بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.8°C
Thursday, 08 October 2026 | پاکستان: 27 ر بیع الثانی 1448

ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھکیں ۔مذاکرات اور پاکستان

Wednesday, 22 April, 2026

امن مگر درحقیقت ممکنہ کشیدگیوں سے جڑی ہوتی ہے امریکہ اور ایران کے تعلقات اسی پیچیدہ سیاسی شطرنج کا حصہ ہیں جہاں کشیدگی اور مذاکرات بیک وقت چلتے ہیں ایک طرف سفارتی میز پر بات چیت جاری رہتی ہے تو دوسری طرف میدان میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی پالیسی سازی میں ایسے حلقوں کا اثر بھی موجود رہا ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات سمجھے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطی کی پالیسی میں ایران کے حوالے سے سختی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے امریکی سیاست کے پس پردہ اگر کسی ایک شخصیت نے خاموش مگر گہرے اثرات چھوڑے ہیں تو وہ جیرڈ کشنر ہے ایک کاروباری ذہن ایک خاندانی وارث اور ایک ایسا مشیر جو بظاہر پس منظر میں رہ کر بھی فیصلوں کی سمت متعین کرتا رہا بطور داماد ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حیثیت محض خاندانی تعلق تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ امریکی خارجہ پالیسی خصوصا مشرق وسطیٰ کے معاملات میں ایک اہم کردار کے طور پر ابھرا کشنر کا پس منظر مکمل طور پر کاروباری ہے جہاں مفادات سرمایہ اور اثر و رسوخ ایک دوسرے میں گندھے ہوتے ہیں یہی سوچ جب سیاست میں داخل ہوتی ہے تو فیصلے محض نظریاتی نہیں رہتے بلکہ ان میں طاقت کے توازن اسٹریٹجک مفادات اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی جھلک نمایاں ہو جاتی ہے ایک مذہبی یہودی ہونے کے ناطے اس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہمیشہ زیر بحث رہے اور اس نے ایسے سفارتی اقدامات میں کردار ادا کیا جن کے نتیجے میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی بظاہر یہ ایک سفارتی پیش رفت تھی مگر ناقدین کے مطابق اس نے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ایران کے معاملے پر اس کا موقف ہمیشہ سخت اور واضح رہا ایران کے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور اس کے بعد دبا میں اضافہ اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں یہاں یہ سوال اب بھی زندہ ہے کہ آیا یہ صرف امریکی ریاستی مفاد تھا یا اس میں علاقائی اتحادیوں کی ترجیحات بھی شامل تھیں یہ وہ مقام ہے جہاں آرا بٹ جاتی ہیں اور تجزیہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے اگر اس پورے منظرنامے کو ایک سپاہی کی نظر سے دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ سفارتی میزوں پر بھی ایک خاموش مگر مسلسل جنگ جاری رہتی ہے جہاں گولیوں کی جگہ الفاظ اور ہتھیاروں کی جگہ پالیسیاں استعمال ہوتی ہیں اور ایک فیصلہ پورے خطے کا مقدر بدل سکتا ہے یہ کہنا کہ کوئی شخصیت خفیہ مفادات کے تحت کام کر رہی ہے ایک سنگین دعوی ہے جس کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پالیسیوں میں اسرائیل کے مقف کا اثر اور ایران کے حوالے سے سختی ایک مستقل عنصر کے طور پر سامنے آتی رہی ہے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک اس بات پر تقریبا متفق دکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ کسی سادہ سفارتی عمل کا تسلسل نہیں بلکہ ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن موڑ ہے ایسا موڑ جہاں الفاظ کے پیچھے طاقت اور خاموشی کے پیچھے حکمت عملی چھپی ہوتی ہے۔
حالیہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا بلکہ واضح عندیہ دیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے عالمی تجزیہ نگار اس بیان کو محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک منظم دباؤ کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد مذاکرات کی میز پر فیصلہ کروانا ہوتا ہے آبنائے ہرمز اس وقت عالمی معیشت کی شہ رگ بن چکی ہے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں اسی لیے ماہرین اسے قابو میں رکھی گئی کشیدگی کہتے ہیں ایک ایسی کیفیت جو بظاہر سنبھلی ہوئی ہے مگر اندر ہی اندر شدت اختیار کر رہی ہے امریکہ کے اندر بھی مکمل یکسانیت نہیں کچھ حلقے سخت اقدام کے حامی ہیں جبکہ دیگر سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں یہی تضاد ایک دوہری حکمت عملی کو جنم دیتا ہے ایک طرف مذاکرات دوسری طرف طاقت کا اظہار تاکہ مخالف کو غیر یقینی کیفیت میں رکھا جا سکے ایران بھی اسی حکمت عملی کے تحت چل رہا ہے ایک جانب وہ اپنی خودمختاری پر زور دیتا ہے دوسری طرف مذاکرات کے دروازے مکمل بند نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو نہ جنگ نہ امن کا مرحلہ کہا جا رہا ہے اصل سوال اب بھی وہی ہے کیا یہ واقعی امن کی کوشش ہے یا ایک بڑے تصادم سے پہلے کی تیاری تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں مذاکرات کو اکثر وقت حاصل کرنے اور اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں اسی تناظر میں موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سفارتکاری کے پردے میں طاقت کی خاموش چالیں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر بھی مرکوز ہیں جہاں ممکنہ مذاکرات اس پورے منظرنامے کا رخ بدل سکتے ہیں کامیابی کی صورت میں استحکام کی امید پیدا ہوگی اور ناکامی کی صورت میں ایک نئی عالمی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔ ایران کے معاملے پر اس کا رویہ سخت اور واضح سمجھا جاتا رہا ایران کے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور ایران پر دبا بڑھانے کی پالیسی اسی سخت مقف کی عکاس تھی یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ آیا یہ محض امریکی ریاستی مفاد تھا یا اس میں علاقائی اتحادیوں کی ترجیحات بھی کسی حد تک شامل تھیں اگر اس پورے منظرنامے کو ایک سپاہی کی نظر سے دیکھا جائے تو حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ سفارتی میزوں پر بھی ایک خاموش مگر مسلسل جنگ جاری رہتی ہے جہاں فیصلے گولیوں سے نہیں بلکہ پالیسیوں سے ہوتے ہیں اور ایک فیصلہ پورے خطے کا رخ بدل سکتا ہے یہ کہنا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی خفیہ مفاد کے لیے کام کرتا ہے یا کسی کے کہنے پر مذاکرات کو ناکام بناتا ہے ایک سخت موقف ہے جس کیلئے واضح اور ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *