کائنات کے دوردرازکونے پرایک سیارہ دریافت ہوا ہے جو سورج کے گرد صرف 18 دن میں اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے

11

اب تک کسی ستارے کے گرد کسی سیارے کی سب سے مختصر ترین دورانیے کی گردش کا انکشاف ہوا ہے اور اس کا نام این جی ٹی ایس 10 بی رکھا گیا ہے۔ یہ ہمارے نظامِ شمسی کے سیارے مشتری، جوپیٹر سے ملتا جلتا ہے اور قدرے گرم بھی ہے۔

اس کی تفصیلات نوٹسس آف دی رائل ایسٹرونامیکل سوسائٹی میں شائع ہوئی ہے۔ اس کا سب سے اہم پہلو ہے کہ ایسے سیارے اپنی گردش کے دوران دھیرے دھیرے سورج کی جانب مائل ہوتے رہتے ہیں اور آخر کار اس کے اندرجاگرتے ہیں۔
ماہرِ فلکیات ڈینیئل بیلس نے کہا کہ اگلے دس سال میں مدار سے ہٹ کر یہ مرغولہ نما گردش شروع کرے گا یعنی اپنے سورج کی جانب بڑھے گا اور ہر چکر میں اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اگلے دس سال تک اسے نظر میں رکھیں گے۔ اس طرح ہمیں سیارے کی ساخت اور اس مظہر کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں

جاؤں کدھر کو میں۔۔۔؟

اندازہ لگایا گیا ہے کہ خود اس کے سورج اور سیارے کو بنے دس ارب سال گزرے ہیں اور شاید یہ سیارہ اپنے آخری مراحل سے گزررہا ہے۔ سیاروں کی تلاش کے ایک منصوبے دی نیکسٹ جنریشن ٹرانزٹ سروے (این جی ٹی ایس) پروگرام کے تحت اسے دریافت کیا گیا ہے اور یہ ہم سے 1000 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

اگر ہمارے نظامِ شمسی میں سورج سے سب سے قریب ترین سیارے عطارد سے موازنہ کیا جائے تو این جی ٹی ایس 10 بی اس سے بھی 27 گنا قریب ہے۔ اس صورتحال میں اسے اپنے سورج کی حدت سے جل کر تباہ ہوجانا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا