- الإعلانات -

خواتین پر حملہ ، پارلیمنٹ پرحملہ قرار

اسلام آباد: پی ٹی آئی خاتون ارکان قومی اسمبلی نے گذشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والے واقعے کو پارلیمنٹ اور خواتین پر حملہ قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گذشتہ روز کے واقعے میں زخمی ہونے والی رکن قومی اسمبلی ملیکہ بخاری نے کہا کہ کل جوہوا وہ پارلیمان کیلئے سیاہ دن تھا، میری ذاتی طورپر تذلیل ہوئی، پارلیمان میں خاتون رکن پر کتاب پھینکی اور گالیاں دی گئیں۔

ملیکہ بخاری نے کہا کہ کل جو نون لیگ نےکیا وہ کوئی نئی بات نہیں، ہنگامہ آرائی کرنے والے اس جماعت کے رکن ہیں،جنہوں نےماڈل ٹاؤن واقعہ کیا، ہم جانتےہیں کہ شیریں مزاری کیساتھ کیاکیا؟ ہم جانتےہیں آپ نے محترمہ بینظیربھٹو کیساتھ کیا کیا؟جب بینظیربھٹوپارلیمنٹ میں آتی تھیں توکن القابات سےنوازاجاتاتھا؟۔زخمی رکن قومی اسمبلی نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آپ سمجھتےہیں کہ جمہوری تقاضے وہی ہیں جو آپ طےکرینگے، اگر آپ گالیاں دینگے،سیٹیاں اور کتابیں پھینکیں گےتو ری ایکشن آئےگا، کیاسوچتی ہوگی دنیا پاکستان میں ممبران پارلیمان بھی محفوظ نہیں۔

ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ پارلیمان کوگالی نہ دیں پارلیمان بلند ادارہ ہے، طےکرلیں کہ کیا قواعدضوابط ہیں آگےبڑھنےکے، کل جو مچھلی بازار لگا افسوسناک ہے، میرےلیڈرنےتلقین کی جب حق سچ پرہوں تودلائل سےبات کریں۔ملیکہ بخاری نے نون لیگ پر عورت کارڈ کھیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ لیگی ارکان کہتےہیں کہ مریم نوازکویہ نہ بولوتو وہ نہ بولو، کیا ہم عورت نہیں کیاہماری عزت نہیں ہے؟مریم نوازپاناماکیس میں جےآئی ٹی کےسامنے پیش نہیں ہوتی تھیں، مریم نوازاس لئےپیش نہیں ہوتی تھیں کہ مردوں نےسوال کرناتھا۔