- الإعلانات -

اتنی بڑی تباہی کیسے ہوئی؟ ٹرمپ کے الزامات پراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خاموشی توڑ دی،بروقت ردعمل دے دیا

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ برائے صحت پر شدید تنقید اور فنڈنگ روکنے کے اعلان پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بھی خاموشی توڑ دی۔ امریکی الزامات پر ردعمل کااظہارکرتے ہوئے انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ ’وقت آئے گا جب ہم دیکھ سکیں گے کہ وبا کیسے پھیلی اور عالمی سطح پر اس سے اتنی تباہی کیسے ہوئی۔۔۔ لیکن ابھی یہ وقت نہیں۔۔۔ یہ ایسا وقت نہیں کہ عالمی ادارہ صحت کی امدادی کارروائیوں کے لیے اس کے وسائل کم کر دیے جائیں۔‘

امریکی صدر کے الزامات پر نہ صرف انتونیو گوٹیرس نے بلکہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے بھی ردعمل دیا ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ’ایسے وقت میں ہمیں معلومات کا تبادلہ کرنا چاہیے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسی ہدایات ملیں جن پر ہم عملدرآمد کر سکیں۔ ایسا عالمی ادارہ صحت نے کیا ہے۔ ہم اس کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘

بی بی سی کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں وزارت خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین ایلیئٹ اینجل نے کہا ہے کہ ’اس بحران کی صورتحال مزید خراب ہونے سے صدر اپنا اصل سیاسی رویہ ظاہر کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پر الزام لگایا جائے، چین پر الزام لگایا جائے، سیاسی حریفوں پر الزام لگایا جائے یا اپنے سے پہلے رہنے والے سربراہان پر الزام لگایا جائے۔‘تاہم صدر ٹرمپ کو ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں کی طرف سے حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔

 خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ نے کہا ہے کہ دنیا بھرمیں کورونا وائرس کی وجہ سے بڑے پیمانوں پر ہلاکتوں کا ذمہ دار عالمی ادارہ صحت ہے۔ اور اس کا اس ضمن میں احتساب بھی ہونا چاہیے، امریکی صدر نے نہ صرف عالمی ادارے پر برہمی کااظہارکیا ہے بلکہ اسے چین کی جانبداری کرنے اور اس کے فنڈز روکنے کابھی اعلان کیاہے۔