Site icon Daily Pakistan

کشمیر اور سندھ طاس منصوبہ

جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں پانی ہمیشہ سے ایک حساس اور اسٹریٹجک وسیلہ رہا ہے۔ خصوصا کشمیر کا خطہ، جہاں سے دریائے سندھ کے نظام کی بڑی شریانیں جنم لیتی ہیں، پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ سندھ طاس منصوبہ اور اس سے جڑا آبی انتظام صرف تکنیکی یا معاشی معاملہ نہیں بلکہ علاقائی سلامتی، زرعی بقا اور عوامی فلاح سے براہِ راست وابستہ ہے ۔ سن 1960میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں انڈس واٹرز ٹریٹی طے پایاجس کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے لیے مختص کیا گیا جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو دیے گئے۔ اس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود یہ اب تک قائم ہے ۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس معاہدے کی تشریح اور اطلاق پر اختلافات بڑھتے گئے، خاص طور پر کشمیر میں بھارت کی جانب سے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کے باعث ۔ کشمیر کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ خطہ دریاں کے منبع پر واقع ہے۔ پانی کے بہا پر کنٹرول نہ صرف توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے بلکہ زرعی معیشت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ پاکستان کی تقریبا 90فیصد زرعی پیداوار دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کمی براہِ راست غذائی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں سندھ طاس منصوبہ محض ایک انجینئرنگ پروگرام نہیں بلکہ قومی بقا کا معاملہ بن جاتا ہے۔پاکستان نے معاہدے کے بعد بڑے ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر کے ذریعے پانی ذخیرہ کرنے اور تقسیم کا نظام مضبوط بنانے کی کوشش کی جن میں تربیلا اور منگلا ڈیم نمایاں ہیں۔ ان منصوبوں نے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا، سیلابی خطرات کم کیے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دی۔ تاہم بڑھتی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے ضیاع جیسے مسائل نے اس نظام پر دبا بڑھا دیا ہے ۔دوسری جانب بھارت کا موقف ہے کہ وہ معاہدے کے دائرے میں رہتے ہوئے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے اور اس کا مقصد صرف توانائی پیدا کرنا ہے، نہ کہ پانی روکنا۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ ان منصوبوں کے ڈیزائن میں ایسی خصوصیات موجود ہیں جو پانی کے بہا کو عارضی طور پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو زرعی موسم کے دوران نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہی اختلافات کئی بار ثالثی اور بین الاقوامی فورمز تک پہنچ چکے ہیں۔کشمیر کے تنازع کے حل کے بغیر پانی کے مسئلے کا مستقل حل مشکل دکھائی دیتا ہے۔ جب تک خطے میں اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کیے جاتے، ہر نیا منصوبہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا رہے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مشترکہ واٹر مینجمنٹ، ڈیٹا شیئرنگ اور شفاف نگرانی کے نظام سے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے۔علاقائی تعاون کی ضرورت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پانی کا بحران کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔ اگر دریاں کے نظام میں عدم توازن پیدا ہو تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک تکنیکی مذاکرات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھتے ہوئے عملی حل تلاش کریں۔ عالمی سطح پر بھی اس امر پر زور دیا جا رہا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنایا جائے۔پاکستان کے اندر بھی پانی کے انتظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ نہری نظام میں پانی کا ضیاع، غیر موثر آبپاشی طریقے اور ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت ایسے عوامل ہیں جو بحران کو بڑھاتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی ، ڈرپ اریگیشن اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے پانی کے استعمال کو زیادہ موثر بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نئے ذخائر کی تعمیر اور موجودہ انفراسٹرکچر کی بہتری بھی اہم ہے۔میڈیا اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حساس مسئلے پر متوازن اور حقائق پر مبنی گفتگو کو فروغ دیں۔ جذباتی بیانات کے بجائے سائنسی اور قانونی پہلوں کو سامنے رکھا جائے تاکہ عوام میں آگاہی بڑھے اور پالیسی سازی بہتر ہو سکے۔ کشمیر اور سندھ طاس منصوبے کو صرف تنازع کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اسے مشترکہ ماحولیاتی اور انسانی چیلنج کے طور پر سمجھنا زیادہ سودمند ہو گا ۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ پانی آنیوالے برسوں میں خطے کی سیاست کا اہم ترین عنصر بن سکتا ہے۔ اگر دانشمندانہ فیصلے کیے جائیں، معاہدوں کی روح کے مطابق عمل ہو اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا جائے تو سندھ طاس منصوبہ نہ صرف تنازع کم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل اور آبی وسائل کے منصفانہ استعمال کے بغیر پائیدار ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔یہ وقت ہے کہ پانی کو طاقت کے ہتھیار کے بجائے تعاون کے پل کے طور پر دیکھا جائے، کیونکہ دریائوں کی فطرت بہائو ہے اور یہی بہا امن، ترقی اور مشترکہ مستقبل کی علامت بن سکتا ہے۔

Exit mobile version