پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا نے دریائے چناب سے تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فْٹ پانی کا رْخ اپنے بیاس کے نہری نظام پر موڑنے کے منصوبے کے لیے کمپنیوں سے بولیاں مانگی ہیں اور اس کے خطے میں ‘سنجیدہ نتائج’ سامنے آئیں گے۔ انڈیا پانی کو ‘بطور ہتھیار’ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس کے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ خطے کے استحکام، بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کے لیے بھی خطرناک نتائج ہوں گے۔پاکستان نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم مکالمے اور تنازعات کے پْرامن حل کے لیے پْرعزم ہیں’ تاہم پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی ‘غیر قانونی قدم’ اسے ناقابلِ قبول ہے۔ایسے اقدامات جنوبی ایشیا میں مزید عدم استحکام کا باعث بنیں گے، جس کے پورے خطے کے عوام کیلئے ممکنہ طور پر سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔بھارتی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اس منصوبے کی تشہیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انڈیا اب پرانے اصولوں کے تحت نہیں کھیلے گا۔22 مئی کو اپنے فیس بْک اکاؤنٹ پر بی جے پی نے لکھا کہ ‘سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد اب بلآخر انڈیا اب اپنے مغربی دریاؤں کی صلاحیتوں کا ہائیڈرو پاور، واٹر سکیورٹی اور سٹریٹجک استعمال کرنے جا رہا ہے۔انڈیا کے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے ہماچل پردیش ٹنل بنانے کے لیے گذشتہ مہینے ٹینڈر جاری کیا ہے۔یہ ٹنل دراصل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کوکسار میں بنے گا۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی موڑنے کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے پاس اپنے آبی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام آپشنز موجود ہیں۔کچھ دن قبل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے گورنر کویندر گپتا نے بھی اس منصوبے کے حوالے سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ یہ پراجیکٹ انڈیا کے قومی مفاد میں ہے اور اس کے ذریعے ملک کو اس کے آبی وسائل پوری طرح سے استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔ چناب۔بیاس لنک ٹنل منصوبہ قومی مفاد کے لیے اہم قدم ہے۔ انڈیا کے پانی کو پہلے اس کے لوگوں اور ریاستوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔’ اس منصوبے کے ذریعے ‘آبی وسائی کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے گا۔ پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش جیسی ریاستوں کی ضرورتیں پوری کرنا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔’جہاں پاکستان کی حکومت اس منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کہہ رہی ہے، وہیں انڈین حکومت کا مؤقف ہے کہ اس پراجیکٹ کا مقصد چناب کے زائد پانی کا بھرپور استعمال کرنا ہے جو بغیر استعمال ہوئے چناب میں بہہ جاتا ہے اور پانی کا رْخ موڑنے سے انڈیا میں چار ہزار میگا واٹ بجلی بھی پیدا کی جا سکے گی۔انڈین کی حکومتی شخصیات کا دعویٰ ہے کہ چناب کا یہ پانی ہریانہ، پنجاب اور راجستھان جیسی ریاستوں کی ضروریات کو بھی پوری کر سکے گا۔انڈیا نے اس کے بعد دریائے سندھ ، چناب اور جہلم پر متعدد منصوبوں کی تعمیر کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ پاکستان ان منصوبوں کو سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو متعلقہ ٹریبیونل میں لے گیا ہے۔سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں میں سے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معاہدے سے الگ نہیں ہو سکتا۔ پانی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے مسئلے کو جنم دے سکتا ہے۔چند ہفتوں قبل بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار کے مطابق پانی کا مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک نیا گمبھیر تنازع بن کر ابھر رہا ہے۔ ‘یہ ٹکراؤ جس سطح پر پہنچ چکا ہے اگر مودی حکومت چلی جائے تو بھی نئی حکومت اس فیصلے کو بدل نہیں سکتی۔”اس کا واحد حل یہی ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی سے پاک ماحول میں اس معاہدے پر نظر ثانی کریں اور باہمی طور پر قابلِ قبول اور حقیقت پسندانہ معاہدہ پر اتفاق کریں۔’ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے دریائے چناب پر ٹنل بنانا سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور پاکستانی حکومت کو اس پر سخت قانونی مؤقف اپنانا چاہیے۔ اس سے پاکستان کو دریائے چناب سے سالانہ تقریباً دو ملین ایکڑ فْٹ پانی کا نقصان ہوگا۔ انڈیا کی جانب سے ٹنل بنانے سے اسے خود بھی نقصان اْٹھانا پڑے گا۔’انڈیا کے جتنے بھی ہائیڈرو پاور سٹیشنز بنے ہوئے ہیں، وہ سارے ڈاؤن سٹریم موجود ہیں۔ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو چلانے کے لیے انڈیا کو پانی چھوڑنا ہی پڑے گا۔’ پاکستان کو دریائے چناب سے تقریباً 24 ملین ایکڑ فٹ پانی ملتا ہے اور ٹنل بننے سے پاکستان کو تقریباً 10 فیصد پانی کا نقصان ہو گا۔انڈیا چناب کے اوپر ڈیم بنا سکتا ہے، ہائیڈرو پاور پلانٹ لگا سکتا ہے لیکن سندھ طاس معاہدے کے مطابق اسے یہ پانی واپس چناب میں ہی چھوڑنا ہو گا اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔
چناب ، بیاس ٹنل منصوبہ پر پاکستانی تشویش

