پیپلزپارٹی کے پچاس سال اور جئے بھٹو

21

ذوالفقار علی بھٹو کی تشکیل شدہ پاکستان پیپلز پارٹی پورے پچاس سال کی ہوگئی ہے ان پچاس سالوں میں اس کے حصے میں پانچ بار اقتدار آیا اور اقتدار کے ان دنوں کو جہاں اس کی پارٹی نے انجوائے کیا اس کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے چکر بھی کاٹے، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم کے منہ بولے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو نے جب معاہدہ تاشقند پر وزارت خارجہ سے استعفیٰ دیکر عوا میں آنے کا فیصلہ کیا تو ایک ماہر طبیب کی طرح انہوں نے عوامی مزاج کو سمجھنے کیلئے راولپنڈی سے لاڑکانہ براستہ ٹرین جانے کا فیصلہ کیا اس سفر نے ان کیلئے ایک نئی راہ متعین کی جس پر آگے چل کر وہ وزارت عظمیٰ اور صدارت کے منصب پر سریر آراء ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قائم شدہ پیپلزپارٹی نے محض تین سال کے اندر بھرپور عوامی تائید سے پاکستان کا اقتدار اعلیٰ حاصل کیا مگر بدقسمتی یہ کہ جب اقتدار بھٹو کے ہاتھ آیا تو اس وقت محمد علی جناح کا پاکستان دولخت ہوچکا تھا اور اس کا مشرقی بازو بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے اُفق پر ابھر رہا تھا، بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے پاکستانی افواج کی شکست پر 16دسمبر1971ء کو دہلی میں کہا کہ ہم نے ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے اور قائداعظم کے دو قومی نظریے کو آج خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ قوم مایوس تھی، ہڑتالیں عروج پر تھیں،90ہزار سے زائد فوجی جوان بھارت کے جنگی قیدی بن چکے تھے، جنگ کے باعث معیشت تباہ ہوچکی تھی اور عالمی تجزیہ نگار کھلے عام یہ کہتے پھرتے تھے کہ اب بچا کھچا پاکستان محض چند ماہ زندہ رہے گا۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کی ولولہ انگیز اور کرشمہ ساز شخصیت نے جادو کردکھایا انہوں نے لاہور کے موچی دروازہ میں سحر انگیز خطاب کے دوران عوام سے کہا کہ اگر بھارت کے ساتھ جنگ لڑنی ہے اور اپنے رسوائیوں کا بدلہ لینا ہے تو ہمیں آج سے اپنے اپنے کاموں پر جانا ہوگا اور ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھنا ہوگی جو حقیقتاً اسلام کا قلعہ ثابت ہوگا۔ بھٹو کے اس خطاب میں قوم میں ایک نئی روح پھونک دی اور پھر دن بدن پاکستان ترقی کی شاہراہ پر چلنے لگا۔ پیپلزپارٹی نے اپنے پہلے دور اقتدار میں عوام کو بنیادی حقوق کا تحفہ دیا، مزدوروں کو ان کے حقوق کیلئے لیبر لاز اور یونین کا تحفہ ملا،طلباء کو تعلیمی اداروں میں فیسوں کی معافی اور طلبایونین کا حق دیا گیا، پہلی بار وزارت مذہبی امور و اقلیتی امور بنائی گئی اور حج پالیسی دی گئی۔ ایک عام آدمی کو بیرون ملک سفر کرنے کیلئے پاسپورٹ دیا گیا اسی طرح قومی شناخت نامہ شناختی کارڈ کی صورت میں دیا گیا ملک سے بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے پوری دنیا کا طوفانی دورہ کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کے دیہاتوں میں بسنے والے غریب ،کسانوں، مزدوروں نے مشرق وسطیٰ کے سفر کیے اور ان کے گھروں میں خوشحالی آئی ، ریفریجریٹر ، ٹیپ ریکارڈر اور ٹیلی ویژن جیسی نئی ایجادات گاؤں ،گوٹھوں میں پہنچی۔ تعلیمی ترقی کے سفر میں بلوچستان یونیورسٹی ،بہاؤلدین ذکریا یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی، طبی سہولیات کیلئے پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد، قائداعظم میڈیکل کالج بہاؤلپور، چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ، وفاقی تعلیمی بورڈ کے علاوہ کئی دیگر تعلیمی بورڈز بنائے گئے ۔انجینئرنگ کی تعلیم کیلئے پنجاب میں ٹیکسلا انجینئرنگ کالج بنایا گیا۔ پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کے دو بڑے کارنامے جو پاکستان کی تاریخ میں ناقابل فراموش ہیں ایک 1974ء میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد تھا اور دوسرا پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ قائد عوام نے اس ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جس پرکرنل قذافی مرحوم اور شاہ فیصل مرحوم نے اپنے تمام تر وسائل ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کردئیے پاکستان پیپلزپارٹی کے پہلے دور میں وزارت خارجہ کے حوالے سے بہترین اقدامات اٹھائے گئے اور پہلی بار مسئلہ کشمیر کو دنیا میں اجاگر کیا گیا اور دنیا کو بتایا گیا کہ بھارت نے مقبوضہکشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اسی پہلے دور میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کیا جس کے تحت90ہزار قیدی باعزت طریقے سے رہا ہوکر مادر وطن پہنچے۔ پہلے دور حکومت میں این ایل سی جیسا محکمہ بنایا گیا۔1977ء میں جب پیپلزپارٹی بھاری اکثریت سے دوبارہ منتخب ہوکر ایوان میں آئی تو ایک طالح آزما جرنیل نے 5جولائی 1977ء کو جمہوریت کی بساط لپیٹ دی اور ایک بے بنیاد مقدمہ قتل میں ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔77ء سے 89کا عرصہ پیپلز پارٹی کے کارکنان کیلئے اسی طرح آزمائش کا باعث تھا کہ جس آزمائش سے آج مسلم لیگ (ن) نبردآزما ہے،پیپلزپارٹی کے کارکنان کی ننگی پیٹھوں پر کوڑوں کی برسات برسائی گئی، برساہابرس کی قید سنا کر ہزاروں کارکنوں کو پس دیوار زندان بجھوا دیا گیا مگر عوام کا فیصلہ آخری ہوا کرتا ہے بالآخر آمر اپنے انجام کو پہنچا اور عوام نے ایک بار پھر بھٹو کی پارٹی اور بھٹو کی بیٹی کو اقتدار تک پہنچا دیا مگر پی پی پی کا یہ اقتدار محض دو برس تک قائم رہا کیونکہ محلاتی سازشیں بہت زیادہ تھیں، چوتھی بار پیپلزپارٹی کو اقتدار 1993ء میں ملا مگر اس دوران ذوالفقارعلی بھٹو کے فرزند میر غلام مرتضیٰ بھٹو جان کی بازی ہار گئے اور ریاستی اداروں نے انہیں سڑک پر گولیوں سے چھلنی کردیا۔2007ء میں جب ایک اورجرنیل ملک کے اقتدار اعلیٰ کا مالک تھا نے عام انتخابات کروائے تو پانچویں بار بھٹو کی پارٹی برسراقتدار آئی اس دوران پیپلز پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کررہے تھے جسے معروف صحافی مجید نظامی نے مرد حر کا خطاب دیا تھا، بھٹو کے اس کارکن اور بہادر بیٹے نے نہایت بہادری کے ساتھ سالہا سال تک جیل میں قید و بند کی صعوبتیں جرأت کے ساتھ برداشت کیں لیکن اپنے نظریے اور موقف میں کوئی تبدیلی نہ لائی، برسراقتدار آنے کے بعد آصف علی زرداری کو جوڈیشل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں سید یوسف رضا گیلانی جیسے وزیراعظم کی قربانی بھی دینا پڑی مگر تاریخ میں آصف علی زرداری کا نام جہاں ان کی جرأت اور بہادری کی وجہ سے لکھا جائے گا وہیں یہ بھی لکھا جائے گا کہ اس رہنما نے پہلی بار صوبوں کو صوبائی خودمختاری دی جس کا خود آئین میں دعویٰ کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کو صوبے کا اسٹیٹس دینے کا اعزاز بھی پیپلزپارٹی کی پانچویں حکومت کے حصے میں آیا اور پھر خیبرپختونخوا کے عوام کے مطالبے کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہوئے صوبے کا نام آئینی طورپر تبدیل کرکے ثابت کیا کہ ہم سب ایک ہیں۔ جن دنوں ذوالفقار علی بھٹو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزاررہے تھے تو کچھ حلقوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاء سے اپیل پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اس کام کیلئے اس وقت کے اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ جیل مجید کوچنا گیا جب وہ بھٹو صاحب کے ڈیتھ سیل میں گیا اور اپنا مدعا بیان کیا تو بھٹو صاحب مسکرائے اور انہوں نے کہا مجید اگر میری زندگی بچ بھی جاتی ہے تو چند سال بعد میرے اپنے پوتے میری بات نہ مانیں میں انشاء اللہ قبر میں بیٹھ کر اس پاکستان پر حکومت کروں گا اور پاکستان کے ہر اس غریب کے گھر میں موجودہوں گا جس کی چھت کچی ہوگی اور بارش سے ٹپکتی ہوگی یہی وجہ ہے کہ پچاس سال گزرجانے کے باوجود آج بھی بھٹو زندہ ہے۔