کشمیر کمیٹی اور علی گیلانی ۔۔عافیہ صدیقی بھی

20

عافیہ صدیقی کے حوالے سے لکھا ہے لیکن اس سے قبل سید علی شاہ گیلانی کے بیان کی بات ہو جائے کہ مقتل میں کھڑے سید زادے کی بات نظر انداز کی ہی نہیں جا سکتی۔
میری رائے میں سید علی گیلانی کے تازہ بیان کے بعد مولانا فضل الرحمن صاحب کو خود ہی کشمیر کمیٹی سے الگ ہو جانا چاہیے۔
یہ اعتراض کوئی عام آدمی نہیں سید علی گیلانی کر رہا ہے۔
ہم. کب تک رویت ہلال، کشمیر کمیٹی اور اس طرح کے دیگر اداروں کو سیاسی نوازشات کے طور پر استعمال کرتے رہیں گے۔۔۔؟
مقتل میں کھڑا پاکستانیوں سے بڑا پاکستانی اگر سوال اٹھا رہا ہے تو اس دستر خوان کو لپیٹ دیجیے صاحب۔
تہتر کے آئین کے تناظر میں اور بڑے ادارے ہیں جہاں ملک و قوم کی ’’ خدمت ‘‘ کی جا سکتی ہے۔
علی گیلانی ایسے آدمی نہیں جنہوں نے فضل الرحمان ساحب کو اس منصب سے ہٹانے کی بات کسی تعصب کی بنیاد پر کی ہو۔ کشمیر کاز میں وہ ایک توانا اور باکردار آواز ہیں۔اور اس آوازکو نظر انداز نہیں کیاجانا چاہیے۔
اب آتے ہیں اس موضوع کی جانب جس پر ہم بات کر رہے تھے۔
تو گزارش یہ ہے کہ عافیہ صدیقی کی گرفتاری کی کہانی میں ڈھیروں تضادات ہیں ۔کبھی کہا گیا ان پر ایک دکاندار کو شک گزرا اور وہ گرفتار ہوئیں تو کبھی کہا مسجد سے نکلتے ایک نمازی کو شک گزرا تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔کسی نے کہا وہ مقامی زبان نہیں بول رہی تھیں اس لیے مشکوک ہو گئیں تو کبھی یہ موقف اختیار کیا گیا کہ وہ ایک نقشہ پھیلائے بیٹھی تھیں اس لیے ان پر شک گزرا۔
Petra Bortosiewicz نے 26 نومبر2010 کو ہارپر میگزین میں اس گرفتاری کے حوالے سے اپنے مضمون
” The Intelligence Factory: How America makes its enemies disappear”
میں لکھا کہ: ’’حتی کہ اس گرفتاری کی تفصیلات میں بھی اختلاف ہے جو غزنی کی جامع مسجد کے باہر بھرے مجمع کے سامنے کی گئی۔یہ تو کہا گیا کہ وہ مشکوک انداز سے پھر رہی تھی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ مشکوک انداز سے کیوں پھر رہی تھی۔جب بعد ازاں میں نے ایک مقامی رپورٹر کی خدمات لے کر عینی شاہدین کا دوبارہ انٹرویو کیا عبدالغنی نامی پولیس افسر نے جس نے عافیہ کو گرفتار کیا تھا مجھے بتایا کہ اس کے پاس ایک صندوق تھا جو کیمیکلز سے بھرا ہوا تھا۔فرہاد نامی ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ نہیں اس کے پاس سے پولیس کو صندوق نہیں ملا تھا بلکہ صرف کچھ کاغذات ملے تھے۔حکمت اللہ نامی ایک شخص نے کہا کہ عافیہ جب گرفتار کی گئی تو وہ قریب آنے والے ہر شخص پر حملہ کر رہی تھیں۔(یہ بات سرکاری کمپلینٹ میں نہیں لکھی گئی)۔میر واعظ نامی ایک نمازی نے بتایا کہ عافیہ کو پولیس ہتھ کڑی لگا کر لے گئی جبکہ ایک فارمیسی کے مالک مسعود نبی زادہ نے کہا کہ ہتھ کڑی تو وہاں دستیاب ہی نہیں تھی انہیں سکارف سے باندھ کر لے جایا گیا‘‘۔
گرفتاری کے واقعات میں موجود یہ تضادات جوں جوں نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ عافیہ کی گرفتاری کی اس کہانی میں سچ کتنا ہے اور جھوٹ کتنا۔عافیہ تو 2003 سے غائب تھیں ۔تو کیا 2003 سے 2008 تک وہ افغانستان میں آپریٹ کرتی رہیں اور ایک روز گرفتار ہو گئیں؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا کافی مشکل ہے۔ڈکلش والش نے دی گارجین میں ,” The mystery of Dr. Aafia Siddiqui” کے عنوان سے 24 جنوری 2009 کوشائع ہونے والے اپنے مضمون میں ایک ای میل کا ذکر کیا ہے جو عافیہ صدیقی نے امریکہ میں اپنے سابق پروفیسر کو کی تھی ۔ یہ میل عافیہ نے یکم مارچ 2003 کو اس وقت کی تھی جب وہ آغا خان یونیورسٹی کراچی میں جاب کر رہی تھیں۔ اس میل میں انہوں نے پروفیسر کو لکھا کہ ان جیسے تعلیمی پس منظر کی حامل خاتون کے لیے یہاں مواقع بہت کم ہیں اور وہ امریکہ میں آ کر کام کرنا چاہتی ہیں۔اس ای میل کا ذکر پیٹرا ( Petra Bortosiewicz )نے بھی اپنے مضمون میں کیا تھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو خاتون یکم مارچ کو اس خواہش کا اظہار کرتی ہے کہ آغا خان یونیورسٹی کراچی میں اس جیسی اعلی تعلیم یافتہ خاتون کے لیے کام کے مواقع کم ہیں اور وہ امریکہ آنا چاہتی ہے وہ خاتون اس ای میل کے چند روز بعد بچوں سمیت افغانستان کیوں چلی جائے گی؟واقعاتی شہادتیں اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ عافیہ نے یہ سارا عرصہ افغانستان میں القاعدہ وغیرہ کے لیے کام کرتے ہوئے گزارا ہو گااور انہیں اسی طرح گرفتار کیا گیا ہو گا جس طرح بیان کیا جاتا ہے۔

کارِسیاست۔۔۔ شوق موسوی
جس قدر دارالخلافہ سرد ہے
اس قدر کارِ سیاست گرم ہے
طنز ہیں طعنے ہیں لب پر گالیاں
کچھ حیا ہے اور نہ کوئی شرم ہے