Home » کالم » چھمب ، جوڑیاں کا معرکہ !

چھمب ، جوڑیاں کا معرکہ !

بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کو فتح کرنے کے لئے پہلا حملہ آزاد کشمیر پر کیا ۔ انہوں نے 1962 میں چین سے شکست کھانے کے بعد امریکہ برطانیہ اور روس کو چین کا ہوّا دکھا کر جو پہاڑی ڈویژن تیار کرائے تھے ، وہ در حقیقت ہمالیہ کے پہاڑوں میں نہیں بلکہ کشمیر کی پہاڑیوں میں لڑائی کے لئے تیار کیے تھے ۔ پچیس اگست 1965 کی رات بھارتی توپ خانے نے آزاد کشمیر کے علاقے ” بھرت گلی “ اور ” درہ حاجی پیر “ ، ( ٹیٹوال سیکٹر ) پر شدید گولہ باری کی ۔ یوں تو یہ گولہ باری ایک ہفتے سے ہو رہی تھی لیکن پچیس اگست کے آخری بارہ گھنٹوں میں اس قدر شدید تھی کہ آزاد کشمیر فوج کے اندازے کے مطابق صرف بارہ گھنٹوں میں بیس ہزار گولے فائر کیے گئے ۔ چھبیس اگست کو انڈین آرمی کے پورے برگیڈ نے آزاد کشمیر کی چوکیوں پر حملہ کر دیا ۔ مقابلے میں ایک سو نفری پر مشتمل آزاد کشمیر کے جوان تھے ۔ ان ایک سو جوانوں نے شروع میں ایک بھی گولی فائر نہ کی ۔ جب دشمن پچاس گز تک آ گیا تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ مجاہدوں نے ان پر گولیوں اور دستی بموں کا مینہ برسا دیا ۔ ستائیس اگست کو بھارتیوں نے سکیم بدل کر رات کے ایک بجے حملہ کیا ۔ معرکہ خوں ریز تھا ۔ ادھر پورا برگیڈ جسے ڈویژن کے توپ خانے کی امدادی گولہ باری حاصل تھی ۔ اِدھر صرف ایک سو جوان جن میں سے دو گذشتہ روز کے حملے میں شہید اور پانچ شدید زخمی ہو چکے تھے ۔ وہ پھر بھی لڑے مگر برگیڈ کے سامنے جم نہ سکے ۔ ان کے چھتیس جوان شہید ہو گئے ۔ درہ حاجی پیر اور بیڈوری کی چوکیوں پر انڈین آرمی نے قبضہ کر لیا ۔ بھارتیوں نے یہ تو نہ سوچا کہ انہوں نے کتنی زیادہ قوت سے کتنی تھوڑی سی نفری کو شکست دی ہے اور یہ محض حرفِ آغاز ہے مگر انہوں نے اسے حرفِ آخر سمجھ لیا اور اس ” عظیم فتح “ کے نشے سے سرشار پاک سرحد کے اندر گولہ باری شروع کر دیا جس کا نشانہ سرحدی گاﺅں اعوان شریف ضلع گجرات کے بے ضرر دیہاتی بنے ۔ اگر یہ بھارتی کاروائیاں عام سی قسم کی سرحدی جھڑپیں ہوتیں تو شاید مفاہمت کی بات کی جا سکتی تھی لیکن یہ بھرپور حملہ پاکستان کی غیرت کے لئے چیلنج تھا ۔ لہذا پاک فوج میدان میں آ گئی ۔ میجر جنرل اختر حسین ملک نے دشمن کو اور آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے بلوچ اور پنجاب رجمنٹیں بھیج دیں جنہیں دیکھ کر انڈین آرمی کی کمک میں بھی بے تحاشا اضافہ ہو گیا ۔ غالباً یہی وہ محاذ تھا جسے بھارتی وزیر اعظم ” شاستری “ نے اپنی مرضی کا محاذ کہا تھا اور اپنے فوجی مشیروں کے کہنے کے مطابق اس نے انڈین آرمی کے ماﺅنٹین ڈویژن کے لئے بہترین علاقہ سمجھا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان آرمی کے پاس کوئی پہاڑی ڈویژن نہیں ہے ۔تیس اگست کو بھارتیوں نے ” پونچھ “ کی شمالی پہاڑیوں میں گولہ باری شروع کر دی ۔ لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس رات ان پر کون سی قیامت ٹوٹنے والی ہے اور پاک فوج انہیں ان کی مرضی کے محاذ پر نہیں بلکہ اپنی مرضی کے میدان میں لڑائے گی ۔ بھارتی یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ وہ پونچھ کے شمالی علاقے پر قابض ہو کر ” باغ “کی وادی پر قبضہ کریں گے جہاں سے وہ آزادکشمیر کو آسانی سے لے لیں گے ۔ تیس اور اکتیس اگست کی درمیانی رات پاک فوج کے برگیڈیئر عظمت حیات اور برگیڈیئر ظفر علی خان کے بریگیڈ گجرات سے آگے نکل گئے تھے ۔ ان کے ساتھ آزاد کشمیر کا بریگیڈ تھا ۔ برگیڈیئر امجد علی چوہدری کے توپ خانے نے رات کو ہی سرحد پر گولہ باری شروع کر دی تھی جس نے ” چھمب “ کے سیمنٹ اور لوہے کے مضبوط بنکروں اور دفاعی لائن کی مضبوطی کو ہلا ڈالا تھا ۔ سحر کی تاریکی میں ہمارے تینوں بریگیڈ برق رفتار پیش قدمی کر گئے ۔ یکم ستمبر کی صبح کو تاریخ پاکستان کے ایک روشن باب کی سرخی لکھ دی گئی ۔ ” چھمب “ کا سورج ابھر رہا تھا مگر انڈین آرمی کے غرور اور بھارتی حکمرانوں کی نخوت اور رعونت کا سورج پاکستانی گولہ باری کی سیاہ گھٹاﺅں اور ٹینکوں اور پیادہ جوانوں کی یلغار کی گرد میں غروب ہو رہا تھا ۔ دن کے ساڑھے دس بجے تک بھارت کی قلعہ بندیوں ،ملگوئیاں ، چک پنڈت ، مناور ، جھنڈا ، پھورا اور برسالہ ، غازیوں کے قدموں تلے روندی جا چکی تھیں ۔” بورے جال “ جو بھارتیوں کا مضبوط قلعہ تھا ، خالی ہو رہا تھا کیونکہ بھارت کے دفاعی دستوں کو گھیرے میں آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا ۔ فرانس کے بنے بھارتی ا”لیکس“ ٹینک پاک دستوں کو روکنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے مگر پاکستانیوں نے رخ بدل کر ” دیوا “ پر حملہ کر دیا اور دیوا بھی ہاتھ میں آ گیا ۔ انڈین آرمی کے شکست خوردہ کمانڈر نے اپنی مدد کے لئے انڈین ایئر فورس کو پکارا۔ وہ وائرلیس پر کوڈ ورڈ میں کہہ رہا تھا ” وھسکی بھیجو ، وھسکی بھیجو “ ۔ شام کے ساڑھے چار بج رہے تھے اور وہسکی آ گئی ۔ جو بوتلوں کی شکل میں نہیں بلکہ چار ویمپائر لڑاکا بمبار طیارے تھے جو اپنی بھاگتی ہوئی فوج کے قدم جمانے کے لئے بھیجے گئے تھے ۔ چشم تصور سے ذرا اس فوج کو دیکھیں جو تین برگیڈوں کے آگے ٹینک ، توپیں ، مارٹر اور مشین گنیں ، پٹرول اور ہر طرح کے اسلحے کے بکسوں اور لاشوں کے ڈھیر پھینکی بھاگتی چلی جا رہی تھی ۔ انڈین آرمی کا نمبر 10 ماﺅنٹین ڈویژن ، 191 انڈین برگیڈ اور 93 انڈین انفنٹری برگیڈ بھی تھا ۔ آسمان میں بھارت کے چار ویمپائیروں کی حکمرانی تھی جنہوں نے نہایت اطمینان سے پاک دستوں پر آگ اگلنی شروع کر دی ۔ تبھی پاک فضائیہ کے دو شہباز ،سکوارڈن لیڈر ” سرفراز احمد رفیقی “ اور فلائیٹ لیفٹیننٹ ” امتیاز بھٹی“ گجرات پر اڑ رہے تھے ، انہیں پیغام ملا کہ دشمن ہمارے مورچوں پر فائر کر رہا ہے ، مقابلہ کرو ۔ دونوں شاہین تاریخ پاکستان کا پہلا فضائی معرکہ لڑنے کے لئے چھمب کے آسمان پر پہنچ گئے جہاں اب چار ویمپائر ہی نہیں بلکہ دو بھارتی کینبرا بھی اڑ رہے تھے ۔ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ دو سیبر طیارے چار ویمپائروں اور دو کینبرا جیسے برتر طیاروں کا مقابلہ کر سکیں گے ۔ مگر شاہینوں نے جان کی بازی لگا دی ۔ آسمان میں مشین گنوں کے دھماکے سنائی دینے لگے ۔ چاروں ویمپائروں کے پرخچے یکے بعد دیگرے چھمب کی فضا میں بکھر کر زمین میں دور دور تک جا گرے ۔ کینبرا اپنے چار ساتھیوں کا حشردیکھ کر کھسک گئے ۔ وھسکی کی بوتل چکنا چور ہو گئی ۔ بھارتی فضائی قوت کا غرور بھی مٹی میں مل گیا ۔ ( جاری ہے )

About Admin

Google Analytics Alternative