کورنا وائرس دنیا کے 186 ممالک میں پھیل چکا ہے ، 2 لاکھ 77 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے 11 ہزار 431 اموات ہو چکی ہیں پاکستان میں اس وقت کرونا کے مشتبہ کیسز کی تعداد 4 ہزار 46 ہے ، ڈاکٹر ظفر مرزا کی پریس کانفرنس

47

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اس وقت کورنا وائرس دنیا کے 186 ممالک میں پھیل چکا ہے اور 2 لاکھ 77 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے 11 ہزار 431 اموات ہو چکی ہیں۔ 2 لاکھ 77 ہزار کیسز میں 92 ہزار لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہو کر ڈسچارج ہو چکے ہیں، کرونا وائرس سے صحتیابی کا تناسب 97، 98 فیصد ہے۔ ہفتہ کو یہاں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف اور این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضال کے ہمراہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کرونا کے مشتبہ کیسز کی تعداد 4 ہزار 46 ہے جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 664 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ملک میں کرونا وائرس کے پازیٹو کیسز کی تعداد 534 ہے جن میں سے پنجاب میں 104، سندھ میں 256، خیبرپختونخوا میں 27، بلوچستان میں 103، گلگت بلتستان میں 30، آزاد جموں و کشمیر میں ایک اور اسلام آباد میں 10 کنفرم کیسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے پازیٹو کیسز میں صحت یابی کی شرح میں بہتری ہو رہی ہے اور اب تک 5 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو کر ڈسچارج ہو چکے ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں صحت مند ہونے والے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ملک میں کرونا وائرس کے باعث تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں ایک ایک کراچی، مردان اور پشاور سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تفتان بارڈر پر سکریننگ کی سہولیات کو تنقید کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں پر موجود نظام سے ہی پازیٹو کیسز کا پتہ چلا کر ان کا علاج شروع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے 18، 19 انٹری پوائنٹس پر 13 ہزار 991 نئے آنے والوں کی سریننگ کی گئی ہے جبکہ اب تک پاکستان آنے والے 104 ملین لوگوں کی مجموعی طور پر سکریننگ کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28 فروری تا 17 مارچ کے درمیان ایران سے 6 ہزار 304 لوگ آئے ہیں جن میں سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 2 ہزار 421 ، کے پی کے 176، پنجاب 2 ہزار 12، سندھ ایک ہزار 59 ، آزاد جموں و کشمیر 14 جبکہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 523 افراد وطن واپس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے واپس آنے والے زائرین کی مکمل سکریننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کرونا وائرس سے مشتبہ 3 ہزار 338 لوگ ملک کے مختلف صوبوں میں قائم کئے گئے قرنطینہ مراکز میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت پاکستان ملک کے مختلف حصوں میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیلئے 14 لیبارٹریاں قائم کر چکی ہے جو مسلسل ٹیسٹ کر رہی ہیں، آنے والے دنوں میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کی پالیسی ہے کہ سماجی سطح پر کم از کم دو میٹر کے فاصلے کے فیصلہ پر عمل کیا جائے تاکہ ہم خود اور دیگر افراد کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پر عمل درآمد کے ذریعہ ہم بیماری کے پھیلائو کو روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ ، اتوار اور پیر کو تین چھٹیوں کے دوران ہم سب کو سماجی فاصلے کی پالیسی کی پریکٹس کرنی چاہئے تاکہ بیماری پر قابو پایا جا سکے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے تاہم ہم سب کو مل کر انفرادی، خاندانی، معاشرتی اور اداروں کی سطح پر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہم کرونا وائرس پر قابو پا لیں گے۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کیلئے بھی ایڈوائس نشر کی جائے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے گذشتہ روز کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کا حوالہ دیا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی اور وزیراعظم نے کہا کہ کمیٹی کے ہفتہ میں دو بار ہونے والے اجلاسوں کی صدارت وہ خود کریں گے تاکہ تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لے کر مناسب فیصلے کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز کے اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے 13 مارچ کے فیصلوں پر اطلاق کا جائزہ لیا گیا تاکہ پاکستان کے عوام کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبوں اور وفاق کے مضبوط اشتراک کار پر یقین رکھتی ہے تاکہ کرونا وائرس کے پھیلائو پر قابا پایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں معلومات کے تبادلے کے مربوط نظام کیلئے وفاق اور صوبوں سمیت تمام شراکت داروں کے درمیان اطلاعات کے تبادلے کی ضرورت پر بھی زوردیا گیا تاکہ لوگوں تک مصدقہ ایک ہی پیغام پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے عملہ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے ان کے تحفظ اور تربیت کیلئے حکومت تمام تر اقدامات کرے گی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے اس سے استفادہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ملک میں بین الاقوامی پروازوں کے حوالہ سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ دو ہفتے کیلئے بین الاقوامی پروازیں عارضی طور پر معطل رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتہ کے دوران پاکستان نے عالمی مسافروں کیلئے کرونا ٹیسٹ سرٹیفیکٹ کی شرط رکھی تھی لیکن حالات کے پیش نظر گذشتہ روز کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہفتہ 21 مارچ شام 8 بجے سے 4 اپریل شام 8 بجے تک دو ہفتوں کیلئے تمام عالمی پروازوں پر پابندی ہو گی، جن میں مسافر، چارٹر اور نجی فلائٹس شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی کچھ پروازیں مختلف ممالک سے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے روانہ کی گئی ہیں جن کو اتوار کی صبح تک واپس آنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن وزیراعظم نے تمام شراکت داروں سے مشاورت کے بعد پروازوں کی عارضی معطلی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آنے والے سفارتکاروں اور کارگو کے جہازوں پر پابندی نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے 2 لاکھ زائد مسافر پاکستان آنا چاہتے تھے، ہم ان کی مشکلات سے آگاہ ہیں، حکومت نے پاکستان کے تمام سفارتی مشنز کو ہدایت کی ہے کہ جس حد تک ہو سکے مسافروں کی مدد کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صورتحال کے بار بار جائزہ لے رہے ہیں تاکہ عوام کے تحفظ کیلئے بہتر سے بہتر فیصلے کر سکیں۔ ڈاکٹر معید یوسف نے مزید کہا کہ ہم سب مل کر اس صورتحال کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب پروازیں بحال ہوں گی تو کرونا ٹیسٹ کی شرط نہیں ہو گی اور مسافر بغیر سرٹیفیکیٹ آ سکیں گے تاہم ایئر پورٹس پر ان کی سکریننگ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس شروع تو چین سے ہوا لیکن پاکستان میں ایران سے آیا اور اب امریکہ اور یورپی ممالک سے آنے والے افراد بھی وائرس سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروازوں پر دو ہفتوں کیلئے عارضی طور پر پابندی لگائی گئی ہے تاکہ وائرس کے پھیلائو پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ غلط اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے تاکہ معاشرے میں خوف و ہراس نہ پھیلے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی فراہم کردہ اطلاعات پر یقین کریں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضال نے کہا کہ فلائٹس کی عارضی معطلی کا مقصد ہے کہ لوگوں کی سکریننگ کی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں داخل ہونے والے تفتان ، چمن اور خیبر کے مراکز پر صوبوں اور ایف سی کے قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں اور آئندہ 10 تا 15 دن میں ان میں ایک ہزار کمروں کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی معاونت سے قرنطینہ مراکز کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ ایک کمرے میں ایک ہی آدمی رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر وہ شہر جہاں پر باہر سے لوگ آ رہے ہیں وہاں پر ہوٹل بک کئے جارہے ہیں تاکہ ان کو رکھا جا سکے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ کرونا وائرس سے تحفظ کے حوالہ سے حکومت نے ایک بڑی رقم مختص کی ہے اور سامان کی خریداری کیلئے مغربی ممالک امریکہ سمیت چین سے آلات کی درآمد کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے درآمدی آلات پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا ہے جس سے سہولت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کے حوالہ سے ایل سی کھولنے کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان اسلام آباد اور مختلف شہروں میں ون ونڈو کی سہولت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ کے پاکستانی سفارتخانہ میں این ڈی ایم اے کا دفتر منگل سے کام شروع کردے گا تاکہ طبی آلات کی خریداری اور ترسیل کے کام میں تیزی لائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل طبی آلات کے سپلائرز ، مینوفیکچررز اور امپورٹرز سے ملاقات کر کے ان کے مسائل کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کل چین کی حکومت کی جانب سے 10 سکینرز اور 20 ہزار ٹیسٹ کٹس موصول ہو چکی ہیںجبکہ آئندہ پانچ دن کے دوران مزید 100وینٹی لیٹرز بھی مل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ علی بابا کے مالکان نے 5 لاکھ ماسکس عطیہ کئے ہیں جن میں این 95 ماسک کی تعداد 50 ہزار اور 50 ہزار کٹس بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ویئر ہائوس سے پنجاب اور سندھ کیلئے 1.5 ملین، بلوچستان اور کے پی کے کیلئے 7,7 لاکھ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کیلئے 5 لاکھ ماسکس روانہ کر دیئے گئے ہیں جو ایک دو دن میں پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے عملہ کو حفاظتی سامان فراہم کیا جائے گا جبکہ آئندہ دس تا 12 روز کے دوران کرونا وائرس کی مزید 80 ہزار کٹس مل جائیں گی جس سے 40 لاکھ ٹیسٹ کئے جا سکیں گے۔ اسی طرح آئندہ جمعرات تک چین سے 150 وینٹی لیٹرز کی ترسیل کیلئے پاکستان ا ور چین کے درمیان ہوائی جہازوں کے ذریعہ رابطوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مقامی درآمد کنندگان اور ڈسٹری بیوٹرز پر زور دیا کہ وہ ٹیکس کی رعایت سے فائدہ اٹھا کر طبی و حفاظتی سامان خریدیں تاکہ عام آدمی تک حفاظتی سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کے آخر میں آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان عوام کو کرونا وائرس سے بچانے کیلئے کئے گئے اقدامات سے آگاہی کیلئے ہر روزدن ساڑھے بجے میڈیا بریفنگ دی جائے گی