Home » کالم » پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کی مشکلات

پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کی مشکلات

وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے تحت کفایت شعاری مہم وزارتوں سمیت مختلف اداروں میں نافذ کی گئی

۔ حکومت کی اس مہم کو عوامی سطح پر بھی زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اور اس سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ ممکن ہوا ۔ لیکن کہیں کہیں اس مہم کے کچھ نقصانات بھی ہوئے ۔ ایسا ہی ایک ادارہ پی آئی اے ہے جو بہت عرصے سے خسارے میں جا رہا ہے ۔ اسی وجہ سے اسے سفید ہاتھی بھی کہا گیا ۔ سابقہ حکومتوں نے اس کی نجکاری کا پروگرام بھی بنایا مگر کوئی بہتر حل نہ نکل پایا ۔ کہا جاتا ہے کہ پی آئی اے کا خسارہ اس کے اپنے ملازمین کی بہت بڑی تعداد کی وجہ سے ہے ۔ مگر یہاں ذکر ان ملازمین کا کر رہا ہوں جن کا تعلق جہاز اڑانے ، جہاز کے عملے اور تیکنیکی شعبوں سے ہے ۔ جہاز اڑانے میں سب سے اہم کردار پائلٹ کا ہوتا ہے ۔ نہ صرف سینکڑوں انسانوں کی جانیں بلکہ لاکھوں ڈالر کا جہاز بھی اس کے رحم وکرم پر ہوتا ہے ۔ گزشتہ دنوں پی آئی اے میں غیر ضروری اخراجات کنٹرول کرنے کے لئے فلاءٹ آپریشن میں اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ۔ شعبہ فلاءٹ سروسز میں بڑے پیمانے پر تبادلے کئے گئے ۔ ان میں فضائی میز بان،انجینئر اور کپتان بھی شامل ہیں ۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ اسلام آباد سے پروازیں زیادہ ہیں ، جس پر کپتانوں کی کمی ہے ۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے31 سے زائد پائلٹس کا تبادلہ کیا گیا ۔ کپتانوں کے دوسرے اسٹیشنز پر فلائنگ ڈیوٹی کرنے سے اخراجات زیادہ تھے ۔ اسی طرح 85 سے زائد فضائی میزبانوں کا کراچی سے اسلام آباد ٹرانسفر کردیا گیا ۔ فضائی میزبانوں میں 60 سے زیادہ خواتین شامل تھیں ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں تو کپتان اور عملہ پورے ہوگئے مگر کراچی میں عملہ کی کمی کو کون پورا کرے گا ۔ اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ دوسرے ائیر پورٹس سے لمبے ہوائی سفر پر جانے والے جہازوں کا عملہ شدید کمی کا شکار ہوا ۔ لندن اور دیگر یورپی ممالک جانے والے جہاز دبئی میں اگر بریک جرنی بھی کریں تو عملے کو آرام کےلئے وقت نہیں ملتا ۔ پاکستان کے کسی بھی شہر سے مکہ، مدینہ اور ریاض، عرب امارات کی ریاستوں کا سفر تین گھنٹے کا ہے ۔ جہاز کے اڑان بھرنے سے قبل عملہ تقریباً دو سے تین گھنٹے پہلے گھر سے تیار ہو کر آتا ہے ۔ اس کے بعد تین گھنٹے کی فلاءٹ اور پھر ایک گھنٹہ کے بعد واپس تین گھنٹے کی فلاءٹ ہے ۔ یوں سات آٹھ گھنٹے ڈیوٹی ہو جاتی ہے ۔ چلیں اس میں تو کچھ ریسٹ ہو جاتا ہے مگر ترکی اور دیگر ممالک جہاں کی یک طرفہ فلاءٹ پانچ سے چھ گھنٹے کی ہے وہاں سے واپس بھی اتنی ہی دیر میں آتے ہیں تو یوں دس سے بارہ گھنٹے کا صرف سفر ہے اس دوران ایک یا دو گھنٹے کے ریسٹ سے تھکان دور نہیں ہوتی ۔ پھر منزل پر پہنچ کربھی عملے کو آرام کےلئے مناسب وقت نہیں ملتا ۔ دس گھنٹوں کی کڑی ڈیوٹی کے بعد اگر انسان کو پانچ چھ گھنٹے کا آرام نہ ملے تو اس کا بیمار ہونا یقینی ہے ۔ پائلٹ اور جہاز کادیگر عملہ سفر کے دوران بالکل چوکس رہتے ہیں ۔ سفر کے بعد دوبارہ سفر اور پھر کچھ وقت کا آرام، بعض اوقات ہنگامی حالات میں تو وہ بھی نہیں ہوپاتا ۔ مسلسل بے خوابی، تھکن اور بے آرامی سے عملہ کی صحت اور اس کی صلاحیت پر برا اثر پڑتا ہے جو کسی بھی بڑے حادثہ کا موجب بن سکتا ہے ۔ کفایت شعاری مہم کا دوسرا اثر پی آئی اے کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاوَنسز پر پڑا ۔ پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کو گزشتہ چند ماہ سے انٹرنیشنل الاءونس نہیں ملے ۔ الاءونس نہ ملنے سے فضائی میزبانوں کے لیے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیاہے ۔ پی آئی اے اپنے فضائی میزبانوں کو بین الاقوامی روٹس پر4 ڈالر فی گھنٹہ انٹرنیشنل الاءونس ادا کرتا ہے ۔ فضائی میزبان اسی الاءونس سے بیرون ممالک اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں ۔ مالی مشکلات کے شکار فضائی میزبان بچوں کی فیسیں تک ادا نہ کر سکے ان کے لیے روزمرہ کے معاملات چلانا بھی مشکل ہو گئے ۔ ایک مسئلہ ملازمین کے میڈیکل الاونس کا بھی ہے ۔ پی آئی اے کے ملازمین اپنے، بیوی بچوں اور والدین کا علاج پی آئی اے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں سے کراتے ہیں ۔ بڑے شہروں میں مختلف جگہوں پر ایک سے زائد ڈسپنسری یا میڈیکل یونٹ ہوتا تھا جس کو اب صرف ایک ہی کر دیا گیا ہے ۔ بڑے شہر میں دو دراز سے رہنے والے ملازم کےلئے کافی دشواری ہے کہ وہ خصوصی وقت نکال کر متعلقہ میڈیکل یونٹ تک پہنچے ۔ اگر ملازم فلاءٹ پر ہے اور اس کی فیملی میں کوئی میڈیکلی ایمرجنسی ہو گئی ہے تو محض دوری کی وجہ سے وہ اس سے استفادہ نہیں کر سکتی ۔ پھر میڈیکل یونٹ میں سہولیات کا فقدان بھی ہے ۔ دوائیں نہیں ملتیں ۔ مہنگی ادویات ملازمین کو بازار سے خریدنی پڑتی ہیں ۔ پی آئی اے نے ایک مخصوص فارمیسی کو ادویات فراہمی کی اجازت دی ہے جو انتہائی مشکل اور ناکافی ہے ۔ پہلے اگر کوئی دوائی یونٹ میں نہیں ہوتی تھی تو باقاعدہ کاغذی کارروائی کر کے بازار سے خریدنے کی اجازت دی جاتی تھی جس کی بعد میں ریکوری بھی ہو جاتی تھی مگر اب ایسا نہیں ۔ حکومت سے التماس ہے کہ اس طرف خصوصی توجہ دے ۔ فضائی میزبانوں کی صحت اور تندرستی بہت ضروری ہے ۔ عملہ کی کمی کو فوری طورپر پورا کرے ۔ یہاں کفایت شعاری مہم نقصان کا موجب بن سکتی ہے ۔ تمام فضائی عملہ کو لمبے سفر کے بعد آرام کےلئے مناسب وقت ملنا چاہیے جو کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کےلئے بہت ضروری ہے ۔ الاوَنسز کی بحالی کے ساتھ ساتھ میڈیکل یونٹ کی تعداد کو بھی بڑھایا جائے اور وہاں سہولیات بھی دی جائیں تاکہ یہ فضائی میزبان صحت مند اور خوش و خرم اپنے فراءض بخوبی انجام دے سکیں ۔ جہاں تک پی آئی اے میں خسارے کا تعلق ہے تو اس کےلئے ہ میں ملازمین کی تعداد میں کمی کرنے کے بجائے طیاروں کی تعداد بڑھانی چاہیے ۔ عملے میں کمی بنیادی انسانی سطح پر انتہائی غلط رویہ ہے اور اس سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوگابلکہ مسائل بڑھیں گے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative