تربیت نہ ہو تو تعلیم کسی کام کی نہیں ۔ تربیت کی پہلی درسگاہ ماں کی گود کو کہا جاتا ہے لیکن جب سے ماں نے مردوں کے شاہانہ بشانہ کام کرنا شروع کیا ہے بچے کی یہ درسگاہ کو گھریلو ملازمہ کے حوالے کر دیا ہے۔ورنہ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں تربیت اپنی ماں سے سیکھا کرتا تھا جیسے سچ بولنا یا جھوٹ سے بچنا، محبت، ہمدردی اور احترام۔ ماہرینِ نفسیات بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ بچے کی شخصیت کی بنیاد زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں پڑتی ہے۔ آج کے دور میں بابا کرموں کہتا ہے ماں کی گود اب پہلی درس گاہ نہیں رہی”، کیونکہ اب بچے کو موبائل، ٹی وی اور انٹرنیٹ مل رہا ہے۔بہت سے گھروں میں والد اور والدہ دونوں ملازمت کرتے ہیں، اس لیے بچوں کے ساتھ وقت نسبتاً کم گزرنے لگا ہے۔بچے گھر کے نوکروں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں اس لیے ان کی عادات نوکروں جیسی ہو رہی ہیں ماہرین کی رائے ہے کہ ماں کا کردار آج بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید ذرائع تعلیم اور میڈیا اپنی جگہ ہیں لیکن بچے کی ابتدائی شخصیت، اعتماد، جذباتی نشوونما اور اخلاقی تربیت پر ماں اور گھر کے ماحول کا اثر سب سے گہرا رہتا ہے۔اس لیے زیادہ درست بات یہ ہوگی کہ:”ماں کی گود آج بھی بچے کی پہلی درس گاہ ہے، لیکن خاندان، اسکول میڈیا معاشرہ اور گھر کا ماحول بھی بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دنیا میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے چند ممالک اکثر مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ کوئی ایک ملک "سب سے بہتر” ہے، کیونکہ ہر معاشرے کی اپنی اقدار اور ترجیحات ہیں۔ جیسے فن لینڈ میں بچوں پر غیر ضروری تعلیمی دبا کم رکھا جاتا ہے ۔ کھیل تخلیقی صلاحیت اور ذہنی صحت پر زور دیا جاتا ہے۔والدین اور اساتذہ کے درمیان مضبوط تعاون میسر ہوتا ہے۔وہاں بچوں کو خود مختاری اور ذمہ داری سکھائی جاتی ہے۔اسی طرح جاپان میں نظم و ضبط، احترام اور اجتماعی ذمہ داری پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ بچے چھوٹی عمر سے اپنے کام خود کرنا سیکھتے ہیں۔اسکولوں میں صفائی کے کاموں میں بچے خود حصہ لیتے ہیں۔ ڈنمارک جیسے ملک میں بچوں میں خوشی اعتماد اور جذباتی نشوونما پر توجہ دی جاتی ہے ۔ وہاں والدین بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔سزا کے بجائے مکالمے اور رہنمائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔اسی طرح سویڈن ہے جہاں بچوں کے حقوق اور عزتِ نفس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔والدین کو طویل رخصت دی جاتی ہے تاکہ وہ بچوں کی بہتر پرورش کر سکیں ۔ اسی طرح سنگاپور میں تعلیم، محنت اورکردار سازی پر زور دیا جاتا ہے۔والدین بچوں کی تعلیمی ترقی میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ ان ممالک میں اگرچہ طریقے مختلف ہیں لیکن چند باتیں مشترک ہیں والدین بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ۔ دیانت داری اور احترام سکھایا جاتا ہے ۔ تعلیم کے ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔بچوں کو ذمہ داری دی جاتی ہے۔جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھا جاتا ہے اسلامی نقط نظر میں بہترین تربیت وہ ہے جس میں اچھا اخلاق، سچائی، امانت داری ہو۔ والدین و بڑوں کا احترام اور انسانیت کی خدمت سکھائی جائے ۔ جب تک بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود رہی بچے یہی کچھ سیکھا کرتے تھے کیونکہ یہی اوصاف ایک کامیاب اور باکردار انسان کی بنیاد بنتے ہیں۔ ہمارے طلبہ جب فارن میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تو وہ وہاں سے صرف ڈگری ہی نہیں لیتے بلکہ بہت سے ایسے تجربات اور مہارتیں بھی حاصل کرتے ہیں جو پاکستان میں نسبتا کم مواقع کے ساتھ میسر ہیں جیسے تحقیق اور تنقیدی سوچ۔ طلبہ کو سوال پوچھنے، دلائل دینے اور آزادانہ تحقیق کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ رٹہ لگانے کے بجائے تجزیہ اور تنقیدی سوچ پر زور ہوتا ہے۔وہاں مختلف ممالک، مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں کے ساتھ پڑھنے اور کام کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ عالمی سطح پر رابطے بنتے ہیں۔ بعد میں یہ پیشہ ورانہ زندگی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ راقم خود بھی فارن میں طالبعلم رہا ہے لہٰذا ان باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔فارن میں ایسے مواقع ہر ایک کو ملتے ہیں۔خود مختاری اور نظم و ضبط کیلیے بہت سے سٹوڈنٹس پہلی مرتبہ اپنی رہائش، بجٹ، کھانے پینے اور وقت کے انتظام کی ذمہ داری خود سنبھالتے ہیں۔ایسا کرنے سے ان میں خود اعتمادی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت بڑھتی ہے پھر جدید تعلیمی وسائل دیکھنے کو ملتے ہیں بڑی لائبریریوں، آن لائن ڈیٹا اور تحقیقی مراکز تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔دنیا کے معروف اساتذہ اور محققین کے ساتھ کام کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔پیشہ ورانہ مہارتیں، پریزنٹیشن، تحریری رپورٹ، تحقیقی مقالہ نویسی اور ٹیم ورک جیسی مہارتیں بہتر ہوتی ہیں۔ انگریزی زبان میں علمی اور پیشہ ورانہ اظہار کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے مگر یہ طالبعلم جب فارن کی تعلیم سے فارغ ہو کر واپس اتا ہے تو اسے والدین فون پر بتاتے ہیں بیٹا ایرپورٹ پر اترتے ہی تم فلاں سے مل لینا اس کو پاسپورٹ اور ٹیک دے دینا تمہیں قطار میں کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ یہی سٹوڈنٹس جب برطانیہ کے ایتھرو ائیر پورٹ میں جہاز میں سوار ہوتا ہے تو اپنا سامان خود اٹھاتا ہے اور لمبی قطار میں کھڑا ہو کر جہاز میں سوار ہوتا ہے۔ مگر جب یہ یہاں پہنچتا ہے والدین کی شان وشوکت اسے خراب کرنا شروع کرتی ہے۔ آپ اسے بتاتے ہیں کہ تم دوسروں سے مختلف ہو جبکہ وہ وہاں سیکھ کے اتا ہے کہ قطار میں کھڑا ہونا بری بات نہیں۔ ایک ایسے ہی بیرسٹر کو جانتا ہوں جس کی عادات سے لگتا ہے اس نے نوکروں کی گود میں پرورش پائی ، فارن میں رہ کر بھی اس نے کچھ نہیں سیکھا ۔برطانیہ سے قانون کی ڈگری لے آیا۔پھر ایک دن وزیر قانون بن گیا۔اب کچھ عرصہ بعد اسی سابق وزیرِ قانون کوسپریم کورٹ بار میں دیکھنے کا اتفاق حال ہی میں ہوا۔ منظر خاصا مختلف تھا۔ وہ بار کے ایک کونے میں خاموشی سے اکیلے بیٹھا چائے پی رہے تھے۔ اقتدار میں جن کے گرد لوگوں کا ہجوم ہوا کرتا تھا آج وہ تنہا دکھائی دیا۔ اقتدار کے دنوں میں دروازوں پر پہرے تھے، ملاقاتوں پر پابندیاں تھیں اور عام وکیل خود کو نظرانداز محسوس کرتے تھے، مگر وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ۔ زندگی کا یہی اصول ہے کہ عہدے اور اختیارات مستقل نہیں ہوتے۔ انسان کیساتھ اس کا اخلاق، کردار اور لوگوں کے ساتھ اس کا برتا ہی باقی رہ جاتا ہے۔ تعلیم، دولت اور منصب اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اصل چیز خوبصورتی عاجزی، خدمت اور انسان دوستی میں ہے۔بیرونِ ملک کی ڈگریاں، بڑے عہدے اور طاقتور مناصب انسان کو کامیاب تو بنا سکتے ہیں مگر محترم صرف اچھا کردار ہی بناتا ہے۔ جو لوگ اختیار ملنے پر خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ آج جو منصب پر ہے، کل عام آدمی کی صف میں بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔اس لیے جب بھی کسی کو اختیار، عہدہ یا طاقت ملے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اعزاز نہیں بلکہ ایک امانت اور آزمائش ہے۔لہٰذا لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کیجیے، ان کے مسائل سنیے اور ان کے کام آئیں کیونکہ آخرکار انسان کو اس کے منصب سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور رویے سے یاد رکھا جاتا ہے۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اور پھر جیسا انسان بوتا ہے، ویسا ہی کاٹتا ہے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت ضروری ہے۔ برے رویوے رکھنے والوں کیلئے شاعر نے کیا خوب لکھا ہے۔ اسی خیال کو ادبی انداز میں یوں بیان کرتا ہوں۔ کمینے جب عروج پاتے ہیں، اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔جنہیں ہاتھ پکڑ یہاں لایا تھا بیٹھایا تھا، وہی اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں۔ عہدے، دولت اور طاقت کا نشہ جب سر چڑھ جائے تو۔ ایسے لوگ آئینہ تو دیکھتے ہیں، مگر اپنی ذات بھول جاتے ہیں۔ وقت جب پلٹا کھاتا ہے تو حقیقت سامنے آتی ہے۔ جو خود کو خدا سمجھ بیٹھیں، وہ اپنی بساط بھول جاتے ہیں۔
کمینے جب عروج پاتے ہیں

