چیف جسٹس آف پاکستان کے فکرانگیزریمارکس

24

ملک کے دگرگوں حالات اورمختلف اداروں کی صورتحال شہرقائد میں تعمیرات،کراچی سرکلرریلوے کامسئلہ ،اورنج لائن منصوبے کامعاملہ ،ٹرانسپورٹ کامعاملہ،زمینوں کی خریدو فروخت، تجاوزات کے معاملات یہ وہ بنیادی نکات ہیں جس پرچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمدنے انتہائی فکرانگیزریمارکس دیئے ہیں ان پرسوچنا اوران مسائل کاحل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اگر اداروں کی کارکردگی درست نہ ہوتوپھرانتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں ، جہاں تک اداروں کامسئلہ ہے تواس سلسلے میں وزیراعظم کے بھی گاہے بگاہے تحفظات سامنے آتے رہتے ہیں ۔ یقینی طورپر بیوروکریسی کواپناقبلہ درست کرنا ہوگا تبھی ماتحت صحیح طرح اپنے فراءض سرانجام دے سکیں گے ۔ کراچی میں اتنابڑاسانحہ پیش آیا اس پربھی چیف جسٹس کے ریمارکس انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں بلڈنگ گری ،لوگ مرے مگرسب چین کی نیندسوئے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک شہرقائدکامسئلہ نہیں اس طرح کے المیے ملک بھر میں پیش آتے رہتے ہیں مگران کاحل کوئی نہیں ۔ حکومت خاطرخواہ فیصلے کرے جو ان جرائم کے مرتکب ہیں انہیں قرارواقعی سزادے جیساکہ پڑوسی ملک ایران نے کروناوائرس جب آیا تو وہاں لوگوں نے ماسک ناپیدکردیئے ،طلب بڑھی ،رسدکم ہوگئی ایسے میں حکومت نے ماسک کے ذخیرہ اندوزوں اورمہنگے فروخت کرنے والوں کےلئے سزائے موت کاحکم دیدیا ۔ اس طرح قو میں بنتی ہیں اورایک دوسرے کا احساس پیدا ہوتا ہے،جب پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ اپنے تحفظات کا اظہارکررہے ہیں تو ان کودورکرنا اقتدار میں بیٹھے حکمرانوں کاعین فرض ہے ۔ کراچی میں تعمیرات سے متعلقہ محکمہ کیاکررہاتھا، نقشہ کیسے پاس ہوا،کتنی منزلوں کی اجازت تھی، میٹیریل کیسالگایاگیا، انجینئرز کی رپورٹ کیاتھی، بلڈنگ پرمزیدتعمیرات کی اجازت کس نے دی ۔ یہ وہ سوالا ت ہیں جن کاجواب انتہائی ضروری ہے جو بھی اسے ملوث ہو اس کو سرعام پھانسی دی جائے ،خودبخود حالات ٹھیک ہوناشروع ہوجائیں گے،سانحہ بلدیہ کراچی میں سانحہ بلدیہ پیش آیاتھا کتنے لوگ وہا ں زندہ جل کرمرگئے ،پہلے ہی وقوعہ پرسخت ترین سزادیدی جائے تو پھرایسے کوئی اقدامات نہیں اٹھاتا سینکڑوں عمارات توکراچی ہی میں خطرے کی علامت ہیں اس کے علاوہ اندرون لاہورچلے جائیں وہا ں بھی اسی طرح کی بلڈنگ موجود ہیں اوردیگر شہروں میں جاکرچیک کیاجائے توخدانخواستہ ایسے سانحات کاخدشہ رہتاہے یقینی طورپر ان سب کو ٹھیک کرنے کےلئے اداروں کومتحرک ہوناپڑے گا ۔ تعمیرات کو جو رسک بنادیاگیاہے اس کو روکناہوگا، ان تمام چیزوں کے پیش نظر کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ سمیت سب ادارے چور ہیں ،کسی کو نہیں چھوڑیں گے، سب کیخلاف کارروائی ہوگی، عمارتیں ابا کی زمین سمجھ کر بنائی گئیں ، کراچی کی تعمیرات کورسک بنادیا گیا، سارے پروجیکٹ مٹی کا ڈھیر ہیں گر جائینگے، کیماڑی کا برج گرنے والا ہے ، کراچی میں بلڈنگ گری، اتنے لوگ مرے مگر سب آرام کی نیند سوئے ہیں ، جب تک ڈنڈا اوپر سے نہیں آتا آپ لوگ کام نہیں کرتے، گرین لائن کو تین سال ہوگئے، تین سال میں تو پورے ایشیا میں سڑکیں بن جاتیں ، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام ہی نہیں ہے، 6 ماہ کا وقت ہے کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ بحال کریں ، کوئی مزید مہلت نہیں ملے گی، جن لوگوں کو ہٹایا گیا کیا وہ غیر قانونی قابضین نہیں تھے;238; غیر ملکی حکمران خاندان کے شخص نے اربوں لگائے تو کیا کریں ،ہ میں قانون دیکھنا ہے ۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بنچ کے روبرو خاتون کی جانب سے برساتی نالے پر قبضے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی ۔ کراچی کےساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت پرنظردوڑائی جائے توراولپنڈی اسلام آباد جوکہ جڑواں شہرہیں یہاں پربھی ڈومیسٹک سطح پر کمرشل سرگرمیاں ہورہی ہیں ، تجاوزات کی بھرمار ہے ،دارالحکومت کاحسن بگاڑدیاگیاہے ۔ آخران ذمہ داروں کو بھی قانون وآئین کے تحت لانے کی ضرورت ہے ۔

ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کاعندیہ

آٹا اورچینی بحران کے حوالے سے وزیراعظم نے واضح طورپربتادیاہے کہ وہ کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے یعنی کہ’’ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودوایاز،نہ کوئی بندرہانہ کوئی بندہ نواز‘‘ وزیراعظم کاعزم بہترین ہے ہم اس کی تائید کرتے ہیں صرف ضرورت اس امرکی ہے کہ اس عزم کوباقاعدہ احکامات کی صورت میں تبدیل کیاجائے جوبھی شامل ہے اسے قرارواقعی سزادی جائے ،اتنی زیادہ مہنگائی پھرآٹے چینی کی قلت،کتنے معصوم بچے بھوکے رہے،کتنے غریب روٹی کو ترس گئے، جو بھی اس میں ملوث ہواس کودیدہ عبرت نگاہ بنادیاجائے کہ آئندہ اس قسم کی کوئی بھی جرات نہ کرسکے اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان نے آٹا اور چینی کے بحران کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کا واضح اشارہ دیتے ہوئے کہاہے کہ بحران کے ذمہ داران کو سخت سزائیں گے ۔ وزیراعظم نے قریبی رفقاء کو تحقیقاتی رپورٹ جلد منظر عام پر لانے سے آگاہ کر دیا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ گندم اور چینی کے بحران میں ملوث کسی شخص کو معافی نہیں ملے گی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ گندم اور چینی بحران کے باعث حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنےوالا میری حکومت میں نہیں بچ سکے گا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ رپورٹ کے مندرجات سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا، صرف رپورٹ ہی منظر عام پر نہیں آئے گی، ذمہ داروں کو کیفر کردار تک بھی پہنچائیں گے ۔ یہاں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ وزیراعظم نے تو کہہ دیا ہے لیکن یہ متعلقہ اداروں کابھی فرض بنتا ہے کہ وہ متحرک ہوکر اس ذخیرہ اندوزی اورمہنگائی میں ملوث افرادکوگرفتارکرکے انصاف کے کٹہرے میں پیش کریں تاکہ عوام کو بھی پتہ چل سکے کہ ذخیرہ اندوزوں اورگرانفروشو ں کو کس طرح سزاملتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ ایسے ذخیرہ اندوزو ں کے کارخانے،ملیں اورتمام کاروباربیک جنبش قلم سِیل کردیئے جائیں اورآئندہ دس سال تک اُن پرپابندی لگاکرتمام کارخانے بحق سرکارضبط کرکے قومیائے جائیں ۔

متعلقہ خبریں

نواز شریف نیب عدالت میں پیش نہیں ہوئے

16 سال میں اسحاق ڈار کی دولت میں 91 گنا اضافے کا انکشاف

style="display:block" data-ad-client="ca-pub-4214082252165931" data-ad-slot="1779405125" data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

خفیہ طاقتیں افغان معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں

پاک افغان معاہدہ سبوتاژ ہوتاہوا نظرآرہاہے جیساکہ پاکستان نے کہاکہ امن معاہدہ کو تبا ہ کرنے میں مظلوم عناصرملوث ہیں ،کابل اجتماع پرہونے والاحملہ جس میں درجنوں لوگ جاں بحق ہوگئے اس حوالے سے طالبان نے واضح طورپرکہاکہ وہ اس میں ملوث نہیں ہیں ۔ دوسری جانب امریکہ بھی فضائی کارروائی کررہاہے ۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی کی ریلی پر داعش نے حملہ کردیا، فائرنگ سے درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ،جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی جبکہ طالبان نے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے ۔ تقریب میں متعدد اہم شخصیات موجود تھیں اور خوش قسمتی سے ان میں سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا ۔ افغان صدر اشرف غنی نے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کیخلاف جرم قرار دیاہے،امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ گزشتہ 5، 6سال کے مقابلے میں افغانستان میں جاری تشدد میں غیر معمولی کمی آئی ہے ۔ کابل حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے حملے کے پیچھے وہی قوتیں ہیں جو افغان معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں ۔ ایسے حالات میں کیونکرممکن ہے کہ امن معاہدہ قائم رہے ۔ پاکستان نے بھی اس کی پُرزورمذمت کی ہے لیکن اس سلسلے میں اُن عناصرکی بیخ کنی انتہائی ضروری ہے جو امن معاہدے کے خلاف کارفرما ہیں اگرخدانخواستہ یہ معاہدہ ناکامی سے ہمکنار ہوتا ہے تو پھرخطہ ایک لامتناہی جنگ میں دوبارہ سے لپیٹ میں آجائے گا ۔ لہٰذاخطے میں امن کےلئے امریکہ کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اگروہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالناچاہتا ہے تو پھر اسے ایسا لاءحہ عمل اختیارکرنا ہوگا جس کے ذریعے امن مخالف عناصرکےخلاف گھیرا تگ کیاجائے اورمعاہدے میں جوبھی نکات طے پائے ہیں ان پرعملدرآمد سوفیصد یقینی بنایاجائے ۔