آج کل غزہ مےں قےامت برپا ہے ۔ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنا دئےے گئے ہےں ۔معصوم بچوں ،عورتوں اور مردوں کے ہر طرف کرب و اذےت کے لرزا دےنے والے مناظر ہےں جن کو دےکھ کر کےا اپنے ،بےگانے ممالک مےں بھی اس ظلم کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہےں ۔اےسا دکھائی دے رہا ہے کہ اسرائےل ہر صوت فلسطےنےوں کو غزہ سے مکمل طور پر نکالنے پر کمر بستہ ہے ۔اوآئی سی کا اجلاس بھی نتےجہ خےز اور اثرات مرتب کرنے سے محروم رہا ۔آج اسی پر سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے کہ 57اسلامی تعاون تنظےم کے رکن ممالک کا بحث و تکرار نتےجہ سے محروم کےوں رہی ۔سمجھنے کی ےہی ضرورت ہے جو اقبال ؒ فرما گئے ہےں کہ
ہو صداقت کےلئے جس دل مےں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پےکر خاکی مےں جاں پےدا کرے
اگر ہم دنےا مےں صداقت کے علمبردار بننا چاہتے ہےں تو سب سے پہلے ہمےں اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہو گا ۔ےہ مضبوطی مادی بھی ہے اور اخلاقی ےا روحانی بھی ۔بد قسمتی ےہی ہے کہ ہم ان دونوں پہلوﺅں سے نہاےت کمزور ہےں ۔آج بےن الاقوامی سطح پر بھی عالم اسلام کو مسلسل رسوائےوں کا سامنا ہے ۔جنگوں مےں فتح و شکست کا انحصار جہاں قومی وحدت اور افرادی قوت پر ہوتا ہے وہاں آلات حرب کی نوعےت بھی اہم کردار ادا ادا کرتی ہے ۔غلےل اور بندوق کا تو کوئی جوڑ نہےں ،ٹےنک اور تلوار مےں دہائےوں کا فرق ہے ،منجنےق اور توپ مےں کوئی مےل نہےں ۔گھوڑے اور جہاز کا کوئی ساتھ نہےں ۔دراصل آج عالم اسلام وسائل پر تصرف ہونے کے باوجود معاشی ،تعلےمی ،سائنسی اور عسکری لحاظ سے کمزور ہے اور ان کمزورےوں کی طرف توجہ دےنا ہی تقاضائے وقت ہے ۔مسلسل شکست کو خوابوں اور بددعاﺅں سے فتح مےں بدلنا ممکن نہےں ،بددعاﺅں سے حرےف مرتے نہےں ۔کمزور کے ہاں سوائے کمزوری کے کوئی چےز آہنی نہےں ہوتی ۔کمزور کا غصہ ہمےشہ ندامت اور اس کی غےرت خجالت پر ختم ہوتی ہے ۔مستقبل کے معاملات اے سی ،پجارو اور محلات کے متقاضی نہےں بلکہ لےبارٹرےوں کے قےام اور تعلےمی و سائنسی مےدانوں مےں ترقی کی ڈےمانڈ کرتے ہےں ۔اےک طرف ہم کہتے ہےں کہ مغرب کی بنائی ہوئی چےزوں کا بائےکاٹ کےوں نہےں کےا جاتا ،اگر ہم اےسا کرےں تو وہ لوگ ہمارے گھٹنوں پر گر پڑےں ۔ہم ےہ بھی نہےں سوچتے کہ ہم بناتے کےا ہےں جو دوسروں کا بائےکاٹ کر سکےں ۔کتنی دوائےاں ہےں جو ہماری اپنی کمپنےاں خود سے بناتی ہےں اور ان کا خام مال باہر سے نہےں آتا ۔دراصل بائےکاٹ مےں پناہ ڈھونڈنی بے عمل لوگوں کا فعل ہے ۔اسرائےل اےسی کوئی چےز نہےں بناتا جو عام عوام استعمال کرتے ہوں ۔لہذا ان کھانے پےنے ےا عام استعمال کی چےزوں کا بائےکاٹ کرنے سے اسے کوئی نقصان نہےں ہو گا ۔ماضی قرےب کے حوالہ سے نہاں خانہ ذہن مےں اےک مسلمان توفےق مسلوی کا نام ابھر کر سامنے آ رہا ہے ۔اس کے ہاتھ کلاشنکوف سے بے نےاز تھے ،کوئی بم نہےں بندھا ،نہ اس نے کوئی جہادی تنظےم بنائی ،نہ اس نے امرےکہ کو للکارا لےکن اس نے امرےکی سرماےہ کاری کے اےک اہم ستون کو ہلا کر رکھ دےا ۔ےہ تےونس مےں پےدا ہوا ۔1977ءمےں اکےس برس کی عمر مےں تےونس کو خےر باد کہہ کر فرانس چلا گےا ،محنت کا ثمر ملا ،آسودہ حال ہوا ۔اس نے مسلمانوں کا نکتہ نظر پھےلانے کےلئے اےک رےڈےو سٹےشن قائم کےا ۔ امرےکہ کی اسرائےل نواز پالےسےوں کے رد عمل پر عربوں نے امرےکی مصنوعات کا بائےکاٹ کےا تو اس بائےکاٹ کی سب سے زےادہ زد اےک مشہور امرےکی مشروب پر پڑی ۔توفےق مسلوی نے اےک دن اپنے دس سالہ بےٹے کو جو ےہ مشروب پےنے کا رسےا تھا امرےکی مشروب پےنے سے منع کےا ۔بےٹے نے کہا کہ ابو مےں آپ کی بات مان لےتا ہوں ،نہےں پےوں گا ،مجھے آپ اس کا نعم البدل بھی تو دےں ۔ےہ فقرہ توفےق مسلوی کے ذہن مےں پےوست ہو گےا ۔اس نے فرانس کے ماہرےن خوراک سے مل کر اےسا فارمولہ اےجاد کےا جو مغربی مشروب کے مقابلے کا تھا ۔اس نے فرانس کے مسلم علاقوں مےں چھوٹی چھوٹی دکانوں سے کام کی ابتداءکی ۔چند ماہ بعد ہی اس کا مشروب برطانےہ ،جرمنی ،بےلجئےم ،اٹلی اور ہسپانےہ کو درآمد کےا جانے لگا ۔توفےق مسلوی اپنے منافع کا دس فےصد ان خےراتی اداروں کو بطور عطےہ دےتا ہے جو فلسطےن مےں سر گرم کار ہےں ۔منافع کا دس فےصد ان اےن جی اوز کو بھی دے رہا ہے جو ےورپ مےں انسانی فلاح و بہبود کےلئے کام کر رہے ہےں ۔جب اس کی توجہ امرےکی رد عمل کی طرف دلائی گئی تو اس نے مختصر ساجواب دےا کہ جو لوگ تشدد کا راستہ اختےار کرتے ہےں ،مےں تشدد کے خلاف ہوں ۔اصل بات ےہ نہےں کہ توفےق مسلوی نے زبردست کامےابی حاصل کی ،اصل بات ےہ ہے کہ اس کامےابی مےں تشدد کا کوئی حصہ نہےں ہے ۔اس نے دنےا کے سامنے علامہ اقبال ؒکے اس شعر کی عملی تفسےر پےش کر دی ۔
ہو صداقت کےلئے جس دل مےں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پےکر خاکی مےں جاں پےدا کرے
معزز قارئےن اگر تارےخی حوالے سے مسلم امہ کی موجودہ زبوں حالی کا جائزہ لےا جائے تو معلوم ہو گا کہ جنگ عظےم اول اور دوم کے بعد برطانوی سلطنت کے خاتمے پر مسلم ممالک مےں بادشاہت قائم ہوئی ےا فوجی آمرےت ۔جمہورےت کا راستہ مسدود کر دےا گےا ۔برطانوی استعمار نے ان ممالک کا خزانہ چند خاندانوں کی عےش و عشرت کےلئے وقف کر دےا ، وہاں سے اقتدار پر قابض شاہی خاندان امےر سے امےر تر ہو گئے اور ان کی زندگی عےش و عشرت کی دلدادہ ۔ان ممالک مےں تمام پراجےکٹس پر کام کرنے والی کمپنےاں مغرب کی تھےں ۔ان ممالک نے دولت کے بل بوتے پر اپنا دفاعی انحصار بھی مغرب پر کےا جن کے باعث ان کی انفرادی ترقی کی خواہش مفلوج اور تمام صلاحےتےں زنگ آلود ہو گئےں اور خود انحصاری کے جذبے کا مکمل خاتمہ ہو کر رہ گےا ۔اسلامی ممالک مےں دولت کی فراوانی اور قدرتی وسائل و ذرائع ہونے کے باوجود ٹےکنالوجی کی پسماندگی کے سبب مغربی ممالک خصوصاً امرےکہ کی ذےلی رےاستےں بن چکی ہےں ۔ ےہ بھی اےک عالمگےر سچائی ہے کہ جن ممالک مےں جمہورےت اور عدل و انصاف قائم نہ ہو وہ اقوام مظلومےت سے نجات حاصل کرنے سے ےکسر عاجز رہتی ہےں ۔افغانستان پر حملہ ہوا ،عراق کو نشانہ ستم بناےا گےا ۔دنےا مےں اس وقت 70مسلم ممالک ان حملوں کو روکنے کی سکت رکھتے تھے ؟ےا انہوں نے اس کےلئے ذرا سی بھی کوشش کی ،بالکل نہےں ۔ےہ ہماری بد قسمتی ہے کہ جو دےن بار بار تفکر اور تسخےر کائنات کی تاکےد کرتا ہے ،وہاں سائنس اور ٹےکنالوجی کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔ہم صرف اعلیٰ ٹےکنالوجی کے لفظ سے آشنائی رکھتے ہےں لےکن ہمارے ہاں بنےادی سائنس مےں رےسرچ نام کی شے کا وجود ہی نہےں ۔ہمےں ٹےکنالوجی کے شعبے مےں جہد مسلسل کی شکل مےں کئی سال تک اجتماعی بنےادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ،تب ہی ہم اکےسوےں صدی کی ٹےکنالوجی کو فروغ دےنے کے قابل ہو سکتے ہےں ۔آج کی دنےا مےں اقوام سائنس اور ٹےکنالوجی پر دسترس حاصل کئے بغےر نہ تو اپنی آزادی کا تحفظ کر سکتے ہےں اور نہ ہی حقےقی معنوں مےں ترقی ۔ٹےکنالوجی کو کو بروئے کار لانے والے بالا تر و بالا دست ہےں جبکہ دوسرے بے وقعت ،غرےب اور مفلوک الحال ۔ہم معاشی اور عسکری لحاظ سے کمزور ہےں ،دوسرے اگر کوئی قوم صحےح اخلاق و کردار کی حامل اور فہم و فراست رکھتی ہے تو تب ہی وہ دنےا پر حکومت کرتی ہے ۔معاشی اور عسکری لحاظ سے کمزور قومےں بالآخر زےر ہو جاتی ہےں ۔ےہ اےک مسلمہ اصول ہے کہ جب اجتماعی خطرات کا سامنا ہو تو مقابلہ صرف اجتماعی طور پر کےا جا سکتا ہے اور وہی قومےں بحرانوں پر قابو پانے مےں کامےاب ہوتی ہےں جن کے ارباب اختےار اپنے تمام اختلافات بھلاکر اےک پلےٹ فارم پر جمع ہوں اور مستقبل کےلئے لائحہ عمل مرتب کر کے اس پر عمل کو ےقےنی بنائےں ۔
پہلے اپنے پےکر خاکی مےں جاں پےدا کرے

