کرونا وائرس، احتیاطی تدابیر وقت کا تقاضہ

49

دنیا بھر کے 127 سے زیادہ ممالک میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے اور اموات کی شرح بھی کافی زیادہ ہے، تاہم اس وقت چین میں اس وائرس پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن دیگر ممالک میں اس کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں بھی ابھی تک 20کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تشخیص ہو چکی ہے تاہم کوئی ایسا قابل ذکر کیس نہیں ہوا جس کی وجہ سے کسی کی خدانخواستہ موت واقع ہوئی ہو ۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان الرٹ ہے جبکہ چیف ;200;ف ;200;رمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کورکمانڈرز کانفرنس میں فوج کو ہدایت کی ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف قومی کوششوں میں مدد کی جائے ۔ ساتھ ہی ساتھ وزارت صحت نے اس حوالے سے ہدایت نامہ بھی جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ماسک کا استعمال صرف کرونا وائرس کے متاثرہ مریض کریں ، مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر بھی ماسک کا استعمال کر سکتے ہیں ، نیز مریض کی دیکھ بھال کرنے والے بھی ماسک پہنیں ، اس ایڈوائزری کے تحت ہ میں احتیاط کرنی چاہیے ۔ ;200;نے والے دنوں میں ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس سلسلے میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ مزید تادیبی اقدامات کئے جاسکیں ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں جہاں کرونا وائرس کا مسئلہ زیربحث ;200;یا وہاں پر اراکین اسمبلی کو درپیش عوامی مسائل کے فوری حل پر مشاورت بھی کی گئی ۔ اس موقع پر وزراء اور اراکین نے شکایات بھی کیں کہ بیوروکریسی خاطرخواہ تعاون نہیں کر رہی ہے ۔ اراکین نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا تاہم پہلے سے ہی وزیراعظم یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ گیس اور بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے گا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے توانائی کے شعبے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس شعبے میں خسارے کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ مشیر تجارت عبدالرزاق داءود نے وزیراعظم کو سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک برائے 2020تا 2025کے بنیادی خدوخال، رہنما اصول، بر;200;مدات کے تخمینوں ، اہداف کے حصول کے لئے لاءحہ عمل اور 26مختلف شعبوں کے حوالے سے ترجیحات، ان کے فروغ کے لئے جامع منصوبہ بندی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد بر;200;مدات کے حوالے سے بنیادی سوچ میں تبدیلی لانا ہے ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت سٹریٹجک فریم ٹریڈ پالیسی فریم ورک کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد صنعتوں کی استعدادکار بڑھانا ہے تاکہ بین الاقوامی ضروریات کے مطابق مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری ممکن بنائی جاسکے ۔ اگر حکومت یہ قدم اٹھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور ہماری اندرون ملک لوکل پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو پھر ہم مختلف اشیاء کے حوالے سے دیگر ممالک پر انحصار چھوڑ دیں گے، اس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہو گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے ۔ یہاں ہم حکومت کو یہ مشورہ دیں گے کہ صنعتوں کی بحالی کے لئے ترجیحی اقدام اٹھائے جائیں اور پیداواری صلاحیت کا باقاعدہ ایک معیار مقرر کیا جائے تاکہ بر ;200;مدات میں بھی اضافہ ہو سکے اور ملکی خزانے کے زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہو سکے ۔ جہاں تک فریم ورک کے بنیادی اصولوں کے تعین کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ سہل طریقہ کار اپنائے اور صنعت کار کو سہولیات فراہم کرے اور جو بھی اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے اس کا چیک اینڈ بیلنس بھی انتہائی شفاف ہونا چاہیے ۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ تمام معاملات شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچیں ۔ نیز ایک معیار مقرر کیا جائے اور اس معیار پر کسی صورت بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے بھارت کے حوالے سے کہا کہ مودی کے انتہاپسندانہ اقدامات کی وجہ سے بھارتی تشخص بری طرح پامال ہو چکا ہے، پاکستان اوپر اور بھارت نیچے جا رہا ہے، یہ ظاہر سی بات ہے کہ جس طرح مودی نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم و ستم جاری رکھا ہوا ہے اس کے ان انتہاپسندانہ اقدام کی وجہ سے بھارتی مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے ۔

جنگی اقدامات ،ٹرمپ کے اختیارات محدود

متعلقہ خبریں

ریگولیٹری ڈیوٹی ادا کیے بغیر کسٹمز کلیئرنس بے نقاب

امریکی کانگریس نے جنگی اقدامات کے حوالے سے ٹرمپ کے اقدامات کو محدود کرتے ہوئے باقاعدہ بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس سے بالاتر ہو کر ایران کے خلاف اعلان جنگ نہیں کر سکتے ۔ مذکورہ بل گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی منظوری کے بعد اسمبلی میں پہنچا تھا جہاں جنرل کمیٹی نے اس کی منظوری دے دی ہے ۔ بل کے لئے 186ووٹوں کے مقابلے میں 227ووٹ ڈالے گئے جبکہ 17ووٹ غیر یقینی صورتحال میں رہے ۔ اب ٹرمپ جنگ کے سلسلے میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے کانگریس سے منظوری لیں گے، تاہم دوسری جانب یہ بات بھی دیکھنے میں ;200;رہی ہے کہ امکانات زیادہ یہ ہیں کہ ٹرمپ اس بل کو ویٹو کر دیں گے ۔ تاہم کانگریس نے جو قدم اٹھایا ہے وہ ایک احسن اقدام ہے کیونکہ ٹرمپ کے جنگی جنون کی وجہ سے پوری دنیا میں اس وقت تباہی اور بربادی پھیلی ہوئی ہے ۔ افغانستان میں قدم رکھنے کے بعد ;200;ج دو دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن امریکہ کو کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ۔ ;200;ج وہ افغانستان کو چھوڑنا چاہتا ہے لیکن اس کے لئے امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات اور اس میں جو بھی شرائط رکھی گئی ہیں ان پر عمل در;200;مد انتہائی ضروری ہے ۔ اس جنگی جنون کو روکنے کے لئے ہی کانگریس نے یہ فیصلہ کیا ہے، اگر امریکہ افغان امن معاہدہ سبوتاژ ہوتا ہے تو اس کے بہت خطرناک اور دوررس نتاءج بر;200;مد ہوں گے جبکہ ایران کے حوالے سے بھی ٹرمپ کے خیالات کوئی اتنے مثبت نہیں ہیں لیکن اگر امریکہ یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ ایران کو بھی سبق پڑھانے کی کوشش کرے تو اس کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ امریکہ نے جو بھی جنگیں لڑیں وہ ساری کی ساری اس کی سرحدوں سے بہت دور لڑی گئیں ، لہٰذا پوری دنیا کو سمجھ جانا چاہیے کہ امریکہ دیگر ملکوں میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے انارکی پھیلاتا ہے لیکن اپنے اردگرد سکون قائم رکھتا ہے ۔ لہٰذا امریکی جنگ میں اتحادی کے طور پر کسی بھی ملک کا کودنا اس کےلئے نقصان دہ ثابت ہو گا ۔

ایکسپریس ہائی وے سگنل فری کوریڈور جلد مکمل کیا جائے

زیروپوائنٹ سے لے کر روات تک فری سگنل کا منصوبہ کھٹائی کی نظر ہوتا ہوا نظر ;200;رہا ہے، ایئرپورٹ تک تو روڈ کی کارپٹنگ کر دی گئی ہے لیکن اس سے ;200;گے جو اصل کام ہے وہ عرصہ دراز سے رُکا ہوا ہے ۔ اس کے لئے فنڈز بھی منظور ہو چکے ہیں لیکن تاحال کام نہیں جاری ہو سکا، اس کے راستے میں کیا رکاوٹیں ہیں ، کون دور کرے گا، اس کا کون ذمہ دار ہے یہ جواب تو متعلقہ حکام ہی دے سکتے ہیں لیکن یہاں پر ایک نکتہ انتہائی اہم ہے کہ سڑک کی حالت اتنی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے کہ اس پر گاڑیوں کا چلنا محال ہے ۔ اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں ، جگہ جگہ سے سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے ٹائر ٹوٹی ہوئی جگہوں پر پھنستے ہیں تو وہ حادثات کا سبب بنتے ہیں ، چونکہ یہ ایک عوامی فلاحی منصوبہ ہے اور حکومت کو چاہیے کہ اسے ترجیحی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔ منصوبے کے مکمل ہونے سے نہ صرف ٹریفک کے بہاءو میں روانی پیدا ہو گی بلکہ حادثات سے بھی بچا جاسکے گا ۔ نیز یہاں ہم حکومت کو ایک اور بھی مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ روات سے اسلام ;200;باد ;200;نے اور جانے کے اس فری سگنل کوریڈور پر ٹرکوں کا داخلہ قطعی طور پر ممنوع قرار دیا جائے کیونکہ یہ ٹرک بھی حادثات کا سبب اور ٹریفک کے جام ہونے کی وجہ بنتے ہیں ۔ اس کے ساتھ جب اس کوریڈور کو مکمل کیا جائے تو ساتھ سروس روڈ کی تعمیر بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ چھوٹی ٹریفک ان سے گزر سکے ۔ نیز اگر اس راہ گزر پر ہیوی ٹریفک کو چھوڑنا لازمی ہو تو اس کا داخلہ رات 12بجے کے بعد ہونا چاہیے پھر یہاں سے ٹریفک کے بہاءو کو کم کرنے کے لئے رنگ روڈ کا منصوبہ جو عرصہ دراز سے فائلوں کی نذر ہو چکا ہے اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایسے بنیادی اور عوامی مسائل ہیں جن کو حل کر کے عوام کو باہم سہولیات پہنچانے کا بندوبست کیا جاسکتا ہے ۔