار ذاتی قسم کی خدمات بھی بجا لائے گا، اور نکاح و طلاق کی خبریں بھی دیا کرے گا۔کیا نئے پاکستان کی لغت میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کو ’ منیم جی‘ کہا جاے گا؟پرانے پاکستان کے دیہاتوں میں تو نکاح و طلاق کی خبروں کے ابلاغ پر مامور لوگوں کو کچھ اور کہا جاتا ہے۔)اس کے ہمراہ کچھ سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔یہ عمران خان کی پہلی شادی بھی نہ تھی۔ایک شادی ان کی جمائما بھابھی کے ساتھ ناکام ہو چکی ہے۔اس شادی اور طلاق سے حاصل ہونے والا تجربہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔دوسری شادی کرتے وقت ان کے پیشِ نظر ہو گا کہ پہلی شادی کیوں ناکام ہوئی اور کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے انہیں کیسا رفیقِ حیات چاہیے۔۔۔۔۔اس کے با وجود یہ شادی چند ماہ ہی میں ناکام ہو جاتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کے فیصلوں میں فہم و تدبر کا کتنا عمل دخل ہے اور کمزور لمحات کے زیرِ اثر جذباتی فیصلے کرنے کا رجحان کس حد تک غالب ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے کیونکہ کل عمران خان اقتدار میں آ گئے تو وہ پوری قوم کی قسمت کے فیصلے کر رہے ہوں گے۔ایک عام آدمی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص اپنی ذاتی زندگی کے فیصلے اس طرح کرتا ہے کیا وہ اس قابل ہے کہ اسے قوم کی اجتماعی زندگی میں فیصلہ سازی کا منصب سونپ دیا جائے؟ اور اگر سونپ دیا جائے تو اس کا انجام کیا ہو گا؟
خوب یاد ہے،دھرنے کے دنوں میں کنٹینر پر عمران خان پوری تمکنت اور احساسِ تفاخر کے ساتھ ہاتھ فضا میں بلند کرکے کہتے:” لیڈر“۔۔۔۔۔۔ اورمجمع بے اختیار پکار اٹھتا: ” کبھی جھوٹ نہیں بولتا“۔ لیڈر بزدل نہیں ہوتا۔لیڈر سچ بولتا ہے۔لیڈر جھوٹ نہیں بولتا۔یہ وہ سبق تھا جو روز کنٹینر سے دہرایا جاتا تھا۔لیکن ہوا کیا؟عارف نظامی نے شادی کی خبر دی تو لیڈر نے مان کر نہ دیا۔اور طلاق کی خبر سنائی تو اسے بھی رد کر دیا گیا۔تحریکِ انصاف نے دونوں خبروں کی تردید کی اور دونوں خبریں سچ ثابت ہوئیں۔اب سوال یہ ہے کہ لیڈر کا یہ دعوی کس حد تک درست ہے کہ وہ سچ بولتا ہے؟طلاق کی خبروں کی اہتمام کے ساتھ نفی کی گئی ،کیونکہ لاہور کا انتخابی معرکہ سر پر تھا، گھر میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک کی گئی، قربانی کے جانور کے ساتھ تصویر بھی جاری کی گئی کہ دیکھیں یہ خبر جھوٹ ہے، ہم ایک ہیں۔اب اگر لیڈر واقعی سچ بولتا ہے تو اسے بتانا چاہیے کہ نکاح اصل میں کب ہوا تھا؟ کن حالات میں ہوا تھا؟ اور طلاق کب ہوئی؟ کیا شادی کے بعد کچھ ایسا ہوا کہ معاملات طلاق تک پہنچے یا اس شادی کا انجام طلاق ہی تھا؟بہت سے سخن ہائے گفتنی ہیں جو شخصی احترام میں ناگفتہ چھوڑ رہا ہوں۔تاہم ان سوالات کا جواب دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ نکاح سے طلاق تک آپ کی ہر تردید غلط ثابت ہوئی اور سینہ گزٹ درست ثابت ہوا۔سینہ گزٹ کے دراز ہوتے سلسلے کو روکنے کے لیے ایک ’ سچ‘ کی ضرورت ہے۔کیا وہ سامنے آ پائے گا؟
طلاق ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔طلاق کے بعد ریحام ،برادرم مبین رشید کے میڈیاپروگرام میں لندن پہنچتی ہیںجہاںمبین انہیں خوش آ مدید کہتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ میں کہیں حزن و ملال نہیں،ایک فاتحانہ مسکراہٹ اور تمکنت ہے جیسے زبانِ حال سے وہ اب بھی کسی کو چیلنج دے رہی ہوں کہ وہ تر نوالہ نہیں ایک فائٹر ہیں ۔جمائما بھابھی کا عمران سے رشتہ ٹوٹا تو کچھ کھو جانے کا احساس برسوں ان کے ساتھ پھرتا رہا۔ریحام کے ساتھ تو فتح کا احساس ہے۔معلوم نہیں ایسا کیوں ہے؟نعیم الحق بتائیں گے یا چودھری غلام حسین اور عارف نظامی صاحب سے پوچھنا پڑے گا؟
عمران ایک عام آدمی نہیں۔مقبول ترین رہنما ہیں۔ایسے آدمی کی دوسری شادی ناکام ہو جائے تو ان کی شخصیت کا توازن سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔اور قیادت کے منصب پر فائز آدمی کے لیے توازن بہت ضروری ہوتا ہے۔لیڈر توازن قائم نہ رکھ سکتا ہو تو اس کی پالیسیاں قوم کو کسی بھی حادثے سے دوچار کر سکتی ہیں۔دھرنے کے دنوں میں بھی عمران خان کی شخصیت کا عدم توازن زیرِ بحث آتا رہا۔اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے یہ عدم توازن نمایاں ہوتا جا رہاہے۔آپ کسی وقت عمران خان کی دھرنے کے دنوں کی تقاریر اکٹھی کریں اور ان کے دعووں کو لکھنا شروع کردیں۔دس منٹ کے بعد آپ دیوار سے ٹکریں مار رہے ہوں گے۔آج اہم اعلان کروں گا، کل اہم ترین اعلان کروں گا، پرسوں ایسا اعلان کروں گا کہ حکومت ہل جائے گی، دو بجے آ جاﺅ، آٹھ بجے جشن ہو گا۔۔۔۔اتنا شورو غوغا اور آ خر میں شانِ بے نیازی سے کہ دیا : پینتیش پنکچر والی بات تو محض ایک سیاسی بیان تھا۔افتخار چودھری کے خلاف روز محاذ سجایا،سپریم کورٹ نے طلب کیا تو معذرت کر لی، باہر آ کر پھر وہی الزام، یہاں تک کہ جوڈیشل کمیشن بن گیا، وہاں پیش تو ہوئے مگر افتخار چودھری کے خلاف ایک ثبوت نہ دے سکے۔یہ سب کیا تھا؟افتادِ طبع؟
عمران خان کے بارے میں یہ تاثر راسخ ہو چکا ہے کہ وہ رشتوں یا انسانی قدروں کو کوئی بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔وہ یہ سمجھتے ہیں دنیا کا محور صرف ان کی ذات ہے۔سب لوگ اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ ان سے محبت کریں ، ضروری نہیں کہ وہ بھی کسی سے محبت کریں۔اسی نرگسیت کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے ایک کالم لکھا تھا:” عمران خان ۔۔۔ایک نفسیاتی مطالعہ“۔اس پر میرے ایک فاضل دوست نے گرہ لگائی تھی:” غیر متوازن کالم ۔۔دلیل اور توازن دونوں ہی سے ہاتھ دھو لیے گئے“۔وہ چاہیں تو اس کالم کو ایک بار پھر پڑھ لیں۔اب کی بار انہیں شاید وہ اتنا غیر متوازن نہ لگے۔

About Admin

Google Analytics Alternative