- الإعلانات -

کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں زمین ہلنے کی شرح میں نمایاں کمی

کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں زمین ہلنے کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے. کورونا وائرس کے خوف سے دنیا بھر کے شہروں کی گلیاں اور بازار لوگوں سے خالی ہیں، دنیا بھر میں اربوں افراد کورونا وائرس کی وبا کے خوف اور حفاظتی اقدامات کی وجہ سے گھروں تک محدود ہیں یا ان کی نقل و حرکت محدود ہے جس کی وجہ سے ہمارے سیارے زمین کے حرکت کرنے کے انداز پر بھی فرق پڑ رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام یا تفریحی کی غرض سے ٹرینوں اور گاڑیوں کا سفر بہت کم رہ گیا ہے جبکہ بہت سے بھاری کارخانے بھی بند ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر انسانی سرگرمیوں میں کمی سے زمین کی سطح پر پیدا ہونے والا ارتعاش بھی کم ہو گیا ہے۔ ہماری زمین کے کل وزن 600 ارب کھرب ٹن کے پش نظر یہ بڑا حیران کن ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیلجیئم میں رائل آبزرویٹری کے سائنسدانوں نے اس بات کو سب سے پہلے محسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ زمین کی تھرتھراہٹ کی فریکوئنسی 1-20 ہرٹز کے درمیان ہے اور ایسا سماجی پابندیاں لگنے کے بعد ہوا ہے۔ یاد رہے کے ایک سے 20 ہرٹز کی فریکوئنسی سے نکلنے والی آواز ایک بڑے گٹار یا موسیقی کے بڑے آلے سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ اسی طرح کی تبدیلی دنیا میں دوسرے کئی مقامات پر بھی مشاہدے میں آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیپال میں زلزلوں کے ماہرین سیسمولوجسٹس نے بھی اس ارتعاش میں کمی کو محسوس کیا ہے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں قائم پیرس انسٹی ٹیوٹ آف ارتھ فزکس سے وابستہ حکام نے کہا ہے کہ پیرس میں یہ کمی بڑی ڈرامائی ہے جبکہ امریکہ میں کال ٹیک یونیورسٹی لاس اینجلس کے ماہرین نے اس کو شدید قرار دیا ہے۔ اسی طرح نیپال میں بھی زمینی ارتعاش میں بھی ڈرامائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس صرف اس طرح ہی ہماری زندگیوں پر اثر انداز نہیں ہو رہا بلکہ قدرتی دنیا پر بھی اس کے واضح اثرات مرتب ہو رہے ہیں. سائنسدانوں نے گاڑیوں، ٹرکوں، بسوں اور بجلی بنانے والے کارخانوں سے نکلنے والی نائٹروجن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج میں بھی کمی محسوس کی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا نے کئی سیاحتی بحری جہازوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ایسے جہاز کھڑے ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے سمندر واضح طور پر زیادہ پرسکون ہے۔ سائنسدان اپنی تحقیقی سرگرمیوں کے دوران ہر روز مختلف شہروں میں شور کو ماپنتے ہیں اور سمندر کی گہرائیوں پر تحقیق کرنے والوں کو بھی شور میں کمی کے واضح اشارے ملے ہیں۔ سیسمولوجیکل تحقیق کے مطابق ہماری زمین میں ارتعاش بالکل ختم نہیں ہوا بلکہ پہلے کے مقابلے میں بہت واضح فرق سے کم ہوا ہے جو مفید بھی ہے. واشنگٹن میں قائم تحقیقاتی ادارہ سے منسلک سیسمولوجسٹ اینڈی فراستو نے کہا کہ ایسے سگنل مل رہے ہیں جن میں شور کم ہے جس کی وجہ سے زیادہ معلومات اخذ کرنے میں آسانی ہو رہی ہے. رپورٹ کے مطابق امپیرئل کالج لندن کے سٹیون ہکز نے کہا ہے کہ کم شور کی وجہ لندن اور ویلز کے درمیان شاہراہ ایم فور پر کم ٹریفک ہے. انھوں نے کہا کہ بہت واضح ہے کہ گذشتہ کچھ دنوں سے صبح کے اوقات میں شور کی سطح پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ مصروفیت کے اوقات کے دوران رش میں کمی ہے کیونکہ بہت کم لوگ سفر کر رہے ہیں اور بچے سکول بھی نہیں جا رہے۔ زمین کی اوپر والی تہہ 70 کلومیٹر گہری یا موٹی ہے لیکن اس کے باوجود وہ انسانی سرگرمیوں سے ہلتی ہے۔ نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس طرح کی تبدیلیوں کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں کیونکہ انسانی سرگرمیوں کا انداز ہر روز اور ہر سال بدلتا رہتا ہے اور بعض اوقات میں بہت لوگ کم سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ ماہرین نے مزید کہا کہ دن کے مقابلے میں رات کے وقت نسبتاً سکون ہوتا ہے جبکہ مختلف تہواروں اور چھٹیوں میں بھی سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کئی ہفتوں اور مہینوں تک طویل ہونے کا امکان ہے اور عام حالات میں اس طرح مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ممالک میں صرف کرسمس کے دوران ہی ہوتا ہے۔