Home » کالم » کشمیریوں کےساتھ اظہار یکجہتی، پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی
adaria

کشمیریوں کےساتھ اظہار یکجہتی، پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی

ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا، اس موقع پر پوری قوم وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق12 سے ساڑھے 12بجے تک باہر نکل آئی اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے فاشسٹ قبضے اور کرفیو کیخلاف کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیا، مودی ہٹلر اور نازی ازم کے نظریے کے پیروکار کیخلاف پاکستان کی قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ پاکستان کشمیر کی شہ رگ ہے، ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ، پاکستان سمیت دنیا بھر میں قائم پاکستان کے سفارتخانوں جن میں ایران ، سعودی عرب، کینیڈا و دیگر ممالک شامل ہیں ، وہاں پر بھی یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا گیا ، ٹھیک 12بجے سائرن بجائے گئے، قومی ترانہ اور کشمیر کا ترانہ پڑھا گیا، سگنل آدھے گھنٹے تک ریڈ رہے اور تمام ٹریفک رکی رہی جبکہ ٹرینیں بھی ایک منٹ کیلئے کھڑی رہیں ۔ ڈی چوک میں ساڑھے 12 بجے شاہراہ دستور پر دفاتر کے ملازم اکٹھے ہوئے وہاں پر وفاقی وزراء اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی جمع ہوئے ، جدوجہدکشمیر کا عزم کا اعادہ کیا گیا، نماز جمعہ کے بعد کشمیری عوام کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ، ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں جس میں تمام طبقہ ہائے فکر زندگی کے افراد نے شرکت کی ۔ پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول گلگت و آزاد کشمیر میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیاگیا، کیونکہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان کی آزادی کا ایجنڈا نامکمل ہے اور جب تک مودی کے چنگل سے کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا اس وقت تک پاکستان جدوجہد آزادی کشمیر کی سیاسی و سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھے گا ۔ نیز پاکستان فیصلہ کرچکا ہے کہ وہ کشمیریوں کیلئے آخری حد تک جائے گا ۔ آج ملک بھر میں یوم یکجہتی آزادی کشمیر منانے کا مقصد یہ تھا کہ بین الاقوامی برادری کو بتایا جائے کہ مسئلہ کشمیر صرف اس خطے کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے کتنی اہمیت کا حامل ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھی جان چکی ہے کہ کشمیر اس وقت ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے بین الاقوامی برادری عملی طورپر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے لیکن مودی اور اس کی دہشت گرد فوج اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مذموم کوششیں کررہی ہے ، وادی میں کرفیو کو25 واں روز ہوگیا ہے وہاں پر مودی فاشسٹ نے نسل کشی کی تیاریاں کرلی ہیں ، سری نگر میں بنکرز قائم اور شوٹرزتعینات کردئیے گئے ہیں ، مسلمان پولیس اہلکاروں سے اسلحہ واپس لے لیا گیا ہے، وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ قطعی طورپر منقطع ہے، کاروبار زندگی معطل ہے، محصور کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء، دودھ ، ادویات ختم ہوچکی ہیں ، سیاسی رہنماءوں سمیت 10ہزار سے زائد شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ظلم کی انتہا یہ ہے کہ جو کشمیری شہید ہوجاتا ہے اس کے جنازے کو دفنانے تک کی اجازت نہیں ، جنازے پر گولیاں برسائی جاتی ہیں اور مزید معصوم کشمیریوں کو شہید کردیا جاتا ہے، بھارتی دہشت گرد فوج پیلٹ گنوں سمیت مسلح ہتھیاروں سے لیس ہے اور اب وادی میں کیمیکل ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ سری نگر میں جو بنکرز قائم کیے گئے ہیں وہاں پر شوٹرز کو کیمیکل ہتھیار فراہم کردئیے گئے ہیں ، امریکہ سمیت دنیا کی طاقتوں کو چاہیے کہ فی الفور اس حوالے سے ایکشن لے ، قبل اس سے کہ وہاں پر بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے لے، بین الاقوامی میڈیا بھی آواز اٹھا رہا ہے ،برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں نے کشمیریوں کی زندگی تباہ کردی ہے ۔ جبکہ امریکی میڈیا کے مطابق پردے کے پیچھے کشمیریوں کیخلاف پیلٹ گن کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ وادی میں موجود بھارتی پولیس بھی بغاوت کرگئی ہے ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی اہمیت سے بھارتی فوجیوں کے مدد گار کی سی رہ گئی ہے ۔ پولیس اور بھارتی فوج آمنے سامنے آچکے ہیں اور دونوں کے مابین جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں ، وادی کی صورتحال آتش فشاں بن چکی ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتی ہے ۔ جیلوں کے باہر بچوں سے ملنے والے والدین کی لمبی قطاریں ہیں ، بھارتی فوج چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہی ہے جو والدین بچوں سے جیلوں میں ملنے کیلئے جاتے ہیں انہیں بھی گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا جاتا ہے ۔ تمام تر پابندیوں کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر احتجاج جاری ہے ۔ مودی نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کررکھی ہے، پابندیوں کی وجہ سے اصل خبر باہر نہیں آہ پارہی دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت دو ایٹمی قوتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیٹھی ہوئی ہیں اگر اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو پوری دنیا اس جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی ۔

امریکہ اور طالبان امن معاہدے کے قریب

امریکہ اور طالبان کے مابین معاہدہ حتمی شکل پانے کی صورت میں آن پہنچا ہے، قطر میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں ، معاہدے کو آخری شکل دینے کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کابل آئیں گے اس کے ساتھ ہی وہ پاکستان کا بھی دورہ کریں گے ۔ امریکہ افغانستان میں 8600 فوجی رکھے گا جبکہ باقی ہزاروں فوجیوں کا انخلاء ہو جائے گا، امریکی صدر ٹرمپ نے انتباہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر افغانستان سے دوبارہ امریکہ پر کوئی حملہ ہوا تو ایسی فوج کے س اتھ افغانستان میں واپسی ہوگی جو اس سے پہلے کبھی دیکھی نہیں ہوگی ۔ امریکہ کا بھرپور انٹیلی جنس سسٹم افغانستان میں رہے گا ۔ ادھر دوسری جانب امریکی دفاع اور خارجہ میں اختلافات سامنے آگئے ہیں ، امریکی وزارت خارجہ کا موقف رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلاء چاہتا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہاکہ ٹرمپ اس یقین کے ساتھ کہ امریکہ محفوظ ہیں ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر افغانستان سے کبھی حملہ نہیں ہوگا ۔ ہم افغان جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں جبکہ چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈینفورڈ نے کہا کہ میں نے انخلاء کا لفظ استعمال نہیں کیا ہم اس یقین کے ساتھ افغانستان سے جانا چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بنے ۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کا نام اسلامی امارات افغانستان رکھنا چاہتے تھے اس بات کو امریکہ مان گیا ہے ۔ اب یہ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اس کا باقاعدہ آج اعلان متوقع ہے ۔ اس اعلان کے بعد افغان انٹراڈائیلاگ شروع ہوں گے،افغان فورسز اور سیاسی تنظیموں سے مذاکرات میں ناکامی پر افغان طالبان دوبارہ جنگ کرنے میں حق بجانب ہونگے ۔ دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو وہ مذاکرات سے ہی حل ہوتا ہے ۔ پاکستان افغانستان سمیت دنیا بھر میں امن کا داعی ہے اور اس نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں امن و امان قائم ہو ۔ اس کی کاوشیں سب کے سامنے ہیں ۔ اب بھی اس سلسلے میں پاکستان کا کردار انتہائی سنہرا اور ناقابل فراموش ہے ۔ امریکہ نے بھی اس سلسلے میں پاکستان سے رجوع کیا اور پاکستان نے بھرپور تعاون کیا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative