چینی حکومت اور عوام نے متحد ہو کر کورونا وائرس کا قومی سطح پر مقابلہ کیا، ہمیں بھی متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا،صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا دورہ چین سے واپسی کے بعد ویڈیو پیغام

50

صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ چینی حکومت اور عوام نے متحد ہو کر کورونا وائرس کا قومی سطح پر مقابلہ کیا، ہمیں بھی متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا، یہ ہر فرد اور ہر گھر کی جنگ ہے، ہم نے اس وائرس کوہرانا ہے، پاکستانی قوم پر جنگ سمیت جب بھی مشکل وقت آیا یہ متحد ہو جاتی ہے، چین میں قومی یکجہتی نے مجھے انتہائی متاثر کیا، علماءاور میڈیا کو عوام میں آگاہی اور شعور بیدار کرنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے۔ بدھ کو دورہ چین سے واپسی کے بعد صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ویڈیو پیغام میں کرونا وائرس کیخلاف چین کے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے قومی یکجہتی کے ذریعے کورونا وائرس کا قومی سطح پر مقابلہ کیا جس نے مجھے انتہائی متاثر کیا۔ صدر مملکت نے دورہ چین کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ چین کا دورہ اس لئے ضروری تھا کہ چین خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا اور انہیں مغرب کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا تھا۔بیجنگ میں قیام کے دوران میری چینی ہم منصب شی جن پنگ، وزیراعظم لی کی کیانگ اور کانگریس کے صدر لی ژان شوان کے ساتھ کئی گھنٹوں کی ملاقاتیں رہیں۔ چینی قیادت نے پاکستانی طلباءکو واپس نہ بلانے کے اقدام کو سراہا جبکہ میری چین کی 15 یونیورسٹیوں کے پاکستانی طلباءسے بات ہوئی۔پاکستانی طلبا نے بھی حکومت کے اقدام کے حق میں بات کی اور چینی حکومت اور پاکستانی سفارتخانہ کے دو اہلکاروں کی بھی تعریف کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ چین نے جس انداز میں کرونا وائرس سے آگاہی دینے کی غرض سے قوم کو تیار اور متحد کیا، رضاکار فورس تیار کی،اس نے مجھے زیادہ متاثر کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ رضا کاروں کے لحاظ سے پاکستانی قوم کو بھی تیار رہنا چاہئے۔ اس وقت ہماری جنگ ایک ہے، ہم سب کو اکٹھا ہو کر کام کرنا پڑے گا۔ پاکستان جب بھی کسی جنگ کے اندر گیا ہے تو پوری پاکستانی قوم متحد ہو ئی ہے، پھر یہ فرق نہیں رہتا کہ کس نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا۔ اور یہی بات چین کے صدر نے مجھ سے کہی کہ چین کی فتح یہی ہے کہ پوری قوم نے میرے ساتھ مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کیا۔ میری تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ پوری قوم اکٹھی ہو جائے اور لوگوں کو اس چیلنج سے آگاہ کیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ کیا احتیاط کرنا ہے۔ پاکستان میں گھبراہٹ کی کوئی ضرورت نہیں، مقابلہ گھبراہٹ میں نہیں ہوتا، لوگوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ان تمام چیلنجوں کا مقابلہ اچھے انداز میں کرنا ہے۔ میری آج کئی علماءسے ملاقاتیں ہوئیں، مسجد اور میڈیا وہ مراکز ہیں جہاں سے اس بات کا پرچار ہو گاکہ کیا کیا احتیاطیں کرنی ہیں ۔اس کے علاوہ میری چاروں صوبائی وزراءاعلیٰ، گورنرز اور دیگر لوگوں سے بھی بات چیت ہوئی اور انہیں بریفنگ بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ چین کی قومی یکجہتی نے مجھے انتہائی متاثر کیا۔ وہاں پر سب نے مل کر کام کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ میں پاکستانی قوم سے بھی اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بھی پوری قوم کو متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ جن لوگوں کو بخار یا نزلہ ہو وہ فوراً ماسک کی طرف چلے جائیں، باقی لوگ احتیاط کریں۔ کھانستے وقت ناک یا منہ کو رومال یا ٹشو سے ڈھانپ لیں اور ہر گھنٹے اگر ہاتھ صابن سے دھوئیں تو یہ وائرس کسی کو منتقل نہیں ہو گا۔ چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں۔ یہ احتیاطی تدابیر میں اس لئے آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں کیونکہ میں ایک خود پروفیشنل ڈاکٹرہوں۔انہوں نے کہا کہ ساری زندگی میری گزری ہے لوگوں کو احتیاطیں سکھانے میں۔ تو ہم بار بار لوگوں کو احتیاط سکھائیں گے۔ اس سلسلے میں آپ سے روزانہ بات ہوتی رہے گی۔ یہ ہر فرد اور ہر گھر کی جنگ ہے، ہم نے اس وائرس کوہرانا ہے