Home » کالم » کشمیر بنے گا خود مختار یا الحاق پاکستان

کشمیر بنے گا خود مختار یا الحاق پاکستان

جے کے ایل ایف کے چیئرمین یاسین ملک بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ایک کمرے میں پابند سلاسل ہیں ان سے بھارت مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور انکے رویے میں لچک پیدا کرنے کےلئے دباءو ڈال رہا ہے اور یاسین ملک کو اپنی موت سامنے نظر ;200;رہی ہے لیکن کشمیری قوم کا یہ سپوت مرد کا بچہ ہے موت گلے لگا لے گا سمجھوتہ نہیں کرے گا اسے پتہ ہے ایک یاسین ملک کے ;200;زادی کی راہ میں جان دینے سے ہزاروں یاسین پیدا ہونگے اسے معلوم ہے کہ شیخ عبداللہ نے غداری کی تھی ;200;ج اس کی قبر پر کوئے بول رہے ہیں جبکہ مقبول بٹ، حمید دیوانی، افضل گورو اور برہان وانی کے تابوتوں سے بھی بھارت خوف کھاتا ہے وہ قبر سے شمعیں روشن کر رہے ہیں اور بھارت سے ;200;زادی کی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں ۔ حمید دیوانی، افضل گورو مقبول بٹ اور برہان وانی اور دیگر شہدا کو سب کو موت سامنے نظر ;200;رہی تھی مگر انہوں نے شہادت کو ;200;زادی کےلئے ترجیح دی انہیں پتہ تھا ;200;زادی کی راہ میں بہنے والا خون کبھی ضائع نہیں ہوگا;46; سید علی گیلانی 90سال کی عمر میں بھارتی ظلم اور بربریت برداشت کررہا ہے لیکن اس کے موقف میں زرہ نرمی نہیں ہے وہ ہندوستان کی نام نہاد جمہوریت کی بربادی کی علامت ہے وہ پورے قد کے ساتھ کھڑا ہے ۔ دختران ملت کی ;200;سیہ اندرابی کی حالت دیکھ لیں اس پر بدترین ریاستی دہشت گردی ہورہی ہے بیمار مجبور عورت ہے ہندو انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ رہی ہے جیل میں ساری تکلیفیں برداشت کررہی ہے لیکن جذبہ دیکھیں مسمم ارادے کے ساتھ چٹان کی طرح ڈٹی ہوئی ہے شبیر شاہ کو دیکھ لیں بھارتی جبر کی ;200;خری حد بھی برداشت کرچکا ہے مجال ہے کوئی لغزش کوئی مجبوری اس کو درپیش ہو موت کی خبر گردش کرتی رہی بیگم اور بھائی فتح کے نشان بناتے ہیں بھارت کے اس ;200;زادی پسند قیدی کو ;200;زادی کا سورج ہی اپنی معراج لگتی ہے گویا کشمیر کی ساری قیادت ایک ہی نکتہ پر متحد ہے جیل کے اندر اور باہر بھارت سے ابتدا سے ;200;خر تک ;200;زادی ۔ قربانیوں کی تاریخ رقم ہو رہی ہے جماعت اسلامی اور جے کے ایل ایف 90 ہزار شہدا کی وارث ہے مقبوضہ کشمیر میں ہر گھر میں شہید کی قبر ہے وہی لوگ تحریک کے اصلی وارث ہیں وہاں جنگ وجدل ہے وہاں قیامت صغری برپا ہے وہاں پر ہی کربلا ہے جہاں ماءوں کی گودیں ;200;جڑ رہی ہیں شیرخوار بچے ماءوں سے چھین کر موت کی گھاٹ ;200;تارے جارہے ہیں کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے جوان عورتوں کو اغوا کر کے بھیڑیے بھارتی درندے دہلی ممبئی لاکر عصمت دری پر مجبور کر رہے ہیں پانچ ہفتوں سے زائد وقت گزر گیا کرفیو نافذ ہے خوراک نہیں دودھ نہیں مقبوضہ کشمیر کی فضا خون ;200;لود ہے ۔ ;200;زاد کشمیر کا اقتداری طبقہ نہ کچھ پہلے کرسکا ہے نہ اب کرے گا نہ ان کے بس کی بات ہے صرف ان کے خون میں ایمان کی حرارت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ادھر والے کشمیری اپنی قیادت کی طرح سفید خون والے ہیں جنازے پر تصویریں کھینچ کر اسے کشمیر کا سیمینار بنا دیتے ہیں اپنی پارٹی اپنی دوکان اپنا لیڈر اپنا منجن بیجتے ہیں دوسروں پر نکتہ چینی، اعتراضات ،مخالفت غیبت اور اپنی چوھدراہٹ قائم کرنے کےلئے لگے ہوئے ہیں شرم کا مقام ہے ہم کیسے مسلمان ہیں حالت جنگ وجدل میں بھی اپنے ;200;پ کو بدلنے کےلئے تیار نہیں پھر نماز بھی پڑھتے ہیں جمعہ کی نماز جنازہ ایک ساتھ ادا کرتے ہیں مانا تم سب بہت بڑے قد کاٹھ، برادری، پیسے، مال و اسباب والے ہو لیکن زرہ سوچو تمہارے مسلمان بھائی کس اذیت میں ہیں انہیں عرب ممالک کیا مدد کریں گے جو بھارت میں انوسٹمنٹ کررہے ہیں موددی کو کشمیریوں اور گجراتی مسلمانوں کو قتل کرنے پر ایوارڈ دے رہے ہیں وہ کبھی نہیں کریں گے ان کی نظریں تمہارے ;200;وپر پاکستانیوں اور ;200;زادکشمیر والوں پر لگی ہوئی ہیں اور تم ہو جو ;200;پس میں نفاق اور اختلاف پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہو خدا را اس موقع پر رد کر کردیں ہر اس کوشش کی جو اندرون پاکستان ;200;زادکشمیر اور بیرون ملک ;200;باد پاکستانیوں اور کشمیریوں میں انتشار پیدا کرے پاکستان کی حکومتوں سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ریاست کی مخالفت اس موقع پر زہر قاتل ہے پاکستان کی حکومتوں سے کوئی گلہ شکوہ ہے تو میڈیا کا سہارا لیں پاکستان کے سفارت خانے استعمال کریں سفارت خانے ہر اس شخص کے ہیں جو پاکستانی پاسپورٹ رکھتا ہے اور سفارت کار ;200;پ کا نوکر ہے دوسرے سفارت خانوں میں جاکر چیف اور بڑے بن جاتے ہیں چونکہ ;200;پ وہاں نہیں جاتے یہ ;200;پ کا حق ہے کہ بیرون ممالک رہتے ہوئے سفارت خانوں کے زریعے حکومت پاکستان ریاست پاکستان کے اداروں پر اپنے تحفظات یا سفارشات پیش کریں جس طرح ہر کسی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کی تگ ودو کرے اگر وہ اس نظریہ کو درست سمجھتا ہےتو کیوں نہیں اسی طرح کوئی بنیادی طور پر خود مختار کشمیری ریاست کا حامی ہے تو اس کو اس کا پورا حق حاصل ہے لیکن اس کا ابھی وقت ہی نہیں ;200;یا موقع ;200;ئے گا تو بناتے رہنا جو بنانا ہے پہلے 10 ملین مسلمانوں کو ظالموں سے تو چھڑائیں ۔ چلتے چلتے یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی چیئرمین امان اللہ خان مرحوم پاکستان کا مخالف نہیں حامی تھا بھارت نے جب انٹرپول کے زریعے امان اللہ خان کو گرفتار کروایا تو حکومت پاکستان نے مقدمہ لڑ کر انہیں واپس لے گئی تھی گلگت بلتستان کی ;200;ئینی حیثیت کو سابقہ حکومت نے تبدیل کرنے کی کوشش کی تو مرحوم امان اللہ گلگت میں چلے گئے اور ایک ماہ سے زیادہ عرصہ انہوں نے وہاں گزرا اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ ڈکلیئر کرنے کی مخالفت کی ان کی بات سنی گئی پیپلزپارٹی کی حکومت نے تو باقاعدہ قمر زمان کائرہ کو گورنر بناکر شیروانی بھی پہنا دی تھی تاریخ سے نابلد دوستوں کےلئے عرض ہے حمید دیوانی اور مقبول بٹ دونوں گوریلا وار کے حامی تھے وہ پاکستان میں بھی رہے لیکن انہوں نے کبھی پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ نہیں کی نہ کسی کو ایسا کرنے کی ترغیب دی اور نہ کبھی پاکستان کے خلاف خود گولی چلائی یہ لوگ ;200;زادی پسند تھے ان کی نظر میں پاکستان اور ہندوستان میں بڑا فرق تھا نہ کبھی یاسین ملک نے کسی نجی محفل میں بھی ایسی کوئی بات نہیں یاسین ملک کی بیوی اور بچی پاکستان میں ہے اور پوری ;200;زادی سے پاکستان کے سارے میڈیا پر اپنا موقف پیش کرنے میں ;200;زاد ہے میں نے لندن میں سردار عبدالقیوم مرحوم و مغفور کو خود یہ نعرہ لگانے سے پہلے یہ کہتے سنا کہ کشمیر بنے گا جس نے کہنا ہے پاکستان وہ کہے پاکستان اور جس نے کہنا ہے خود مختار وہ کہے خود مختار ۔ پھر سردار عبدالقیوم خان صاحب نے نعرہ لگوایا حالانکہ سردار عبدالقیوم الحاق پاکستان کے سب سے بڑے داعی تھے اور جس وقت انہوں نے یہ نعرہ لگوایا وہ جنرل مشرف کی قومی کشمیر کمیٹی کے چیرمین تھے کشمیر میں دو نظریات پائے جاتے ہیں ایک الحاق اور دوسرا خود مختاری کا;200;زاد کشمیر میں محرومیوں کے خلاف میں ہمیشہ لکھتا بھی ہوں اور بولتا بھی ہوں حتی کہ میں نے کئی محرومیوں کے خلاف کئی ٹی وی پروگرام کیے ;200;ور یہاں تک کہ میں نے الیکشن لڑتے وقت الحاق پاکستان کی شق ختم کرنے کےلئے بار بار پروگرام کیے میں ;200;ج بھی لکھتا ہوں کہ ;200;زادکشمیر میں ایک انٹرنیشنل ائیرپورٹ ہونا چاہئے پاکستانی افواج میں کشمیریوں کا بیس فیصد کوٹہ ہونا چاہئے پاکستان کی سینٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں کشمیریوں کی الگ سیٹیں ہونی چاہیئے ;200;زادکشمیر کی اپنی کرکٹ بورڈ ہونی چاہیئے سڑکیں ،پل اور سکولز کالجز قائم ہونے چاہئیں ۔ مجھ سے بڑا نہ کوئی کشمیری ہے اور نہ ہی پاکستانی ۔ اس موقع پر ایک دوسرے سے الجھنے کے بجائے اتفاق اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے وقت ;200;ئے گا تو کشمیر کو پاکستان بنا دینا یا خود مختار بنادیں میرے لئے تو دونوں جسم اور روح کی مانند ہیں ۔

;200;گیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا

فیصلہ ہونے کو ہے تم دیکھنا کشمیر کا

About Admin

Google Analytics Alternative