- الإعلانات -

وزارت صحت کی بروقت تیاریوں اور کوششوں نے کووڈ۔19 کی وباءکے ناقابل یقین حد تک خطرناک نقصانات سے بچنے میں مدد دی ،

 وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈنیشن نے بروقت، موثر حکمت عملی اور تیاریوں کی بدولت پورے خطے میں سب سے پہلے کورونا وائرس کی وباءکے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے، پوری دنیا باالخصوص کم اور متوسط آمدنی والے ممالک نے کووڈ19۔ سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے ان منفرد اقدامات کو سراہا ، چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے پھیلاءکے ساتھ ہی پاکستان کی وزارت صحت نے اپنی تیاریاں شروع کردیں، بروقت تیاریوں اور کوششوں نے اس وباءکے ناقابل یقین حد تک خطرناک نقصانات سے بچنے میں مدد دی ۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی ) کے مطابق ووہان میں پہلی مرتبہ دسمبر 2019 ءمیں کوویڈ۔19 سامنے آیا ، 30جنوری کو پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ڈکلیئر کی گئی ،کووڈ۔19کو 11 مارچ 2020 ءکو وبائی مرض قرار دیا گیا ۔ وزارت صحت نے پاکستان میں 15 جنوری 2020 کو قومی اور بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ اپنی پہلی باضابطہ مشاورت کا آغاز کیا جوکہ کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملی بارے ردعمل تھا ۔پاکستان میں کووڈ۔ 19رپورٹ ہونے کے بعد سے اب تک 104دنوں میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ،ریگولیشنز اینڈ کوآرڈنیشن(این ایچ ایس آر ) نے کوویڈ۔19کی قریبی مانیٹرنگ ، ماہرین کے ساتھ باضابطہ مشاورت، اقدامات ، کوآرڈنیشن کو یقینی بنایا، اس وقت پاکستان کووڈ۔19کے دومراکز کے درمیان سینڈوچ بنا ہوا تھا ،ہماری بروقت تیاریوں اور کوششوں نے ناقابل یقین حد تک اس وبا کے خطرناک نقصانات سے بچنے میں مدد دی ، پاکستان کی تیاریاں اور بہتر اقدامات کو پوری دنیا بلخصوص کم اور متوسط ممالک نے سراہا ہے۔ان کوششوں کی قیادت کرتے ہوئے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ،ریگولیشنز اینڈ کوآرڈنیشن نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کے قیام سے قبل ہر سطح پر بے مثال ہم آہنگی کو یقینی بناتے ہوئے کووڈ۔19 کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے مناسب فورم اور کمیٹیاں تشکیل دیں، ان میں بین الاقوامی شراکت داروں، ماہرین، چین اور ایران کے ساتھ موثر کوآرڈنیشن کی گئی ۔ کوآرڈنیشن میکنزم میں متعدی بیماریوں، وبائی امراض اور وائرولوجی کے حوالے سے ماہرین پر مشتمل کور گروپ کا قیام ،چین اور ایران کے سفیر سفیروں اور وزراءصحت سے کوآرڈینشن، بین وزارتی اجلاس، صوبائی چیف سیکرٹریز ، ڈجی صحت کی سطح پر بین الصوبائی اجلاس اور تبادلہ خیال، ڈونر پارٹنر میٹنگز اور کوآرڈینیشن، قومی سلامتی کوآرڈنیشن اجلاس کا تصور اور اجلاس، قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی)کاآپریشنل اور نتائج پر مبنی حتمی فریم ورک طے کرنا ، او آئی سی کانفرس کرناشامل ہے ۔صحت سے متعلق تکنیکی وزارت ہونے کے ناطے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈنیشن کی اولین اور اہم ذمہ داری میں بیماری سے متعلق تازہ ترین معلومات ، وائرس کے اثرات کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی راہنمائی کرنا شامل ہے ۔تمام گائیڈ لائن اور ایس ایس پیز کی دستاویزات ماہرین ، وبائی امراض کے ماہرین اور وزارت کے سینئر حکام مطالعے کے بعد منظور کر کے آگے بھجوائے جاتے ہیں ، ان گائیڈ لائینز اور ایس او پی پر بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق جائزہ لیکر اپ ڈیڈ کی جاتیں ہیں ، اب تک ان ایس او پیز اور گائیڈ لائینز میں متعدد ترامیم کیں گئیں ۔ 21 جنوری کو کوویڈ 19کے حوالے سے پہلی ایڈوائزری جاری کی گئی (25جنوری کو ترمیم ایڈوائزری کا اجراءہوا) ، یکم فروری کو ایئرپورٹس ،داخلی مقامات اور ریسک کیمونیکشن گائیڈ لائن ترتیب دی گئی ۔ 5 فروری کو کوویڈ 19 کی کلینکل کیئر اینڈ پریونشن، 8فروری کو کوویڈ 19پر پہلے قومی ایکشن پلان، 11 مارچ کو تخفیف کی حکمت عملی ، 13مارچ کو کام کرنے کی جگہ سے متعلق ، 13مارچ کوویڈ 19پر دوسرا قومی ایکشن پلان ، 17 مارچ کو کوویڈ19 سے متعلق ذاتی تحفظ کے آلات کی درآمد کی پالیسی میں نرمی ،24مارچ کو ریئل ٹائم پولیمریز چین ری ایکشن تشخیصی ٹیسٹ ، 25 مارچ کو قررنطینہ سہولت کے قیام، 25 مارچ کو ترجیحی ٹیسٹنگ سہولت فراہم کی گئی ۔این سی او سی کے مطابق 26 مارچ کو وبا کے دوران سماجی دوری ، کووڈ۔19 سے متاثر ہونے پر گھر میں تنہائی اختیار کرنے ، 27 مارچ کو ہسپتالوں کی زوننگ ، کرونا متاثرین کی تدفین اور انفیشکن سے بچاﺅ اور کنٹرول ، 28 مارچ کو صحت کی دیکھ بھال کی سہولت میں ماحولیاتی سطحوں کی صفائی اور انضمام ، 28 مارچ کوکوویڈ۔19 پھیلنے کے دوران ہوم کورنٹین ، 30 مارچ کو کووڈ۔19 پھیلاﺅ کے دوران سٹورزکا انتظام ، 31 مارچ کو کلینیکل مینجمنٹ اور صنعتوں میں کارکنوں کے لئے احتیاطی تدابیر ، یکماپریل کو صنعتوں کے لئے صحت اور حفاظت، 8 اپریل کو طبی فضلے ضائع کرنے کے بارے ، 11 اپریل کو عمارت و تعمیراتی کارکنوں کی صحت اور حفاظت ، 19 اپریل کو ریئل ٹائم پولیمریز چین ری ایکشن تشخیصی جانچ، 19 اپریل کو لیبارٹری بھجوانے کا طریقہ کار ، 19 کو عالمی اداروں بشمول آئی ایل آئی کی نگرانی اور تشخیصی گائیڈ لائینز جاری کیں گئیں ۔ این سی او سی کے مطابق دنیا میں کوویڈ 19 جیسے ہی پھیل رہا تھا صحت کے ماہرین SARS-COV 2s کے بدلتے ہوئے عوامل کو ڈھونڈ رہے تھے، بیماری کی بدلتی ہوئی صورتحال سے آگاہی اور اقدامات سے باخبررہنا ضروری ہے ۔ پاکستان میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ،ریگولیشنز اینڈ کوآرڈنیشن نے اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لہے کلیدی اقدامات اٹھائے جن میں 22 جنوری کو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا قیام ، 23 جنوری کو تمام بڑے ہوائی اڈوں پر پاکستان کی تاریخ کا صحت کا کےحوالے سےایک جامع طریقہ کار لاگو کر کے 1.1ملین سے زائد مسافرں کی سکریننگ ، 28 جنوری کو تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آمد اور روانگی کے لا¶نجوں پر ہیلتھ انفارمیشن ڈیسک کا قیام، یکم فروری ایچ آر، تھرمل گنوں اور تھرمل سکینرزکی فراہمی، یکم فوری کو اسلام آباد میں قرنطینہ مرکز کا قیام اور سہولیات کی فراہمی ، یکم فروری کو پی پی ایز کی ضروریات ،10 فروری کو چین اور ایران سے آنے والے مسافروں کے ٹیسٹ اور ٹریننگ کے لئے ہیلپ لائن کا قیام ، اسی ہیلپ لائن سے کرونا وائرس کے 20 ہزار مصدقہ کیسز کی نشاندہی ممکن ہوسکی۔ 11 فروری کو قومی ادارہ صحت کے ذریعے لیبارٹریوں میں کوویڈ 19 کی تشخصیی صلاحیت کا حاصل کی جو کہ کم اور درمیان درجے کے ممالک میں سب سے پہلے ممکن ہوسکا ، 14فروری کو 300کرونا متاثرین کو این ڈی ایم اےنے قرنطینہ سہولت فراہم کی ،15فروری کوبیماری کی صورتحال ، اموات کی پیشن گوئیاں اور صحت کے نظام پر مبنی وبائی امراض کی ماڈلنگ کا آغاز ، 19 فروری کو چین میں پاکستانی طلبا کے والدین کے لئے بریفنگ کا اہتمام ، 25فروری کوایران سرحد کو بند کر کے تمام زائرین کو قرنطینہ میں رکھنے کے لئے گائیڈ لائینز اور سہولیات کی فراہمی ،26فروری کو کووڈ۔19 کے لئے ہیلپ لائن 1166کی توسیع ،27 فروری کو ایران سے پروازوں کی بندش، 2مارچ کو چمن سرحد کی بندش ، 13مارچ کو حتمی نیشنل ایکشن پلان برائے کووڈ۔19 کا اجرائ، 15مارچ کو کووڈ۔19کو مشترکہ ڈیٹا کے تبادلے کے لئے ڈیشں بورڈ کا قیام، 17مارچ کوپی پی ایز ایمپورٹ کرنے کے لئے پالیسی میں مزیدنرمی، 2 اپریل کو ہیکاتھون لانچنگ، 24 اپریل کو یاران وطن کا آغاز کیا گیا ۔ این سی او سی کے مطابق ایسے حالات میں ایک اہم چیلنج عوام تک وباءسے متعلق معلومات کی فراہمی ہے، وباءکے پھیلاﺅ ، روز مرہ کی زندگی پر اس کے اثرات ، قومی اور صوبائی سطح پر اس سے نمنٹے کے لئے لاک ڈاﺅں اور بندشوں کے سخت اقدامات ، معاشرتی انضمام کی پاسداری ہے ۔ متعلقہ وزارت نے خطرے سے متعلق مواصلات کو یقینی بنانے کے لئے کچھ بڑے اقدامات کیے ہیں جن یکم فروری2020 سے تمام ٹی وی چینلز پرسماجی اور عوامی خدمت کے پیغامات نشر ، ڈیٹول کے ساتھ مل کر 14,26 فروری اور 28 مارچ کو خدمت کے پیغامات نشر کیے گئے ، 26 فروری کو عوام سے بات چیت کرنے اور اس بیماری کے علامات وغیرہ کے بارے میں ان کے سوالات کے جوابات دینے کے لئے ٹول فری نمبر (1166) کا قیام ، اس بیماری کے پھیلنے، روک تھام اور کنٹرول سے متعلق آئی ای سی کے مواد کی متعدد بار اشاعت ، علامات اور اس کی روک تھام پر متحرک تصاویر نشر کیں گئیں ۔ این سی او سی کے مطابق وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ،ریگولیشنز اینڈ کوآرڈنیشن وبائی مرض کے ممکنہ پھیلاﺅ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اقدامات کو بڑھا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اس وباءکے دوران انتہا درجے کے عزم و ہمت کو برقرار رکھا جائے گا، محدود وسائل کے باوجود وزارت صحت اور اس کے تکنیکی شعبے اور تنظمیں یکجا ہوکر گذشتہ 100دنوں سے دن رات کام کر رہے ہیں ، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس دستاویز میں شامل تفصیلات میں کووڈ۔19کے عدم پھیلاﺅ اور حفاظتی انتظامات کے لئے ہونے والی سرگرمیوں ،سینکڑوں اجلاسوں ، مشاورت ، تبادلہ خیال ، بحث و مباحثوں شامل ہیں جسکا مقصد ایک بہتر حکمت عملی بنانا ہے