کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور وزیراعظم کاعزم

46

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کراچی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا حب اور ملک کی ترقی کا اہم زینہ ہے ، وزیراعظم عمران بھی کراچی کی ترقی کو پاکستان کی ترقی قرار دیتے ہیں ۔ اس ضمن میں ہفتہ کے روزکراچی کے ترقیاتی منصوبوں 3 فلائی اوورز اور 2 اہم شاہراہوں کی افتتاحی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں حکومت نہ ہونے کے باوجود کراچی کی ترقی کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ افتتاحی تقریب گورنرہاوَس کراچی میں ہوئی جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، میئر کراچی وسیم اختر، ;200;ئی جی سندھ مشتاق مہر، پی ٹی ;200;ئی اور ایم کیو ایم کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر نے شرکت کی ۔ وزیراعظم نے اس بات زور دیتے ہوئے یہ احساس اجاگر کیا کہ کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جسکے اوپر جانے سے ملک اوپر جائے گا، اگر کراچی پر برُا وقت ;200;تا ہے تو پورے پاکستان پر برا اثر پڑتا ہے ۔ انہوں نے اس بات کی یقین کرائی کہ سندھ میں پی ٹی آئی کی حکومت نہ ہونے کے باوجود کراچی سمیت پورے سندھ کی ترقی کے لیے پوری محنت کر رہے ہیں ، ہماری حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کراچی کےلئے جو کچھ ہم کرسکتے ہیں وہ کریں ۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ18ویں ترمیم کے بعد سارے فنڈز صوبوں کو چلے جاتے ہیں اور محض صوبائی ڈیویلپمنٹ فنڈسے بڑے شہروں کو ٹھیک کرنا ممکن نہیں ۔ وزیر اعظم نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل ;200;پ عوام کو بتائیں ،ہم جب ہم اقتدار میں ;200;ئے تو کراچی کے ان تین منصوبوں کو جاری رکھا ۔ عمران خان نے مزید کہا کہ دنیا میں بلدیاتی ادارے با اختیار ہیں ، بلدیاتی سسٹم کو مضبوط بنائیں گے تاکہ وہ اپنی ;200;مدنی اور وسائل خود وصول کریں ۔ کراچی برسہا برس سے مسائلستان بنا ہوا ہے اور کوئی بھی سندھ حکومت اس کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں رہی ۔ اس کے بلدیاتی ادارے بھی نا اہلی کا عملی نمونہ رہے ہیں ۔ کراچی کی بربادی کا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈالنے کی روش اپنی نا اہلی سے چشم پوشی کے مترادف ہے ۔ سندھ حکومت کرپشن اور بددیانتی کا نمونہ نہ ہوتی تو کراچی حقیقی معنوں میں روشنیوں کا شہر نظر بھی ;200;تا ۔ 18ویں ترمیم کے بعد اس شہر کی نگہداشت سندھ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ، تاہم وفاق اس شہر کو لاوارث شہر نہیں سمجھتی اور کئی اہم منصوبوں پر کام بھی شروع کرا دیا ہے ۔ علاوہ ازیں مزید فنڈز بھی جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ میئر کراچی کو پانچ ارب روپے دیئے جائیں گے جس سے کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کو تعمیر کیا جائے گا اور ایک ارب حیدر ;200;باد کے میئر کو دیں گے، ایک ارب شہید بینظیر ;200;باد جبکہ بقیہ سندھ کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ اس موقع پر گورنر نے جون 2021 تک مکمل ہونے والے منصوبوں کی تفصیل بھی بتائی کہ پرانی نمائش کے اردگرد روڈ نیٹ ورک کی تعمیر نو اور بحالی کا کام 23 مارچ تک مکمل کرلیا جائے گا جس پر800ملین روپے لاگت ;200;ئے گی، حب سے منگھو پیر تک66انچ کی لائن کی تنصیب کے کام پر1500روپے ملین خرچ ہوں گے اور یہ جون میں مکمل ہوجائے گی، ایم اے جناح روڈ پر کراچی ماس ٹرانزٹ انڈر گرانڈ ٹرمینل 2500 ملین کی لاگت سے 14اگست 2020 تک مکمل ہوجائے گا ۔ یہ وہ منصوبے ہیں اگر مقررہ وقت میں پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں تو کراچی کے شہریوں کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا ۔

چینی تجارتی بحری جہازبارے بھارتی الزام مسترد

بھارت جو پاکستان کےخلاف الزام تراشی کے بہانے ڈھونڈھتا رہتا ہے ، اسلام آباد نے اسکے چین سے ;200;نے والے تجارتی بحری جہاز میں مبینہ طور پر ممنوعہ سامان کی موجودگی کے دعویٰ کو سرا سر غلط قرار دے دیا ہے ۔ بھارت نے مذکورہ چینی تجارتی بحری جہاز ایم وی ڈی اے سیو یون کو فروری کے اوائل میں دیندیال پورٹ پر حراست میں لیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ اس میں آٹو کلیو موجود ہے جسے کارگو ڈاکومنٹس میں غلط ظاہر کیا گیا ہے ۔ حسب سابق بھارتی حکام نے بلا تحقیق دعوی ٰکر ڈالا کہ آٹو کلیو کو لانگ رینج بیلسٹک میزائل یا سیٹلاءٹ لانچ راکٹس بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ وزارت خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے اس حوالے واضح کیا ہے پاکستان میں اُس نجی کمپنی سے رابطہ کیا گیا ہے جس نے مواد در;200;مد کیا تھا ۔ انہوں نے کہا جس سامان پر سوال اٹھایا گیا ہے وہ ہیٹ ٹریٹمنٹ فرنیس کیسنگ سسٹم ہے جسے متعدد صنعتوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کسی بین الاقوامی بر;200;مدی کنٹرول لسٹ میں شامل نہیں ‘‘ ۔ اس کا کیا کیا جائے کہ بھارت رائی کو پہاڑ بنانے اور من گھڑت الزام تراشی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اس نے ایک بار پھر پاک چین دوستی کو اپنے تئیں بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔ ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ فرنیسز پاکستان کی کئی صنعتوں اور دنیا بھر میں استعمال کیے جاتے ہیں ۔ ان بھارتی لغو الزامات کو دو روز قبل چین بھی سختی سے مسترد کر چکا ہے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان شا نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ میں دو ٹوک الفاظ میں بتایا تھا کہ بھارت نے جہاز کو حراست میں لے کر آٹو کلیو بارے بھارت نے جو دعویٰ کیا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائلز میں استعمال ہوسکتا ہے،برآمدات پر کنٹرول اور عدم پھیلا وَکے تحت نہ تو وہ فوجی سازو سامان تھا اور نہ ہی دہرے استعمال کی چیز ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ چین ایک ذمہ دار ملک ہے اور عدام پھیلاوَ سے متعلق بین الاقوامی پابندیوں اور عالمی وعدوں کی پاسداری کرتا ہے ۔ ترجمان نے مزید یہ بھی واضح کیا کہ بحری جہاز کے عملے نے سچائی کے ساتھ بھارتی حکام کو جہاز پر موجود سامان کے بارے میں آگاہ کیا تھا اس لیے اس میں کوئی چھپی ہوئی یا جھوٹ بات نہیں ہے‘‘ ۔ بھارت چونکہ جعلی سازی کے معاملات میں خود ملوث رہتا ہے اس لئے وہ دوسروں بارے بھی بدگمان رہتا ہے ۔

متعلقہ خبریں

امن کاوشیں اور عسکری قیادت کا عزم

style="display:block" data-ad-client="ca-pub-4214082252165931" data-ad-slot="1779405125" data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی صحت یابی

یہ اطلاع نہایت ہی حوصلہ افزا اور خوش کن ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا مریض صحت یاب ہو کر گھر پہنچ گیا ہے ۔ متاثرہ نوجوان 11روز تک آغا خان اسپتال کراچی میں زیرِ علاج رہا، علاج اور مختلف ٹیسٹوں کے بعد اسے صحت مند قرار دے کر ڈسچارج کر دیا گیاہے ۔ ادھر ترجمان محکمہ سندھ کا کہنا ہے کورونا وائرس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ، کراچی کے دیگر دو مریضوں کی طبیعت میں بھی بہتری ;200;رہی ہے اور اگلے چند روز میں اسپتال سے چھٹی دے دی جائے گی ۔ صحت یاب ہونے والا مریض ایران کے شہر قم سے وطن واپس آیا تھا جسکے بعد 26فروری کو اس میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی ۔ متاثرہ شخص کے دیگر ہم سفر28افراد اور اس کے اہل خانہ کے ٹیسٹ بھی کیے گئے جن میں وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی ۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ پانچ کیسز میں سے 3 کا تعلق کراچی اور دو گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سبھی متاثرہ افراد ایران کا سفر کرچکے تھے ۔ کورونا وائرس جس تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا خدشہ تھا کہ پاکستان اس سے بہت زیادہ متاثر ہو گا لیکن حکومت کی طرف سے بروقت اور سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ پاکستان اس کی لپیٹ میں اس طرح نہیں ;200;یا جس طرح دوسرے ممالک اس کی زد میں ;200;ئے یا ابھی تک ;200; رہے ہیں ۔ امریکہ برطانیہ اٹلی فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک میں صورتحال تشویشناک ہے اور ہر روز نئے کیس سامنے آرہے ہیں ۔