Home » کالم » کلسٹر بموں کا استعمال ، بھارت ہوش کے ناخن لے
adaria

کلسٹر بموں کا استعمال ، بھارت ہوش کے ناخن لے

حالیہ دنوں میں پاکستان کے عالمی برادری کےساتھ استوار ہوتے نئے تعلقات کے بعد مودی انتظامیہ انگاروں پر لوٹنے لگی ہے ۔ اسکا ثبوت کنٹرول لائن پر اس کی وحشیانہ بمباری سے ملتا ہے جس میں اب بھارتی فورسز کلسٹر بم استعمال کرنے لگی ہیں ۔ کلسٹربموں کے ٹھوس شواہد بھی سامنے ;200; چکے ہیں ۔ بھارتی فوج نے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک ;200;باد شہریوں کو کلسٹر بم کے ذریعے نشانہ بنایا ہے جو جنیوا اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ30اور31جولائی کی درمیانی شب وادی نیلم پر بھارتی فورسز نے شیلنگ کے دوران کلسٹر بم کا استعمال کیا ۔ جسکے نتیجے میں ایک4سالہ بچے سمیت2 شہری شہید جبکہ11زخمی ہوگئے تھے، جن کی حالت تشویشناک ہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جنیوا کے کلسٹر ایمونیشن کنونشن کے تحت عام شہریوں پر کلسٹر بم کا استعمال ممنوع ہے ۔ بھارت کا جنگی جنون تمام بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے جو بھارتی فوج کے اصل کردار اور اخلاقی قدر کو کھول کر دنیا کے سامنے لاتا ہے ۔ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر ;200;ئی ایس پی آر نے بجا طور پر بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال کا نوٹس لے ۔ ادھر وزارت خارجہ نے بھی اس خلاف ورزی پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی پر کلسٹر بم کا استعمال کرکے جینواکنونشن کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کلسٹر بم کا استعمال کرکے بہت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے،ایسی کارروائیوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ بلاشبہ جرمنی کے شہر ڈبلن میں 2008 میں منظور ہونے والے کنونشن کے تحت کلسٹر بموں کی تیاری، ذخیرہ کرنے، منتقلی اور استعمال پر پابندی عائد ہے اور دنیا کے 100 سے زائد ممالک اس کنونشن پر دستخط کر چکے ہیں ۔ کلسٹر بم ایک ایسا بڑا بم ہوتا ہے جسکے اندر مزید چھوٹے چھوٹے بم ہوتے ہیں ،اس بم کے علاقے میں گرنے کے بعد اس سے نکلنے والے چھوٹے بم وسیع علاقے میں پھیل کر تباہی و بربادی پھیلا دیتے ہیں ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایک کلسٹر بم کے اندر مزید2000ہزار تک چھوٹے بم موجود ہو سکتے ہیں ۔ ان بموں کا استعمال1940کی دہائی میں شروع ہوا اور عام شہری ;200;بادی نے اسکی بھاری قیمت چکائی ۔ جس پر ریڈ کراس نے تشویش کا اظہار کیا اور یو این سے اس سفاکی کو روکنے کا مطالبہ کیا ۔ 2007 میں ناروے نے ’اوسلو پراسیس‘ کے نام سے کلسٹر بموں کا استعمال روکنے کی کوششوں کا ;200;غاز کیا ۔ کم و بیش ایک سال سے زائد عرصہ کی کوشش سے3 مئی 2008کو جرمنی کے شہر ڈبلن میں کنونشن ;200;ن کلسٹر امیونیشنزمنظور ہوا ۔ اب یہ عالمی برادری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوٹس لے ۔ وزارت خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو اقوام عالم کے سامنے رکھے گا تاہم دریں اثناء ضروری ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خصوصی مراسلہ لکھے ۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں ، ایک نہیں دو بار انہوں نے ثالثی کی پیشکش کی ہے ۔ لوہا گرم ہے امریکی انتظامیہ کو حقائق سے پوری طرح ;200;گاہ رکھا جائے ۔ صرف یہی نہیں کہ بھارت نے پہلی بار کسی عالمی معاہدے کی ساکھ خاک میں ملائی ہے بلکہ یو این کی کشمیر پر جملہ قراردوں کو پچھلے ستر سال سے جوتی کی نوک پر رکھے ;200; رہا ہے ۔ ایل او سی پر پاکستان اور بھارت کے مابین ایک معاہدہ موجود ہے مگر شر پسند مودی حکومت وحشی پن پر اتر ;200;ئی ہے ۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر بھارتی فوج نے رواں برس اب تک ایک ہزار8سو24مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد شہریوں کو شہید کیا ہے ۔ بھارت کا یہ باولا پن خطے کےلئے خطرناک ہے ۔ دو ایٹمی قوتوں میں تناوَ جنوبی ایشیا کو کسی نئے بحران سے دوچار کر سکتا ہے ۔ قبل ازیں رواں سال فروری میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عملی طور بڑے تصادم کی صورتحال پیدا کر دی تھی ۔ ایک بار پھر مودی انتظامیہ اس بند گلی کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ اس وقت مقبوضہ وادی میں خوف کا عالم ہے اور چند دن کے اندر تیس ہزار کے لگ بھگ مزید فوجی کشمیر اتارے جا چکے ہیں ، کشمیر مکمل طور پر غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے ۔ وادی سے ہندو یاتریوں ، سیاحوں اور غیرکشمیری طلبا کو واپس لوٹنے کے حکم سے عوام اور سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے جسکا اظہار جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ کے ٹوئیٹس سے بخوبی ہوتا ہے ۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کےلئے فوج اور ایئر فورس کو الرٹ کرنے کا مطلب کیا ہے ۔ یہ35 اے یا حد بندی کے متعلق نہیں ہے ۔ اگر اس طرح کا الرٹ واقعی جاری کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب کوئی بالکل ہی مختلف چیز ہے ۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے کشمیر میں عام لوگ کسی بڑی کارروائی کے امکان سے خوف کی گرفت میں ہیں ۔ مودی حکومت کے بعض اعلانات اور جنگی پیمانے کی فوجی نقل و حرکت سے افواہوں کو تقویت مل رہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے ;200;ئین کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کئے جانے کا ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے،یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مودی حکومت نے ہندو اکثریت والے جموں خطے کو علیحدہ ریاست جبکہ مسلم اکثریتی علاقے نئی دہلی کے زیرانتظام خطے قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم جو بھی ہے یہ ایک خطرناک کھیل ہے ۔ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جس سے بحران مزید پیچیدہ ہوجائے ۔ سابق بھارتی وزیراعظم کا مشورہ ہوشمندی کی علامت ہے جبکہ مودی حکومت ہوش کے ناخن لینے سے عاری محسوس ہوتی ہے ۔

حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کا فکر انگیز پیغام

مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی جدوجہد کرنے والی سب سے بڑی تنظیم آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے جھنجوڑ دینے اپنے ایک پیغام میں بھارتی حکومت کی جانب سے وادی میں پرتشدد کارروائیاں شروع کرنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے مسلمان برادری سے مدد کی اپیل کردی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم سب مار دئیے گئے اور آپ خاموش رہے تو اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا ۔ سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر پر اپنے پیغام میں سید علی گیلانی نے کہا کہ اس دنیا میں بسنے والے تمام مسلمان اس ٹوءٹ کو ہماری زندگیاں بچانے کے لیے پیغام کے طور پر لینا چاہیے ۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت، انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی کرنے والا ہے، اللہ ہ میں محفوظ رکھے ۔ سید علی گیلانی کے پیغام نے نہایت ہی سنجیدہ سوال کو جنم دیا ہے اور اس یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کس نہج تک جا پہنچی ہے ۔ مسلم ورلڈ کے نمائندہ پلیٹ فارم او آئی سی کو اس سے سلسلے میں آگے بڑھنا ہو گا ۔ کشمیریوں کی نسل کشی کا مودی پلان اگر عمل میں آگیا تو پھر مظلوم کشمیریوں کے خون کابوجھ پوری امت مسلمہ پر ہوگا ۔ یہی وقت ہے کہ ہم آواز ہو کر بھارت کو مشترکہ پیغام دیا جائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative