کابالاغ ڈیم کے ا غراض ومقاصد

23

جوں جوں عام انتخابات کے دن قریب آتے ہیں ۔ہر سیاسی پا رٹی کی کو شش ہوتی ہے کہ وہ ہر صوبے کے عوام کو اور بالخصوص پنجاب کے عوام کواپنے طر ف متوجہ کریں اور انکی حمایت حا صل کریں۔ ہر سیاسی پا رٹی اس صوبے میں لائبنگ کیلئے کو شش کر رہے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ جس پا رٹی کی پنجاب میں اکثریت ہوتی ہے وو وفاقی اور پنجاب کے بڑے صوبے میں حکومت بنا لیتے ہیں ۔ ق لیگ نے 2018کے الیکشن کیلئے کالا باغ کو ایشو بنایا ہے اور کہتے ہیں کہ کالا با غ ڈیم ضرور بنے گا۔ کالا با غ ڈیم حکومت پاکستان نے 1953 میں منظور کیا۔ اس منصوبے کا مقصد پا نی کا ذخیرہ کر نا تھا اور 1973 تک اس منصوبے کو پانی ذخیرے کا منصوبہ کہا گیا۔ اُ س وقت کالا با غ ڈیم پر لاگت کا کل تخمینہ 5 ارب ڈالر لگا یا گیا تھا اور اب اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ15 ارب ڈالر لگا یا گیا ہے ۔ خیر آباد کے مقام جہاں پر دریائے کابل اوردریائے سندھ ملتے ہیں، کالاباغ ڈیم اسی پوائنٹ سے 92 میل ڈون سٹریم یعنی نیچے کی طرف فا صلے پر ہے ۔اس منصوبے کے پی سی ون کے مطا بق اس ڈیم میں 105 ملین ایکڑ فُٹ پا نی ذخیرہ کر نے کی گنجائش ہو گی ، علاوہ ازیں اس سے 2400 میگا واٹ سے لیکر 3600 میگا واٹ تک بجلی بھی حا صل کی جا سکے گی۔ کا لا با غ ڈیم کی جھیل کاکل رقبہ162 مربع میل ہو گا اس میں 92 میل دریائے سندھ کی طر ف، 36 میل سوان کی طر ف اور 10 میل دریائے کا بل کی طر ف ہو گا۔ماہرین کے مطابق اس جھیل سے 1,36000 ایکڑ زمین نیچے آئیگا۔ایک مختاط اندازے کے مطابق اس سے تقریباً 2 لاکھ لوگ بے گھر ہو نگے، جس میں ایک لاکھ 20 ہزار خیبر پختون خوا سے اور 80 ہزار پنجا ب سے بے گھر ہو نگے۔کالا با غ ڈیم کی تعمیر کے بعد ایک سے لیکر 4 سال بعد 60 ہزار ایکڑ مزید زمین سیلاب سے متا ثر ہو گی اور20 دیہات زیر آب آئینگے۔ اسکے علاوہ 70 ہزار مزید لوگوں کی سر دوبارہ بحالی کرنی پڑے گی اور ایک لاکھ 75 ہزار مزید لوگوں کو اپنے مال اور جائیداد کو محفوظ کر نے کی ضرورت پڑے گی۔ پو ری دنیا میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کا رواج تقریباً ختم ہو رہا ہے ۔ کیونکہ ایک تو یہ دفاعی نو عیت سے محفوظ اور ما حول دوست ہوتے ہیں۔ عالمی بینک اور دوسرے بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں نے ما حو لیاتی بگاڑ، لوگوں کے بے گھر ہو نے اور قدرتی آفات کی وجہ سے بڑے ڈیموں کیلئے قرضے دینا بند کر دیئے ۔ اور امریکہ اور دوسرے یو رپی ممالک میں جو بڑے ڈیم موجود بھی ہیں اُنکو بھی توڑ ا جا رہا ہے۔ عالمی بینک اور دوسرے بین الا قوامی برادری کو مجبو رکر رہے ہیں کہ بڑے ڈیموں کے بجائے چھوٹے اور در میانہ ڈیموں کی تعمیر اور متبادل ذرائع توانا ئی کی فروع پرخصوصی توجہ دی جائے۔کا لا باغ ڈیم پر ماسوائے پنجاب کے تینوں صوبوں کے تحفظات ہیں اور وطن عزیز کی تینوں صو بائی اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں قراردادیں بھی منظور کی ہیں۔ اگر ہم جمہوری قدروں اور جمہو ریت پر یقین رکھتے ہیں تو جب تینوں صوبائی اسمبلیوں نے انکے خلاف قرار دیدیں منظور کی ہیں تو اسکو بنانے کے بارے میں سو چنا بند کریں۔ کا لا با غ ڈیم جنکی اونچائی تقریباً 940فٹ ہو گی اس سے 25 کلو میٹر نیشنل ہائی وے پانی میں ڈوب جائے گا۔ اسکے علاوہ 4 کلومیٹر مردان نو شہرہ سڑک ، 15 کلومیٹر نظام پور اٹک سڑک اور 25 کلومیٹر پیر سباق جہانگیرہ سڑک پانی میں ڈوب جائے گا۔ علاوہ ازیں خیر آباد اور نو شہرہ کے در میان 8 کلو میٹراور نو شہرہ اور مردان کے درمیان 12کلومیٹر ریلوے پٹڑی پانی میں ڈوب جائے گی۔ اور خو شحال گڑھ کا پُل پانی میں مکمل طو ر پر ڈوب جائے گا اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے خیر آباد پُل 20 فٹ مزید اونچا تعمیر کر نا پڑے گا۔کا لا باغ کی اونچائی 940 فٹ کریسٹ الیویشن ہے۔ 1929 اور 1978 میں اس علاقے میں جو سیلاب آیا تھا اُسکی اونچائی بالترتیب 951 فٹ اور 945 فٹ تھی ۔ ڈا کٹر کنیڈی کے رپورٹ کے مطابق اگر 1929 اور 1978 کی طرح سیلاب آتا ہے تو اس سے نہ صرف چا ر سدہ مر دان صوابی، جہانگیرہ بلکہ پشاور ویلی اور کئی اور علاقے بھی پانی میں ڈوب جائیں گے بلکہ یہ سیلابی پانی کالاباغ ڈیم کی جھیل سے بھی اونچا ہو گا۔اسکے علاوہ اس سے غا زی بر وتھا کو بھی انتہائی نُقصان پہنچ سکتا ہے۔پانی کے بیک پریشر کی وجہ سے مر دان ، چا ر سدہ صوابی سکارپ جس پر تربیلا ڈیم کی وجہ سے اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں، یہ منصوبہ قطعی طو رپر ناکام ہو جائے گا۔علاوہ ازیں کالا باغ ڈیم کے بننے کے بعد زمین میں پانی جذب ہوگی اور اس سے نئی اور پرانی دونوں عمارتیں تباہ ہو جائیں گی۔کیونکہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بعد نو شہرہ مردان، صوابی ، جہانگیرہ ، چار سدہ اور پشاور وادی میں پانی ان عمارتوں کی بنیادوں میں چلا جائے گا۔کرک اور مضافاتی علاقوں میں کا لا باغ ڈیم کی وجہ پانی کھارا یعنی نمکین ہو جائے گا جو پینے کے قطعاً قابل نہیں ہو گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ڈیم نہ صرف زلزلوں والے علاقے میں موجود ہے بلکہ یہ میاں والی کالاباغ ، کھیوڑہ اور کو ہاٹ کا علاقہ سا لٹ رینج میں واقع ہے جس سے اس ڈیم کو مزید نُقصان پہنچ سکتا ہے۔جہاں تک بلو چستان کے تحفظات کا تعلق ہے گر کالابا غ ڈیم بن گیا تو اس سے بلو چستان کی پانی میں مزید کمی ہوگی۔ بلو چستان گدو اور پٹ فیڈر سے 3400کیوسک پانی لیتا ہے جو کہ 3 لاکھ ایکڑ زمین کو سیراب کر رہا ہے۔ اگر کالاباغ ڈیم بن گیا تو اس سے بلو چستان کی پانی میں مزید کمی واقع ہو گی۔کیو نکہ دریائے سندھ کی استعداد میں کمی آجائے گی جسکی وجہ سے بلو چستان کی مستقبل کی ضروریات پو را کر نے کیلئے پانی مہیا نہیں ہو گا۔ اسکے علاوہ صوبہ بلو چستان کی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے تینوں صوبائی اسمبلیوں نے کا لاباغ ڈیم کے خلاف قرار دادیں منظور کی ہیں تو پھر پنجاب زبر دستی اپنی مر ضی چھوٹوں صوبوں پر کیوں ٹھونسنا چاہتا ہے۔ جہاں تک سندھ کا تعلق ہے تو انکا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا تو سیلاب کی تباہ کاری سے تباہ و بر باد ہو جائے گا جبکہ صوبہ سندھ پانی کی کمی کی وجہ سے انتہائی نامساعد حالات کا سا منا کرے گا۔اُنکا کہنا ہے جب سمندر میں پانی کم ہو جائے گا تو اس سے کچھو میں نہ صر ف تباہی آجائے گی بلکہ ایک لاکھ لوگ نقل مکانی کریں گے اور 3 لاکھ وہ لوگ جو سمندر ی جنگلات سے وابستہ ہیں وہ بُری طرح متاثر ہو نگے۔
*****