ڈائینگ کیڈر کا خاتمہ اور سکیل اپ گریڈیشن کا معاملہ نشنل پروگرام میں موجود جتنی بھی یونین تھی افسران یونین کو سکیل اپ گریڈیشن کے حوالے سے دھوکا دیتے رہے

30

ڈائینگ کیڈر کا خاتمہ اور سکیل اپ گریڈیشن کا معاملہ نشنل پروگرام میں موجود جتنی بھی یونین تھی افسران یونین کو سکیل اپ گریڈیشن کے حوالے سے دھوکا دیتے رہے روزنامہ پاکستان کی انوسٹی گیشن کے مطابق صوبہ پنجاب میں پنتالیس ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز ملازمین ہیں جب کے زرائع نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کے قانون ہی موجود نہیں تھا تو لیڈی ہیلتھ ورکرز کو محکمہ صحت کے افسران دھوکا کیا دیتے رہے اور سکیل اپ گریڈیشن کے لیٹر دیتے رہے اور جعل سازی کرتے رہے اور نشنل پروگرام کے ملازمین پر ایک اتھارٹی بھی قائم تھی جب تک اتھارٹی موجود تھی تو اتھارٹی کی موجودگی میں۔ اپ گریڈیشن ہو ہی نہیں سکتی تھی اصل حقائق اس وقت ظاہر ہوئے جب وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کابینہ کے اجلاس میں ڈائینگ کیڈر کے خاتمہ کی منظوری دی اور اسی تناظر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی اپ گریڈیشن کے قانون کی بھی منظوری دے دی جبکہ زرائع نے مزید بتاتے ہوئے کہا کے بات یاہاں ہی ختم نہیں ہوئی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو افسران لالی پاپ مسلسل دیتے رہے اور سروس بک سنیارٹی لسٹوں کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم کیے رکھا ضرورت اس امر کی ہے کے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ اس دھوکا دہی کرنے والے محکمہ صحت کے افسران کے خلاف کاروائی کون کرے گا جب قانون ہی موجود نہیں تھا تو ورکرز کو جھوٹی تسلیاں کیو دی گئی