Home » کالم » کرپشن الزامات ۔۔۔سپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی گرفتاری
adaria

کرپشن الزامات ۔۔۔سپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی گرفتاری

adaria

حکومت نے یہ مصمم ارادہ کررکھا ہے کہ اس نے کسی بھی قسم کی کرپشن کو معاف نہیں کرنا، چاہے وہ مالی کرپشن ہو یا آمدن سے زائد اثاثوں کا معاملہ ہو ۔چونکہ یہ ایک ایساناسورہے جوگزشتہ سترسالوں سے اس ملک کے رگ وپے میں بس چکا ہے ۔کبھی حکمرانوں نے اسے کوئی صورت دے کرمعاف کیاتوکبھی کوئی اورحیلے بہانے بنادیئے۔ مگر وزیراعظم عمران خان نے سیاست میں قدم رکھتے ہوئے اپنایک نکاتی ایجنڈا متعارف کرایا جو کہ کرپشن کے خلاف تھا۔ وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ احتساب کراس دابارڈر ہوگا ۔کرپٹ افراد کاتعلق چاہے اقتدار سے ہو، اپوزیشن سے ہو یا کسی بھی طبقہ ہائے فکر زندگی سے ہو، سب کے سب پابندسلاسل ہوں گے اور انہیں قرارواقعی سزابھی دی جائے گی۔اس سلسلے میں حکومت نے اداروں کو بھی خودمختاربنایا جب گزشتہ روز اسلام آباد سے آمدن سے زائداثاثے بنانے کے الزام میں سپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کو گرفتارکیاگیاتو اپوزیشن اور سندھ حکومت کی حکمران پارٹی پیپلزپارٹی نے ایسے لگاکہ جیسے بھونچال آگیاہو۔ تمام اپوزیشن نے یک زبان ہوکرحکومت اورنیب کو ہدف نشانہ بنایا اور کہاکہ جمہوریت کوخطرات لاحق ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تویہاں تک کہاکہ پاکستان میں کون سے جنگل کاقانون نافذ ہے ۔نیب نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے واضح کردیاکہ ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور نیب کاماٹوکرپشن کے حوالے سے زیروٹالرنس ہے ۔ نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کرنے کے بعد احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کا 3روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ نیب ترجمان کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو کراچی نے نیب راولپنڈی اور نیب ہیڈ کوارٹرز کے انٹیلی جنس ونگ کی معاونت سے آغا سراج درانی کو گرفتار کیا، ملزم پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔نیب کافی عرصے سے آغا سراج درانی کے خلاف تحقیقات کررہا ہے۔ انہیں نیب کے دفتر منتقل کردیا گیا۔ بعد ازاں نیب نے سپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کو غیرقانونی اثاثہ جات ریفرنس میں احتساب عدالت کے جج محمدبشیر کے روبرو پیش کیاگیا، آغا سراج درانی اور ان کے خاندان کے گیارہ افراد کے خلاف اثاثوں کی تحقیقات چل رہی ہیں، ان کی کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں جائیدادیں ہیں، جن کی وضاحت نہیں دی گئی۔ نیب کی جانب سے 7دن کے راہداری ریمانڈ کی استدعاکی گئی تھی، جس پر احتساب عدالت نے آغاسراج درانی کا 3روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرلیا اور ملزم کو3دن بعد کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ ہاؤس آتے ہوئے راہداری میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسے کرپشن میں گرفتار کیا جاتا ہے وہ نیلسن منڈیلا بنتا ہے۔ علاوہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کامیابی سے معاشی بحران سے نکل رہا ہے۔ سعودی ولی عہد کا دورہ کامیاب رہا۔ احتساب میں کسی کو رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔ اپوزیشن کو گرفتاریوں پر جمہوریت یاد آجاتی ہے۔ ملک کوجلد ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ جمہوریت کوکوئی خطرہ نہیں ہے۔ احتساب جاری رہے گا اور رکے گا نہیں۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو تبدیل نہ کیا تو آئندہ ہمارے حالات مزید مشکل ہوتے جائیں گے،منی لانڈرنگ کرنے والے قومی مجرم، کسی رعایت کے مستحق نہیں ٹیکس دہندگان ہمارے لئے وی آئی پی ہیں، ٹیکس نہ دینے والوں کو بھی اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا ٹیکس ریٹ نہیں ٹیکس نیٹ بڑھائیں گے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ٹیکس کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ ماضی کے اربوں پتی حکمرانوں نے اپنے گھر ٹیکس کے پیسے سے چلائے قوم کو بتائیں گے کہ ان کا وزیر اعظم کابینہ اور ارکان پارلیمنٹ ٹیکس دے رہے ہیں۔ دریں اثنا اقوام متحدہ نے کامیاب نوجوان پروگرام کیلئے 30 ملین ڈالرز فنڈز کا اعلان کر تے ہوئے کہاکہ پاکستان کے ساتھ مل کر نوجوانوں کی ترقی کیلئے کام کریں گے اور منصوبے کے تحت 2 لاکھ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ نیز وزیراعظم عمران خان سے برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی رہنما سعیدہ وارثی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی،وفد نے کرپشن کے خاتمے اور گڈ گورننس کیلئے حکومتی اقدامات کی تعریف کی جبکہ معاشی چیلنجز پر قابو پانے کیلئے کئے گئے حکومتی اقدامات کو سراہا،وزیراعظم عمران خان نے بھارتی جنگی جنون اور بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھایا جانے والے مظالم پر وفد کو آگاہ کیا۔

پلوامہ حملہ۔۔۔قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور
پلوامہ حملے کے بعد بھارت تو جیسے اپنے ہوش وہواص بھی گنوابیٹھاہے،مودی نے اپنی انتخابی مہم کیلئے خودساختہ حملے کرانے کے بعد پاکستان پرالزام تراشی کرکے دنیاکو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ ان مذموم کارروائیوں میں پاکستان ملوث ہے لیکن مودی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہاکرنے میں ناکام رہا اور خود ہی اپنے گرداب میں پھنس گیا۔خصوصی طورپر بھارت کو اس وقت منہ کی کھاناپڑی جب اس نے سعودی ولی عہد سے پلوامہ حملے کے حوالے سے کچھ نہ کچھ پاکستان کے خلاف کہلواناچاہا لیکن سعودی ولی عہد نے کچھ بھی نہیں کہا اور سعودی وزیرخارجہ نے تو بھارتی منہ توڑتے ہوئے کہاکہ جب ثبوت ہی نہیں تو پھرپاکستان پرالزام کیسے عائد کیاجائے۔انہی حالات سے بوکھلاکر اورناکامی دیکھتے ہوئے بھارت نے حیدرآباد کی جیل میں مقیدپاکستانی قیدی کوپتھرمارمارشہیدکردیا۔اس سلسلے میں بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن نے اظہارتشویش کرتے ہوئے انڈین جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کاتحفظ یقینی بنانے کاکہا۔ نیزقو می اسمبلی نے مقبو ضہ کشمیر میں پلوامہ حملے کو پاکستان کے ساتھ جو ڑنے کے حوالے سے بے بنیاد بھارتی پراپیگنڈا کو سختی سے مستر د کرتے ہوئے بھارتی پراپیگنڈے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بھارت کی جانب سے پلوامہ حملے کے فوری بعد کسی بھی بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان کے خلاف الزامات کی شدیدمذمت کرتا ہے، پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کے خلاف پاکستان کے عزم کا غلط اندازہ نہ لگایا جائے،مسئلہ کشمیر ایک عالمی مسلمہ تنازعہ ہے او ریہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث حل طلب ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھارت کی جانب مقبو ضہ کشمیر میں پلوامہ میں بھارتی ریزور پولیس فورس پر حملے کا لنک پاکستان کے ساتھ جو ڑنے کے حوالے سے بے بنیاد پراپیگنڈا کے خلاف قرار داد ایوان میں پیش کی اور پڑھی۔ متن میں کہا گیا کہ بے بنیاد بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ ایوان پلوامہ حملے کے فوری بعد کسی بھی تحقیقات کے بعد فوری طور پر ردعمل اور پاکستان کے خلاف الزامات کی شدیدمذمت کرتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی ظالمانہ کاروائی بند کرنے کے بجائے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کے بجائے پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر مقبوضہ کشمیر میں جاری ان ظالمانہ کاروائیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ بھارت مسلسل کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative