3

کشمیربھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کیوں ؟

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے روایتی ہٹ دھرمی سے کام لے کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی دھجیاں اڑا دیں اور جنرل اسمبلی میں بھی اٹوٹ انگ کا راگ الاپ دیا۔ سشما سوراج نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور رہے گا۔ پاکستان کشمیر کا خواب دیکھنا چھوڑ دے اور بلوچستان کی جانب دیکھے۔کوئی بھارت سے کشمیر کو علیحدہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو بلوچستان کی طرف دیکھنا چاہیے۔ اگر پاکستان سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات دے کر کشمیر کو بھارت سے الگ کر سکتا ہے تو ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ دہشت گردی بونے، اگانے والے ملک کی پہچان کرکے جواب لیا جائے۔
سشما سوراج نے وزیراعظم نوازشریف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مذاکرات کی کوئی شرط نہیں لگائی۔ ان قوموں کو تنہا کیا جائے جو دہشت گردی نہیں چھوڑ رہے۔ ہم اوڑی کے لوگوں کے دکھ کو سمجھتے ہیں اسی طرح کا حملہ ہم پر پہلے ہوچکا ہے۔ ہم نے دوستی کی پیش کش کی لیکن ہمیں دہشت گردی ملی ہم نے دوستی کی ہمیں پٹھان کوٹ پر حملہ ملا۔ پاکستان بھارت واٹرکمشن کا اجلاس نہیں ہوگا، یہ اسی وقت ہوگا جب دہشت گردی رکے گی۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کو کون تحفظ دے رہا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے ہمارے ساتھ ہاتھ ملائیں اوڑی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہ کی تو معاف نہیں کریں گے۔ دفتر خارجہ نے بھارتی وزیرخارجہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے جس پر بات کر کے سشما سوراج نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایک سال پہلے مذاکرات بھارت نے معطل کئے اور 21ستمبر کو وزیراعظم نوازشریف کی مذاکرات کی پیشکش کا بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔ تمام باتیں دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے کی گئیں۔ بھارت کا سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے لاتعلقی کا اظہار حیران کن ہے۔ کشمیر بھارت کا لازمی حصہ ہے تو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کیوں ہے؟
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا خطاب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے مذاکرات کا عمل منسوخ کیا۔ سشما سوراج نے پہلا جھوٹ یہ بولا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریکارڈ پر ہیں۔ سشما سوراج نے یہ بھی سب سے بڑا جھوٹ بولا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔ انہوں نے یہ بھی جھوٹ بولا کہ ہم نے مذاکرات پر کوئی شرط نہیں لگائی۔ بھارت نے مذاکرات منسوخ کئے ساری دنیا جانتی ہے۔
سشما سوراج نے بلوچستان پر پاکستان کو بدنام کرنے کا خواب دیکھا، کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھارت نے جھوٹ بولا، بھارت نے بے بنیاد الزامات لگائے، پاکستان جواب دے گا۔ یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ بھارتی الزامات کے جواب دے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات پاکستان سے بغض کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتا۔ دنیا کو پتہ چل گیا پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ بھارت نے کشمیر کے مظالم پر جھوٹ بولا، الزامات بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم چھپانے کیلئے لگائے گئے۔ 50 سال سے بھارت ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی معاونت کرتا رہا ہے۔ ڈھائی ماہ میں 100 سے زائد کشمیری شہید، سینکڑوں بینائی سے محروم ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم کی بدترین مثال ہے۔ مقبوضہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہوگا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیر میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔
پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کا حامی ہے۔ مذاکرات خطے کی سلامتی اور امن کے لئے ضروری ہیں۔ یو این جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ بھارتی الزامات کا مقصد کشمیری خواتین اور بچوں پر ظلم سے توجہ ہٹانا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب تہمینہ جنجوعہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کی کڑی ہے۔ حالیہ بھارتی مظالم کے باعث کشمیری مائیں 100 سے زیادہ بیٹے، بیٹیاں دفنا چکی ہیں۔ سینکڑوں کشمیریوں کو بینائی سے محروم کردیا گیا، کرفیو کی وجہ سے لاکھوں کشمیری بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ کشمیری مذہب، تقریر اور تحریر کی آزادی سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل آزاد اور منصفانہ رائے شماری ہے۔ بھارت کے ایک نجی ٹی وی نے کشمیریوں کی آزادی کے معاملے پر سروے میں سوال کیا کہ کیا آپ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں؟ جس کے جواب میں 70 فیصد کشمیریوں نے کہا کہ ہاں ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ 30 فیصد نے جواب دیا کہ بھارت کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔ ایک اور بھارتی چینل پر سینئر بھارتی صحافیوں نے بتایا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات جاننے کیلئے وفد لے کر گئے۔ جہاں انہوں نے سینئر سیاسی ورکروں اور عام لوگوں سے بات کی سب کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کو بھگانے کا الزام ہے انہیں پنڈتوں کو بھگانے میں کوئی دلچسپی نہیں اگر ایسا ہی ہے تو انہوں نے وہاں سے سکھوں کو کیوں نہیں بھگایا۔ وہاں 6 سال کے بچے سے لے کر بڑوں تک کشمیر کی آزادی کیلئے لڑنے کا کہہ رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں