122

چین میں خطرناک ترین وائرس ’کرونا‘کی وبا پر وہاں مقیم پاکستانیوں کے رشتہ دار تشویش کا شکار ہیں

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق چین میں 28 ہزار پاکستانی طلبہ زیرتعلیم ہیں، چینی شہر ووہان میں جو اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہواہے 500 کے قریب پاکستانی طلبارہائش پذیرہیں جبکہ چین میں 800پاکستانی تاجر آباد ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 1500چینی تاجر آتے جاتے ہیں۔ترجمان کے مطابق طلبا ہمیشہ سفارت خانے میں رجسٹر نہیں ہوتے ہیںبلکہ وہ خود یاسکالرشپ پر چین جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین میں کرونا وائرس کی انتہائی خطرناک وبا پھیل گئی ہے جس کی وجہ سے ا ب تک پچیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔انتظامیہ خطرناک وائرس کورونا کی وبا کو پھیلاو¿ سے روکنے کے لیے شدید جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب لاکھوں افراد نئے چینی سال کی تقریبات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔بیجنگ اور ہانگ کانگ میں حکومت نے نئے سال کی بڑی تقریبات کو وائرس سے پھیلنے والے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دیا ہے تاکہ عوام آپس میں گھل مل نہ سکیں جس سے وائرس کے پھیلاو¿ کا خدشہ ہے۔ووہان شہر اور ہوبائی صوبہ جہاں سب سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے وہاں انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔
جمعے کو چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 25 افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 830 افراد میں مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ان مریضوں میں سے 177 کی حلات تشویشناک ہے جوکہ 34 علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔چین کے قومی کمیشن برائے صحت کے مطابق تصدیق شدہ کیسز کے علاوہ ایک ہزار سے زائد ایسے مریض ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ انھیں بھی کورونا وائرس نے متاثر کیا ہے۔ہوبائی صوبے میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں مگر چین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں اب تک صرف 13 تصدیق شدہ کیسز ملے ہیں۔اس کم تعداد کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک وائرس کو بین الاقوامی ایمرجنسی قرار نہیں دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں