- الإعلانات -

کوو ڈـ19 مشترکہ دشمن ہے،اس سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے دنیا کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کوو ڈـ19 مشترکہ دشمن ہے،اس سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے دنیا کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے’ نامساعد حالات کے باوجود پاکستان، دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح انسانی زندگیوں اور معیشت کو بچانے کیلئے پر عزم ہے۔وہ جمعرات کو وزارت خارجہ میں، پاکستان پریپیرڈنس اینڈ رسپانس پلان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور چیرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل سمیت ڈی جی، عالمی ادارہ ء صحت ٹیڈروس اندھانوم ،ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے نائب صدر ڈاکٹر بمبنگ سوسنتونو، عالمی بنک گروپ کے نائب صدر ہارٹ ونگ شافر نے شرکت کی وزیر خارجہ نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک سے معاشی بوجھ کو کم کرنے کیلئے پالیسی فریم ورک مرتب کرنے کے حوالے سے عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بنک، ایشیائی انفراسٹرکچر آیند ڈویلپمٹ بنک کا کردار قابل تحسین ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولین ہرنیَز کی انتھک کاوشوں پر ان کا تہہ شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم ایک تاریخ ساز وقت میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔کرونا وبا کے باعث پوری دنیا، صحت اور معیشت کے حوالے سے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ہمیں لوگوں کی جانیں اور معیشت دونوں کو بچانا ہے جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وبائی چیلنج کے خلاف جس طرح ہمارے اور پوری دنیا میں ڈاکٹرز، نرسز، اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں اس پر ان کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے، عالمی برادری مشترکہ طور پر اس وبا کے خلاف نبرد آزما ہے۔عالمی اعداد و شمار کے مطابق آج تک 169006 لوگ اس وبا کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ دو ملین سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔صرف پاکستان میں کرونا کے کنفرم کیسز کی تعداد 10,513 ہے اور 224 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور یہ اعداد و شمار تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان تمام نامساعد حالات کے باوجود پاکستان، دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح انسانی زندگیوں اور معیشت کو بچانے کیلئے پر عزم ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے کوووڈ 19 سے نمٹنے کیلئے قومی اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا جس کا اہم مقصد نیشنل پریپیرڈنس اینڈ رسپانس پلان تیار کرنا تھا۔آج ہم اس نیشنل پریپیرڈنس اینڈ رسپانس پلان (PPRP) کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ،صوبائی صحت کے شعبے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کی باہمی مشاورت سے اس منصوبے کو مرتب کیا گیا۔اس منصوبے کی رو سے ہم نے صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے ابتدائی طور پر 595 ملین ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں اپنی ٹسٹنگ اور کوارنٹائین سہولتوں کو بڑھانا ہے۔ہمیں تربیت یافتہ سٹاف، صحت سے متعلقہ سازوسامان کی کمی کا سامنا ہے۔یہ نیشنل پریپیرڈنس اینڈ رسپانس پلان انہی فوری ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مرتب کیا گیا ہے۔ہم نے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت پاکستان اب تک 124,549 کرونا ٹیسٹ کر چکی ہے۔ہم 11000کرونا ٹیسٹ روزانہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ہمارے پاس 52 لیبارٹریز ہیں اور مثبت کیسز کی شرح 8 فیصد ہے۔ہمارے پاس 70 ریپڈ رسپانس ٹیمیں ہیں جو انتہائی کم ہیں۔پاکستان میں ہر ایک ملین میں 506 اشخاص اس وائرس سے متاثر ہیں۔حکومت پاکستان نے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ملک گیر لاک ڈاؤن کیا۔ لاک ڈاؤن کو جزوی طور پر ان علاقوں میں کھولا جا رہا ہے جہاں غربت کی شرح زیادہ ہے تاکہ لوگوں کو بھوک سے بچایا جا سکے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے مابین رابطے کو موثر بنانے کے لیے ہم نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا۔ وبا کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ وائرس سے متاثرہ افراد کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے۔ہمیں اس ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا اور اپنی ٹیسٹنگ استعداد کار کو 20000 روزانہ کی حد تک بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 154 اضلاع کیلئے فی کس ایک لیبارٹری درکار ہو گی۔ ہمیں دس ہزار وینٹی لیٹرز کی فوری ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کرونا وبا سے نمٹنے کیلئے عالمی قیادت کو آگے آنا ہوگا۔کرونا وبا، جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے لہذا اس پر قابو پانے کیلئے ہمارے قومی وسائل ناکافی ہیں