کشمیری خواتین کا یوم مزاحمت اور عالمی برادری

20

وزیراعظم عمران خان نے کشمیری خواتین کے یوم مزاحمت جو اتوار 23فروری کو کنٹرول لائن کے دونوں اطراف منایا گیا کے حوالے سے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مظلوم کشمیری خواتین کی آواز بنے ۔ اپنے ٹویٹر بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی فورسز گزشتہ 7 دہائیوں سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خواتین کے خلاف جنگی جرائم کی مرتکب ہوچکی ہیں ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے بھی کشمیر کی ;200;زادی کی جدوجہد کےلئے لڑنے والی کشمیری بیٹیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ 23فروری کا دن میری کشمیری بیٹیوں ، بیواؤں اور بہنوں کےساتھ جو اجتماعی بے حرمتی کی گئی اس کی مذمت کا دن ہے ۔ پاکستان کی بہنیں ، بیٹیاں اور مائیں دختران کشمیر کے ساتھ کھڑی ہیں اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں ;200;زادی کا سورج طلوع ہوگا ۔ کشمیری خواتین کا یوم مزاحمت ان کشمیری خواتین سے منسوب ہے جو 23فروری1991کی رات کو قابض بھارتی فورسز کے گینگ ریپ کا نشانہ بنی تھیں ،مقبوضہ جموں اور کشمیر میں 1991 میں خواتین کےساتھ ہونے والے اس دلخراش واقعے کے بعد ہرسال 23فروری کو کشمیری خواتین کا یوم مزاحمت کے طور پر منایا جاتا ہے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جاتی ہے اس دن کے منانے کا آغاز2013سے ہوا ہے ۔ کنن پوشپورہ کشمیر میں دو جڑواں گاؤں کے نام ہیں ۔ یہ دونوں گاؤں سری نگر کے شمال میں 90کلو میٹر کی دوری پرضلع کپواڑہ میں واقع ہیں ۔ یوں توتحریک ;200;زادی کشمیر کا ہر سال کربناک ہے مگر1991کا سال کشمیری خواتین کےلئے انتہائی اندوہناک تھا ۔ اس سال بھارتی مرکزی حکومت نے حریت پسندی کےخلاف ایک کریک ڈاون مہم شروع کی تھی جسکے دوران، بستیوں کا رات کے اوقات کار میں سخت محاصرہ کیا جاتا تھا ۔ گھر گھر محاصرے کے دوران خواتین اور بچوں سمیت سب کو شناخت پریڈ کے مراحل سے گزارا جاتا تھا ۔ 28سال قبل 23 اور 24فروری کی درمیانی شب بھارتی ;200;رمی نے کنن پوشپورہ گاؤں میں سرچ ;200;پریشن کے دوران مبینہ طور پر100سے زائد کشمیری خواتین کا گینگ ریپ کیا ۔ کنن پوشپورہ سے بچ جانے والوں کی تین دہائیوں سے جاری جدوجہد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی ریاست کے منظم تشدد کے خلاف جاری وسیع جدوجہد کا ایک حصہ ہے ۔ اس دن کے حوالے سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989 سے مسلح جدوجہد شروع ہونے کے بعد سے اب تک کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ اب تک گزشتہ3دہائیوں کے عرصہ میں کی گئیں کارروائیوں کے دوران23ہزار کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں اور 11ہزار سے زائد خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاچکا ہے ۔ دو ہزار تین سو سے زائد خواتین کو شہید کیاگیا ہے ۔ مئی 2009 میں شوپیاں میں وردی میں ملبوس بھارتی اہلکاروں نے دو خواتین کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور قتل کردیا جبکہ2018 میں جموں کے علاقے کٹھوعہ میں 9 سالہ بچی ;200;صفہ کی بھارتی پولیس اور ایک ہندو پجاری نے اجتماعی عصمت دری کی تھی ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہمیشہ سانحہ کنن پوشپورہ اجتماعی عصمت دری اور سانحہ شوپیاں سمیت خواتین کے خلاف عصمت دری ، قتل اور انسانی حقوق کی پامالی کے دیگر واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہیومن راءٹس واچ رپورٹ کے مطابق زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے ;200;پریشنز کے دوران پیش ;200;تے ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں نے عصمت دری کو انسداد بغاوت کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ ساتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں ایک اسکالر انجر سکجلس بائیک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار دیتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں ۔ ایک اور اسکالر شبھ متھور نے عصمت دری کوکشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر قرار دیا ہے ۔ کنن پوشپورہ خواتین پر کیا بیتی اس حوالے 2016 میں پانچ کشمیری خواتین نے اس دردناک واقعہ پر ایک مشترکہ کتاب ’کیا ;200;پ کو کنن پوشپورہ یاد ہے;238; لکھی ۔ 228صفحات پر مشتمل یہ کتاب اجتماعی جنسی زیادتی کی تفصیلات پر مبنی ہے کہ کشمیر میں کس طرح جنسی زیادتی کو حریت پسندی کےخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ کنن پوشپورہ ایک تلخ حقیقت ہے جو کشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ درج رہے گی ۔ اس کتاب کی لکھنے والی کشمیر کی پانچ بہادر لڑکیاں ہیں ۔ جن کا نام ایثار بتول، افرابٹ، سمرینا مشتاق، منزہ رشید، اور نتاشا راتھر ہے ۔ یہ کتاب انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ریسرچ سنٹر ;73826867; کینڈا کی طرف سے ;8346864673;کے تین سالہ پروجیکٹ کے تحت لکھی گئی ہے ۔ اس پروجیکٹ کے تحت ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا میں تقریبا ً;200;ٹھ کتابیں جنسی تشدد پر لکھی گئی ہیں ۔ کنن پوشپورہ کا شرمناک واقعہ بھارت کے مکروہ چہرہ کی ایک بھیانک جھلک ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ان خواتین کو کبھی انصاف ملے گا اسکا بھی امکان نہیں ہے کیونکہ اس وقت بھارت ہندوانتہا پسندجماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر تسلط ہے،جس کا خمیر ہی انسانیت کشی سے اٹھا ہے ۔ 5اگست 2019 کو مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے پورے خطے کو جس طرح لاک ڈاوَن کر کے دوسو سے زائد دنوں سے انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے، اسکی مثال شاید دوبارہ کہیں قائم ہو سکے ۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے بجا مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظلوم کشمیری خواتین کی آواز بنے ۔ عالمی برادری ہر چیز کو معاشی مفادات کے ترازو میں نہ تولے ۔