پی ایس ایل میچز اور سکیورٹی انتظامات

44

پاکستان سپر لیگ سیزن 5 کے مقابلے پورے زور شور سے جاری ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اب بھی تمام ٹی میں مقابلے کی دوڑ میں موجود ہیں ۔ پی ایس ایل کے مقابلوں کی وجہ سے کراچی لاہور ملتان اور راولپنڈی کے کرکٹ گراونڈ کی رونقیں ایک عرصہ بعد بحال ہوئی ہیں ۔ یہ میگا ایونٹ ایک چیلنج سے کم نہیں تھا کیونکہ پاکستان دشمن طاقتیں نہیں چاہتیں تھیں کہ پاکستان میں کھیل کے میدان ;200;باد ہوں خصوصا عالمی کرکٹ بحال ہو ، لیکن صد شکر کہ صرف کھیل کے میدان ہی ;200;باد نہیں ہوئے بلکہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ بھی بحال ہو چکی ہے ۔ اس سے قبل پی ایس ایل کے میچز دبئی اور شارجہ کے میدانوں میں ہوتے تھے مگر سیزن 5 کے تمام مقابلوں کا پاکستان میں انعقاد سکیورٹی اداروں پاک فوج ، رینجرز اور پولیس کی انتھک محنت کا مرہون منت ہے ۔ سکیورٹی کی تسلی بخش صورتحال کی بدولت عوام کا اعتماد بحال ہوا اور اب تک کے تمام مقابلوں میں گراونڈ کچھا کچھ بھرے ہوئے نظر ;200;ئے ہیں ۔ کراچی اور لاہور کے سٹیڈیم میں تو اس سے قبل پاکستان سپر لیگ کے کچھ میچز ہوتے رہے ہیں لیکن ملتان اور راولپنڈی میں یہ مقابلے پہلی بار ہوئے ہیں ۔ خیال تھا کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے شاید راولپنڈی کی عوام گراونڈ کا رخ نہ کرے لیکن پنڈی پولیس انتظامیہ کی طرف سے فول پروف انتظامات کی وجہ سے نہ صرف یہ خدشات رد ہوئے بلکہ دیکھا گیا کہ راولپنڈی گراونڈ پر پی ایس ایل کے ہونے والے ;200;ٹھوں میچ نہایت پرامن اور سب کے سب شائقین سے بھرے رہے ۔ کرکٹ بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق سترہ ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش والے پنڈی گراونڈ پر8 میچز میں ایک لاکھ سے زائد شائقین نے گراونڈ کا رخ کیا ۔ بلاشبہ اتنی بھاری سرگرمی کو ہر لحاظ سے محفوظ اور سخت ترین سکیورٹی انتظامات میں عوام کی گراوَنڈ تک ;200;سان رسائی کو ممکن بنانے میں دیگر سکیورٹی اداروں کے علاوہ بنیادی کردار سٹی پولیس کا رہا جسکے سامنے یہ بڑا چیلنج تھا ۔ اس حوالے سے راولپنڈی سٹی پولیس کی قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے ۔ قبل ازیں سری لنکن کرکٹ ٹیم ایک ٹیسٹ میچ بھی یہاں کھیل چکی ہے تب بھی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے ۔ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم مرکزی شاہراہ مری روڈ سے بالکل ملحق ہے اور یہ اسلام ;200;باد کو جوڑنے والی واحد بڑی شاہراہ ہے جس پر معمولی سی کوئی سرگرمی ہو یا کوئی حادثہ پیش ;200; جائے تو گھنٹوں یہ روڈ بند ہو جاتی ہے اور علاقہ مکینوں کےلئے وبال جان بن جاتی ہے ۔ ایسے میں پی ایس ایل کے وقفہ وقفہ سے ہونے والے ;200;ٹھ میچز کے لئے ٹریفک کو بلا روک ٹوک رواں رکھنا میرے نزدیک ایک انتہائی مشکل چیلنج تھا لیکن شاباش ہے یہاں کی پولیس انتظامیہ کےلئے جو احسن طریقے سے اس چیلنج سے عہدہ براء ہوئی ۔ میں نے اس حوالے سے ایک دوست سے ڈسکس کیا تو کہنے لگے ہماری پنڈی پولیس ان دنوں بہت ایکٹو ہے ۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے سی پی او راولپنڈی احسن یونس ۔ ان کا نام سن کر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ ویڈیو یاد ;200; گئی جس میں وہ ایک ریڑھی بان سے اپنے اہلکاروں کی مجرمانہ غلطی پر معذرت کرتے دکھائی دیئے تھے ۔ یہ گزشتہ برس دسمبر کا واقعہ ہے چاندنی چوک پر ایک غریب ریڑھی بان کی ریڑھی سے دو ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے زبردستی کچھ جیکٹس اٹھا لی تھیں ۔ اتفاق سے بننے والی اس واردات کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سی پی او احسن یونس نے اس کا فوری نوٹس لیا اور چاندنی چوک موقع پر جا کر متاثرہ ریڑھی بان سے ملاقات کی اور ٹریفک سٹاف کی طرف سے اٹھائی گئیں جیکٹس واپس کروائیں ،ریڑھی بان سے معذرت کا اظہار بھی کیا جبکہ معاملے میں ملوث ٹریفک انسپکٹر اور سٹاف کو معطل کرتے ہوئے انکے خلاف محکمانہ کارروائی کے احکامات بھی جاری کردیے تھے ۔ یہ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ پولیس کے کسی بڑے عہدیدار نے از خود نوٹس لیا پھر موقع پر جا کر کسی غریب کی داد رسی کےساتھ معذرت بھی کی ۔ خدا کرے مستقبل میں بھی ایسی مثالیں قائم ہوتی رہیں ۔ یقینا محکمہ کی ان کالی بھیڑوں کو قرار واقعی سزا ملی ہو گی ۔ کسی بھی محکمہ کی ایسی کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورے محکمہ سے شہریوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔ خصوصاً پولیس سے عام ;200;دمی کا اعتماد ایسے بے شمار واقعات کی وجہ سے ہمیشہ سے متزلزل چلا ;200; رہا ہے ۔ حد تو یہ ہے ;200;ج لوگ کسی چوری ڈکیتی کی واردات میں لاکھوں کا نقصان سہہ جاتے ہیں مگر پولیس کے پاس داد رسی کےلئے جانا گوارہ نہیں کرتے ۔ راولپنڈی ایک بڑا شہر ہے یہاں جرائم کی نوعیت ہی مختلف ہے ۔ بڑے بڑے گینگ،چوری ڈکیتی اور رہزنی کے علاوہ یہاں واءٹ کالر کرائم بھی عام ہے ۔ زمینوں کے قبضے ، بنک فراڈ اور دیگر جعل سازی کی وارداتوں کی وجہ سے ایک متحرک اور با اختیار پولیس فورس وقت کا تقاضہ رہا ہے جو جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی میں پیش پیش رہے ۔ سی پی او احسن یونس کی تعیناتی کے بعد امید ہے کہ جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہو گی ۔ اس سلسلے میں انکے اب تک کے اقدامات حوصلہ افزا ہیں ۔ تین ماہ کی مختصر سی مدت میں پانچ ہزار کے قریب زیر التوا مقدمات کا اندراج ہونا قابل تعریف ہے ۔ شہریوں کی پولیس سے سب سے بڑی شکایت یہی ہوتی ہے کہ ان کے مقدمات کا اندراج ہی نہیں ہوتا ۔ پانچ ہزار مقدمات کے اندراج سے شہریوں کی شکایات کا ازالہ ہوا ہے ۔ تھانوں میں فرنٹ ڈیسک پر کیمروں کو فعال کرنا ۔ شہریوں کی ;200;سانی کے لیے مختلف مقدمات سے متعلق ایڈوئزری کا اجراء تاکہ شہریوں کو تفتیش کے مراحل سے ;200;گاہی ہو،روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری کا انعقاد،پڑھے لکھے ایس ایچ اوز کی تعیناتی، ایس ایچ اوز کو 3سے 5بجے تک شہریوں کی شکایت سننے کے لیے پابند بنانا یہ وہ اقدامات ہیں جس سے عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں خدمت مرکز،15جیسے ;73;ntiatives کے خالق بھی ہیں ۔ اسی عرصہ میں اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں ملوث ایک بڑا گینگ گرفتار ہوا جو پولیس کے لئے درد سر بنا ہوا تھا جبکہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کر نے والے ملزم کی بھی گرفتاری ہوئی ہے ۔ یہ تو وہ اقدامات ہیں جن کا تعلق شہریوں سے ہے لیکن خود محکمہ پولیس کے اہلکار بھی کئی طرح کے مسائل سے دوچار رہتے ہیں ۔ ان کے لئے ویلفئیر برانچ کو فعال کیا گیا ہے تاکہ شہدا کی فیملیز اور حاضر سروس ملازمین کے مسائل علاج معالجہ وغیر ہ کو فوری طور پر حل کیا جاسکے ۔ مختصر یہ کہ جب کسی ادارے کی قیادت فرض شناس با صلاحیت اور پرعزم ہوتی ہے تو پھر وہ ادارہ بحیثیت کل مثالی ادارہ بن جاتا ہے ۔ بات شروع ہوئی تھی پاکستان سپر لیگ کے میچز کے فول پروف سکیورٹی انتظامات کی تو اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے بھی راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے مداحوں اور سٹی پولیس انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہاکہ کرکٹ پاکستانی عوام کا پسندیدہ کھیل ہے اور اس تناظر میں مداحوں کی اسٹیڈیم آمد اور فول پروف انتظامات پاکستان کرکٹ بورڈ کےلئے خوشی کا باعث ہے ۔