Site icon Daily Pakistan

کرکٹ ،جیل، مہنگائی اور بار الیکشن

کرکٹ کو گیم نہیں انٹرٹیمننٹ سمجھتا ہوں ۔ کرکٹ بھی ایسے ہی ہے جیسے امریکہ کی ریسلنگ ۔اکثر لوگ مانتے ہیں کہ کرکٹ گیم نہیں انٹرٹینمنٹ ہے۔ امریکا کی ریسلنگ میں امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیسن سیکولر گارڈن میں ہونے والے ایک ریسلنگ میچ کے دوران ٹرنب کو الیکٹرک مشین سے مخالف پہلوان کے سر کے خوبصورت بالوں کو تراشتے ہوئے دیکھ چکا ہوں۔یہ ڈرامے کے سکرپٹ کی طرح کا حصہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح کرکٹ بھی ایک انٹرٹیمننٹ ہے جہاں کھلاڑی مختلف رنگوں کی عینکیں لگا کر کھیلتے ہیں پھر کیچ چھوڑ دیتے ہیں میچ ہار جاتے ہیں یہ بھی لکھے گئے سکرپٹ کے حصہ کے مطابق کھیلتے ہیں۔میچ دیکھنے والے معصوم لوگ ٹیم کے ہارنے پر اپنی زبان گندی کر رہے ہوتے ہیں کہ اسے کھیلنا نہیں آتا۔جبکہ زبان گندی کرنے سے کھلاڑیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بہتر یہی ہے آپ میچ دیکھنے نہ جائیں یا گھر میں میچ ٹی وی پر دیکھ لیا کریں۔اگر میچ پسند نہ آئے تو ٹی وی بند کر دیں۔مگر اپنی زبان صحت خراب نہ کریں۔ مقابلے کو ہار جیت کاحصہ سمجھنا جائے۔ ہارنے کے بعد جو آپ ری ایکشن دیتے ہیں وہ آپ کی شخصیت کو ظاہر کرتا ہے کہ اپ انسانوں کے ساتھ رہے ہیں یا آپ نے جانوروں کے ساتھ زیادہ وقت گزارا ہے۔ایک آپ ہارتے ہیں اور دوسرا اپنا امیج خراب کرتے ہیں لہٰذاجیت اور ہار کے بعد احتیاط کیا کریں۔کولمبو میں بھارت سے کرکٹ میچ بظاہر ہم بری طرح ہارے تھے۔اس کی وجہ جاننے کیلئے بابا کرموں سے ملنے گیا۔ بابا کرموں نے بکری کے دودھ اور گڑ کی چائے پیش کی۔ پینے کا بڑا مزہ آیا۔ بابا کرموں سے پوچھا پاک بھارت کرکٹ میچ کے ہارنے کی کیا وجہ تھی۔ کہا میچ ہارنا ہمارا فرض بنتا تھا ورلڈکپ ٹی ٹونٹی کرکٹ میچ سری لنکا میں ہوا اس میچ کو دیکھنے اعلیٰ شخصیات بھارت کے سمندری راستے سے گزر کر خریت سے کولمبو پہنچیں تھیں۔بھارت نے ان کے سفر میں رکاوٹ نہ ڈال کر ہم پہ احسان کیا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ ہم احسان فراموش قوم نہیں ہیں۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی بتایا کہ میچ کیسے کھیلنا ہے۔۔پھر ٹاس ہم نے جیتا مگر ہم نے بھارت کو پہلے کھیلنے دیا۔ ہم نے کھل کر انہیں چوکے چھکے لگانے دیئے اور اسکور ایک 175 کرنے دیا۔ آخری آور میں فاسٹ بالر نے بھی چھکا لگانے میں انکی مدد کی ، مدد تو ہمارے بیٹسمینوں اور بالروں نے بھی کی۔اگر کہا جائے کہ ہماری پوری ٹیم نے بھارتی کھلاڑیوں کی فیلڈنگ اور بیٹنگ میں بھی ان کی مدد کرتے ہوئے یہ میچ انہیں جتایا تو غلط نہ ہوگا۔ انہوں نے ہماری اہم شخصیات کو اپنی حدودِ سے گزرنے دیا تھا یہ سب اس کا نتیجہ تھا ۔کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس احسان کے بدلے میں ان کی ٹیم کو جیت سے نوازا ہم نے اس سے پہلے بھی دشمن کے ساتھ یہی رویہ ہمیشہ رکھا ہے اس نے ہم پہ جب پہلے حملہ کیا تھا تو ہم نے حساب برابر کر کرتے ہوئے اس کے آٹھ لڑاکا طیارے مار گرائے تھے اگر کسی کو یقین نہیں ہے تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھ لے۔ وہ تو اب کہہ رہا ہے پاکستان نے گیارہ طیارے گرائے تھے ۔ ہم وہ قوم ہیں جو اچھائی اور برائی کا جواب فوری دیتے ہیں۔بات ختم کرتے ہوئے بابا کرموں نے ایک گپ چائے کا مزید بنایا اس بار گڑ کے بجائے خالص بیری کا شہد شامل کیا۔اب موضوع بدلا اور کہا پیپلز پارٹی کے سیکٹری جنرل نیر حسین بخاری نے گورنر پنجاب کے ساتھ پریس کانفرنس میں یہ سوال کیا کہ اس جماعت کو سوائے اپنے لیڈر کی صحت کے بارے میں ہی کیوں فکر لاحق ہے انہیں جیل کے دوسرے قیدیوں کی صحت کی فکر کیوں نہیں۔ بابا کرموں نے کہا اس لئے کہ یہ قیدی ملک کا سابق وزیراعظم ہے باقی قیدی عوام ہیں۔ عوام کو تو کسی کی فکر نہیں کہا حکومت نے عدالت اعظمی کے حکم پر ان کے لیڈر قیدی کی بات برطانیہ میں موجود دو بیٹوں سے فون پر بات کرا دی ہے۔ بابا کرموں نے کہا میری معلومات کے مطابق قیدی باپ کی دو بیٹوں سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ بچوں نے کہا ہم تینوں بہن بھائی اور امی جان جلد اپ سے اڈیالہ میں ملنے آ رہے ہیں۔ یہ سن کر باپ نے کہا آپ دونوں آ جا ماں بیٹی کو آنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی ایک امی جان میرے ساتھ قید کاٹ رہی ہے۔ یہ آپ کی امی جان کی کمی کو یہاں محسوس نہیں ہونے دے گی۔ ہاں تمہاری امی جان کے آنے سے میری سیاست پر برا اثر بڑے گا ۔ یہ سن کر دونوں بیٹوں نے کہا ٹھیک ہے پاپا جانی ماما کے بغیر ہم تینوں بہن بھائی آپ سے ملنے آ جاتے ہیں۔جس پر پاپا جانی نے کہا اپ دونوں آئیں بہن کو ساتھ نہ لائیں۔ ایسا کر کے میری مشکلات میں مزید اضافہ نہ کرنا طبیعت اور حالات پہلے ہی میرے خراب ہیں ۔یہ سن کر دونوں بیٹوں نے بھی ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ اپنے پاپا جانی کو فون پر سنا کر فون بند کر دیا۔موضوع پھر بدلا کہا بابا جی کوئی اچھی خبر ہی سنا دیں۔ کہا نائب وزیر اعظم کے بے روزگار بیٹے کو پنجاب حکومت نے نوکری دے دی ہے۔کہا پنجاب حکومت کا یہ اچھا اقدام ہے۔ مہنگائی بہت ہے۔ گزارا مشکل سے ہوتا ہو گا۔اب پیڑول کی قیمتوں میں حکومت نے رمضان کے قریب اضافہ کر دیا ہے۔ادھرعوام نے بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ ناکارہ مال بھی مارکیٹ میں فروخت کیلئے لے آئے ہیں تاکہ عمرہ کرنے جا سکیں۔ بابا کرموں نے پوچھا نوجوان کو نوکری ملنے پر کیا عوام خوش ہیں۔ کہا بیٹا اور ابا جی تو خوش ہیں۔عوام کہتی ہے اندھا بانٹے ریوڑیا مڑ مڑ اپنوں کو۔عوام کہتی ہے مہنگائی کی وجہ یہ ہے کہ حکمران اکثر ملک سے باہر رہتے ہیں لہذا انہیں کیا پتہ مہنگائی کا۔بابا کرموں نے کہا اب آپ سنائیں اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے الیکشن کے بعد وکلا بدتمیزی کا بازار میڈیا پر گرم کیوں ہے وکلا تو سوسائٹی کی کریم سمجھے جاتے ہیں ڈبل گریجویٹ ہوتے ہیں پھر بھی یہ طوفان بدتمیزی کیسا کہا میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے وکلا قائد کے پیشے تعلق رکھتے ہیں۔لہذا وکلا کو احتیاط کرنی چاہیے ۔موجودہ بار کے الیکشن کے بارے میں بتایا کہ بار کی سیاست میں وکلا دو گروپوں میں تقسیم ہیں وکلا کا ایک گروپ حکومت کیساتھ ہے اور دوسرا گروپ اپوزیشن کے ساتھ ۔جیتنے والے جشن مناتے ہیں اور ہارنے والے اپنا رونا روتے ہیں ۔اس وقت وکلا کی زیادہ تعداد، حکومت سے وابسطہ وکلا کے لیڈران کے ساتھ خوش ہے کہ وہ وکلا کی ویلفیئر کے لئے کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں کہا وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وکلا لیڈر احس بھون کی کوششوں سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکلا کو دس لاکھ روپے کا ہیلتھ کارڈ جاری کر دیا ہے۔ جس سے نہ صرف وکلا بلکہ ان کے فیملی ممبرز بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے۔ اس گروپ کے ویلفیئر کاموں کی وجہ سے اس سال اس گروپ کے وکلا ڈسٹرکٹ بار کے صدر کا الیکشن نعیم علی گجر دوبارہ جیتا،اسی طرح اسلام اباد بار کونسل اور پاکستان بار کونسل میں بھی احسن بھون اعظم نذیر تارڑ کا گروپ جیت چکا ہے۔ اسی گروپ کا اسلام آباد ہائی کورٹ بار کا جنرل سیکرٹری بریسٹر قاسم نواز عباسی بلا مقابلہ الیکشن چیتا ہے اور اب اسی گروپ کا صدر واجد علی گیلانی دوسری بار الیکشن نو ووٹوں سے جیت چکا ہے الیکشن بورڈ کا نوٹیفکیشن بھی آ چکا ہے۔ہائی کورٹ کی نئی کابینہ مبارکبادیں وصول کر رہی ہے۔ بابا کرموں نے پوچھا مخالف گروپ اس رزلٹ کو مان نہیں رہا اب کیا ہو گا کہا اسلام آباد بار کونسل میں دوبارہ گنتی کی درخواست مخالف گروپ نے دے دی ہے ۔اب دیکھتے ہیں کیا فیصلہ آتا ہے۔ اس دوران واجد علی گیلانی ہی صدر ہائی کورٹ بار رہے گا۔ رمضان کے مبارک مہینہ کا آغاز ہو چکا ہے۔اپ سب کو بابا کرموں اور میری جانب سے رمضان کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں ۔دعا ہے اللہ ہماری نیک عبادات کے ساتھ ہمیں اپنی عادات اور رویے بھی ٹھیک رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Exit mobile version