چین کی کورونا وائرس سے جنگ جیتنے کی پیش گوئی کرنے والے نوبل انعام یافتہ پروفیسر نے کورونا کے خاتمے کی بھی پیشگوئی کردی

203

سٹینفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر مائیکل لیوٹ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا شدید ترین حملہ گزر چکا ہے، اب صورتحال اتنی خطرناک نہیں ہے جتنی بتائی جاتی ہے۔

پروفیسر لیوٹ نے چین میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے جنوری کے اعداد و شمار دیکھ کر ہی پیشگوئی کردی تھی کہ چین بہت جلد اس پر قابو پالے گا اور بعد میں ایسا ہی ہوا ۔ دنیا بھر کے طبی ماہرین کی جانب سے چین میں خطرناک صورتحال کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن پروفیسر مائیکل لیوٹ وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے کورونا وائرس کے خاتمے کی پیشگوئی کی تھی۔

روفیسر مائیکل لیوٹ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ چین میں 80 ہزار کے قریب لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہوں گے جبکہ 3 ہزار 250 کے قریب ہلاکتیں ہوں گی۔جمعرات کے روز چین میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 81 ہزار 782 ہے جبکہ اس وبا سے آج (جمعرات)کے دن تک 3 ہزار 287 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مودی بھبکیاں

پروفیسر لیوٹ نے ان 78 ممالک جہاں روزانہ کورونا کے 50 نئے کیسز سامنے آرہے ہیں کا تجزیہ کرکے کہا ہے کہ متاثرہ مریضوں سے میں سے بہت سے لوگوں میں صحتمندی کی علامات موجود ہیں۔ اس وقت کورونا سے متاثرین کی تعداد پریشان کن حد تک بڑھ چکی ہے لیکن اب اس کے پھیلاﺅ میں کمی آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سماجی فاصلے، عوامی اجتماعات پر پابندی ، ٹیسٹنگ سمیت دیگر اقدامات بہت ضروری ہیں کیونکہ یہ ایک نیا وائرس ہے جس کیلئے انسانی جسم میں قوت مدافعت نہیں ہے، اٹلی کے لوگ ویکسین کی امید پر گلیوں میں گھومتے رہے جس کی وجہ سے وہاں بہت تیزی کے ساتھ وائرس پھیلا ۔

پروفیسر لیوٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ افراتفری پر قابو پایا جائے کیونکہ بہت جلد دنیا کو اس وائرس سے چھٹکارا ملنے والا ہے۔