Home » کالم » ڈینگی اورحکومتی اقدامات

ڈینگی اورحکومتی اقدامات

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں اور سالانہ بیس ہزار سے زائد افراد اس کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں جس میں سے پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے ۔ ڈینگی فیور سے بچاءو کی نہ تو کوئی دوا ہے اور نہ ہی کوئی ٹیکہ ۔ ڈینگی بخار کو صرف حفاظتی تدابیر سے روکا جا سکتا ہے ۔ پاکستان سمیت ایشیا میں ڈینگی بخار کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایشیا میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ کئی علاقوں میں شدید بارشیں سیلاب اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے ۔ پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا رہا ہے ۔ اگست، ستمبر میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے لیے اسپیشل وارڈ بنا دیئے ہیں ۔ پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ڈینگی مچھر سے متاثرہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ 2010-11ء میں ڈینگی بخار کرنے والے مچھر نے پنجاب میں عموماً اور لاہور میں خصوصاً تباہی مچائی ۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نے دل جمعی سے ڈینگی کے خلاف مہم چلائی ۔ سری لنکا اور انڈونیشیا سے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹی میں لاہور آئیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اس حد تک ڈینگی کے خلاف منہمک تھے کہ انہیں اس وقت ’’ڈینگی برادران‘‘ کا طعنہ دیا گیا ۔ ہمارے دوست ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ڈینگی کے حوالے سے بہت سے معلومات بہم پہنچائیں جنہیں میں آپ سے شیئر کررہا ہوں ۔ ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بہت نفیس اور صفائی پسند ہے ۔ یہ خطرناک مچھر گندے جوہڑوں میں نہیں بلکہ بارش کے صاف پانی گھریلو واٹر ٹینک کے آس پاس صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں ، گھڑوں اور گلدانوں ، گملوں وغیرہ میں رہنا پسند کرتے ہیں ، جو گھروں میں عام طور پر سجاوٹ کے لیے رکھے جاتے ہیں ۔ یہ مچھر انسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس بخار کا علم تین سے سات دن کے اندر ہوتا ہے ۔ عام سے نزلہ بخار کے ساتھ شروع ہونے والا بخار شدید سر درد پٹھوں میں درد اور جسم کے جوڑ جوڑ کو جکڑ کر انسان کو بالکل بے بس کر دیتا ہے اسی وجہ سے اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے جسم کے اوپری حصوں پر سرخ نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔ نوعیت شدید ہو جائے تو ناک اور منہ سے خون بھی جاری ہو جاتا ہے ۔ ڈینگی کی بیماری کی ابتدائی علامات میں بخار، کمزوری پسینہ آنا اور بلڈ پریشر کم ہو جانا شامل ہیں ۔ آہستہ آہستہ یہ جسم کے سارے نظاموں پر اثر کرتا ہے ۔ خون کی باریک نالیاں پھٹنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ جسم کے جس حصہ پر یہ دھبے نمایاں ہوں وہ حصہ نمایاں ہوتا ہے ۔ جب یہ بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو مریض کی موت بھی ہو سکتی ہے لیکن زیادہ تر مریض ایک یا ڈیڑھ دن میں بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ بہتری نہ ہونے کی صورت میں بخار، سر درد، پٹھوں ، جوڑوں میں درد، بھوک کم لگنا، الٹی آنا، پسینہ زیادہ آنا، جسم ٹھنڈا ہو جانا جیسی علامات ہوتی ہیں ۔ مریض کا بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے نبض ۔ آہستہ آہستہ اور کمزور ہو جاتی ہے ۔ جسم پر دھبے پڑ جاتے ہیں اور جگر بڑھ جاتا ہے ۔ جب بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو فالج بے ہوشی، لقوہ جیسی علامات ہوتی ہیں یا تو مریض کے جسم کا کوئی حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا وہ بے ہوش ہو جاتا ہے ۔ اس بیماری کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کیے جاتے ہیں ۔ دماغ اور حرام مغز میں پہنچنے والی بیماری کی تشخیص سی ٹی ;6784; اور ایم آر آئی ;778273; سکین سے کی جاتی ہے ۔ پہلے مرحلے میں ہی مریض کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے جس کی وجہ شدت کا بخار اور درد ہے ۔ تین سے چار دنوں میں بخار میں کمی آ جاتی ہے اور مریض کی حالت سنبھلنے لگتی ہے ۔ اس مرض کا بچاءو صرف اور صرف ڈینگی مچھر سے بچاءو ہے ۔ جہاں جہاں یہ مچھر پیدا ہو وہاں اس کے لیے مچھر مار دواءوں کا استعمال کثرت سے کرنا چاہیے ۔ مارکیٹ میں ایسے تیل بھی ہیں جو جسم اور ہاتھوں کے کھلے حصے پر لگانے سے مچھر آپ کو نہیں کاٹتا ۔ اس بیماری کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے ۔ بیماری کے دوران مکمل آرام کیا جائے ۔ پینے والی اشیاء صاف پانی، مشروبات فریش فروٹ جوس سوپ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے ۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کے سوپ کا استعمال بھی مریض کی توانائی بحال کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ بہرحال پرہیز علاج سے بہتر ہے اس مچھر سے ;65;edes ;65;egypti کو پھلنے پھولنے سے مکمل طور پر روکا جائے ۔ سب سے اہم بات ایسی جگہوں پر اسپرے ہے جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں اسی طرح سے جہاں بھی پانی کھڑا ہو جائے وہاں پانی کو کھڑا نہ ہونے دیا جائے ۔ جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں فوراً اسپرے کیا جائے ۔ گھروں میں مچھر کے بچاءو کی تدابیر کرانی چاہئیں جن میں مچھر دانی یعنی ;77;osquite net کا استعمال بہت ضروری ہے ۔ ڈینگی کے علاج کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔ اس سلسلے میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوساءٹی کے تحت چلنے والا فلاحی ہسپتال میں ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں کا جوس نکال کر اس میں چند دوسری مفید جڑی بوٹیاں شامل کر کے ’’شربت پپیتہ‘‘ تیار کیا گیا ہے ۔ پپیتہ کے پتے ڈینگی کا بخار ختم کرنے، جسم میں مدافعت پیدا کرنے اور بیماری کی حالت میں خون کی ’’پلیٹلٹس کی مقدار‘‘ نارمل رکھنے میں بے حد کارآمد ہیں ۔ پپیتہ کے پتوں میں ایک انزائم ’’پاپین‘‘ پایا جاتا ہے ۔ جس میں 212 امائنو ایسڈ ہوتے ہیں ۔ یہ انزائم جسم میں داخل ہو کر ڈینگی وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے جس سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ وائرس کے ختم ہونے سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار بھی نارمل ہو جاتی ہے ۔ گزشتہ سالوں میں میں ڈینگی کے خلاف شربت پپیتہ کا وسیع پیمانے پر ا ستعمال کیا گیا ۔ لاہور میں ہزاروں لوگ اس شربت کی بدولت شفایاب ہوئے اور ہزاروں ڈینگی سے محفوظ رہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative