Site icon Daily Pakistan

چین ، ایک محفوظ جوہری ملک

چین نے صاف توانائی کے میدان میں ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس میں نمک، سورج کی روشنی اور ہزاروں آئینوں کی مدد سے کم لاگت بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ اس نظام میں تقریباً 12 ہزار آئینے سورج کی شعاعوں کو ایک بلند ٹاور کی جانب منعکس کرتے ہیں۔ اس عمل سے پیدا ہونے والی شدید حرارت ٹاور کے اندر موجود نمک کو انتہائی بلند درجہ حرارت تک گرم کر دیتی ہے۔ بعد ازاں اسی گرم نمک کی حرارت استعمال کرتے ہوئے پانی کو بھاپ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو ٹربائن چلانے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدا ہونیوالی توانائی لاکھوں گھروں تک پہنچائی جا رہی ہے، جبکہ مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جن سے ہزاروں میگاواٹ اضافی بجلی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ نمک حرارت کو طویل وقت تک محفوظ رکھ سکتا ہے، جس کی وجہ سے سورج غروب ہونے کے بعد بھی کئی گھنٹوں تک بجلی پیدا کرنا ممکن رہتا ہے ۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے منصوبے پاکستان کے صحرائی علاقوں میں متعارف کرائے جائیں تو ملک میں سستی اور متبادل توانائی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں ۔ پاک چین دوطرفہ تعلقات اور مثالی دوستی ایک مضبوط ”ہرموسم کی تزویراتی اشتراکی شراکت داری” میں تبدیل ہوچکی ہے ، بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے باوجود یہ دوستی مسلسل مضبوط، مؤثر اور تزویراتی اہمیت کی حامل ہوتی گئی ہے۔ پاکستان، چین کے صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت اور مختلف شعبہ جات میں چین کے تعاون کو بیحد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ پاکستان ”ایک چین” کے اصول پر اپنے غیرمتزلزل سفارتی مؤقف کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی ترجیحات میں چین کی مضبوط معاونت نے غیرمعمولی کردار ادا کیا ۔ سی پیک نے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ،صنعتی تعاون میں بے پناہ کردار ادا کیا ہے، دنیا میں پاکستان اور چین کثیرالجہتی تعاون، پْرامن بقائے باہمی اور جامع ترقی کے اصولوں پر کاربند ہیں ۔ پاک چین لازوال دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ملک کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹـ5 کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کر کے ایک اہم سنگ میل حاصل کر لیا۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ 2030 تک تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد قومی گرڈ کو 1200 میگاواٹ مزید بجلی دینا شروع کر دیگا جس سے ملک میں ماحول دوست اور قابلِ بھروسہ بیس لوڈ نیوکلیئر انرجی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 4700 میگاواٹ سے زائد ہو جائیگی۔چین کے اپنے طور پر تیارکردہ پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ٹیکنالوجی ہوا لونگ 1 پر مبنی دنیا کے پہلے ری ایکٹر فْوچِھنگ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ نمبر 5نے ایک ہزار دن کا مسلسل محفوظ اور مستحکم آپریشن مکمل کرلیا جس کے دوران یہ گرڈ کو 37 ارب کلو واٹ آور سے زائد صاف توانائی فراہم کر چکا ہے۔ فو چھنگ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے تیسرے مرحلے کے ڈپٹی منیجر ڑو جن گانگ کے مطابق یہ سنگ میل ہوا لونگ 1 کی حفاظت اور تکنیکی ترقی کو ثابت کرتا ہے اور دنیا بھر میں صاف توانائی کی ترقی میں چین کے مثبت کردار کو اجاگر کرتا ہے۔چائنہ نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن کا تیار کردہ ہوالونگ 1، جدید تیسری نسل کا پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہے جوتمام ملکیتی حقوق کا حامل ہے۔ یہ ٹیکنالوجی 30 سال سے زائد عرصے پر محیط چین کی نیوکلیئر تحقیق، ڈیزائن، تعمیر اور آپریشن کے تجربے کا نچوڑ ہے اور اس کے تکنیکی معیارات بین الاقوامی جدید معیارات پر پورا اترتے ہیں۔ دنیا کے پہلے ہوا لونگ 1 یونٹ کی تعمیر 2015 میں چین کیمشرقی صوبے فوجیان کے شہر فوچھنگ میں شروع ہوئی تھی جبکہ آزمائشی منصوبے کی مکمل تکمیل 2022 میں ہوئی۔ ہوا لانگ 1 ٹیکنالوجی کو اب بڑے پیمانے پر اپنایا جا چکا ہے ۔ اب تک ہوا لونگ 1 کے 41 ری ایکٹرز چین اور بیرون ملک میں یا تو کام کر رہے ہیں یا زیر تعمیر ہیں جس سے یہ دنیا بھر میں تیسری نسل کاسب سے بڑا نیوکلیئر فلیٹ بن گیا ہے۔ چینی نیوکلیئر ماہرین عالمی منڈیوں میں بھی فعال طور پر مواقع تلاش کر رہے ہیں۔مئی 2021 میں ہوا لونگ 1 نیوکلیئر پاور پلانٹ (کےـ2) نے شہر کراچی میں بجلی پیدا کرنا شروع کی۔ جولائی 2023 میں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ایک نئے ہوا لونگ 1 ری ایکٹر کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ چین سے بھجوائے کئے گئے دوسرے ہوا لونگ 1 نیوکلیئر ری ایکٹر، کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کےـ3 یونٹ نے 18 اپریل کو کامیابی سے حتمی منظوری حاصل کرلی۔ اس سے بیرونِ ملک پہلے ہوا لونگ 1 منصوبے کے تحت دونوں یونٹس (کےـ2 اور کےـ3) کی مکمل ترسیل ہوئی جس نہ صرف چین کی اس ٹیکنالوجی کی پختگی ظاہر ہوتی ہے بلکہ اس کی عالمی منڈی کیلئے موافقت کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔ منصوبے کی کامیاب تکمیل بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت صاف توانائی میں تعاون کیلئے قابلِ تقلید "چینی حل” فراہم کرتی ہے۔ یہ منصوبہ”مشترکہ مستقبل کے حامل چین ـ پاکستان معاشرے” کی تشکیل کیلئے چین اور پاکستان کے مل کر کام کرنے اور ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے۔

Exit mobile version