Home » کالم » پہلے سال چٹی، دوجے سال ہٹی ، تیجے سال کھٹی

پہلے سال چٹی، دوجے سال ہٹی ، تیجے سال کھٹی

بھولا کافی دنوں بعد ملنے آیا تھا اور اس کے چہرے پر معمول کی رونق نہیں تھی وہ کچھ مرجھایا ہوا ساتھا میں نے پوچھا بھولے کیا بات ہے تو کوئی جواب دئیے بغیر اس نے مجھ پر سوال کر دیا کہ آپ نے بزرگوں کی کہی ہوئی وہ مثال تو سن رکھی ہوگی ۔ میں نے کہا کونسی تو وہ گویا ہواکہ پہلے سال چٹی، دوجے سال ہٹی،تیجے سال کھٹی ۔ میں نے کہا ہاں یہ توبڑی مشہور مثال ہے پر تم مجھے کیوں سنا رہے ہو بھولا پھٹ پڑا اور کہنے لگا کہ تحریک انصاف نے کرپشن اور چوروں ، ڈاکووءوں کے خلاف نعرہ لگایا جس پر لوگوں نے اسے ووٹ دئیے ۔ اس امید پر کہ وہ حکومت میں آکر کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کےلئے کام کریں گے اور ملک میں خوشحالی آئے گی اور غریب کی حالت بہتر ہو گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ غریب کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہورہا ہے ۔ ضروریات زندگی مہنگائی کے عروج پر ہیں ۔ بھولا روانی سے کہتا چلا جارہا تھا آٹا دال سے لے کر بجلی، تیل اور گیس سب مہنگے ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے اور نہ جانے کہاں اور کب ختم ہو گا ۔ میں نے کہا مگر یہ مثال تم نے مجھے کیوں سنائی میں نے ذرا سخت لہجے میں بھولے کو کہا اس مثال کا حکومت کے ساتھ کیا تعلق واسطہ ہے تو اس نے جواب دیا کہ حکومت کے پہلے سال کو ہم چٹی سمجھ لیتے ہیں کہ حکومت نئی نئی آئی تھی اور ملک بھی مختلف بحرانوں کا شکار تھا تو ہم نے صبر کیا کہ چلواس سال امور حکومت ارباب اقتدارکو سمجھ میں آگئے ہوں گے ۔ اب دوسرے سال کو بھی شروع ہوئے چوتھا مہینہ ہے مگر حالات جوں کے توں ہیں اور بظاہر بھی حالات میں بہتری ہوتی نظر نہیں آتی ۔ حکومت نے اصلاح احوال کے لیے کئی نئے وزراء مقر ر کئے ، مشیروں کا تقرر عمل میں لایا گیا کئی اعلیٰ عہدیداروں کی تقرریاں کی گئیں اور ٹیکس بھی وصول کئے جارہے ہیں اور ملکی خزانے میں دیگر ذراءع سے ہونے والی آمدنی سے بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ دوسرے سال کے دوران عوام کو قیمتوں میں کمی، روزگار کے مواقع اور بہتر حالات کی نوید سنائے جس کی عوام توقع کررہے ہیں ۔ بھولا کہتا چلاگیا کہ اب عوام کو کچھ ریلیف ملنا چاہیے تاکہ عوام کی بے چینی اور اضطراب میں کمی آئے یہ نہ ہو کہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی نظر آئیں ۔ حکومت کو چاہیے کے مہنگائی پر کنٹرول کرے اور اپنے وعدوں کے مطابق بیروزگاری کم کرے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی دانست میں ایک اچھی حکومتی ٹیم بنائی مگر یہ ٹیم بھی ڈلیور نہ کرسکی ۔ پارلیمنٹ کے باہر کچھ ماہرین بھی حکومت کا کچھ حصہ بنائے گئے، مگر حالات میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی ۔ مزے کی بات یہ ہے تاجر بھی حکومتی پالیسیوں سے ناخوش ہیں اور خریدار بھی اور یہاں تک کہ تاجروں کو منانے کے لیے آرمی چیف کو کردار ادا کرنا پڑا ۔ امیدپر دنیا قائم ہے کہ مصداق عوام امید کر رہے ہیں کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کی کوششیں کرے گی اور آٹا، دال، چاول، بجلی،گیس اور پٹرول کے علاوہ دوسری روزمرہ استعمال کی قیمتوں پر کنٹرول کرے گی اور اپنے اقتدار کے دوسرے سال میں عوام کے سامنے سرخرو ہوگی ۔ جہاں تک تیسرے سال کا تعلق ہے تو یہ بہرحال عوامی امنگوں کے مطابق خوشحالی کا سال ہونا چاہیے اور عوام پر امید ہیں کہ حکومت انکی توقعات پر پورا اترے گی ۔ بھولا آج بڑے جذبات میں تھا گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے پر بولنے لگا اس میں بھی وہ حکومت کو ذمہ دار سمجھتا ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ابتداء میں ہی مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کے ذریعے معاملات سیاسی طور پر حل کر لیتی تو دھرنے کی نوبت ہی نہ آتی ۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ کسی کی بھی طرف سے اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا توہم انہیں کنٹینر بھی فراہم کریں گے اور کھانا بھی کھلائیں گے اسپیکر نے یہ الفاظ کارروائی سے حذف نہیں کرائے تھے اور ریکارڈ پر موجود ہیں ۔ بھولا جذباتی ہوکر کہنے لگا حکومتی وزراء مولانا کے دھرنے پر طرح طرح کے بیانات دے رہے ہیں اور بعض تو دھمکی آمیز بھی ہیں جو کسی طرح قابل ستائش نہیں کہ طویل دھرنوں کا آغاز خود تحریک انصاف نے ہی کیا تھا تو اب اس پر اعتراض کیسا ۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ مولانا کو خود مذاکرات کی پیشکش کریں اور کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ یہ بجا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت پاکستان دشمنی میں کوئی موقع ضائع نہیں کرتا اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرکے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے تو ہ میں آپس کے اختلافات کو تج کرکے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی ذی وقار اور محترم شخصیت کے ذریعے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرائیں اور ان سے مصالحت کی کوشش کریں جو وقت کا تقاضا ہے ۔ دریں اثناء حکومت صرف مولانا فضل الرحمن ہی سے نہیں ، حزب اختلاف کے دوسرے سیاسی رہنماءوں کو بھی اعتماد میں لے ۔ نفرت جرم سے کریں ،انسان سے نہیں ، اگر بعض سیاستدانوں پر مقدمات چل رہے ہیں تو چلنے دیں عدالتیں جانیں اور وہ! آپ ان کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کریں اور دنیا کو دکھا دیں کہ پوری قوم کشمیر سمیت ہر قومی مسئلہ پر متحد ہے اور یہ اتحاد پاکستان دشمنوں کی موت ہے ۔ مخالف سیاستدانوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو قومی معاملات کو عالمی سطح پر دیکھنے اور اس سے استفادہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ یہ بجا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور اگر اس میں مخالف سیاستدانوں کو بھی شامل کر لیاجائے تو یہ یقینا ملکی وقومی مفاد میں ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative