کوروناوائرس۔۔۔حکومت کے قابل تحسین حفاظتی اقدامات

64

اس وقت دنیابھرکے 162ممالک تک کوروناوائرس پھیل چکا ہے،امریکی سپریم کورٹ سوسال میں پہلی باربند ہوئی ہے ،فضائی سفررک گئے ہیں ، فرانس برطانیہ میں ہوٹلوں کو ہسپتالوں میں تبدیل کرنے پرغور کیاجارہاہے ،جرمن شہریوں کو گھر سے نہ نکلنے کی ہدایت کردی گئی ہے، اٹلی کے وسیع وعریض علاقے کو قرنطینہ میں تبدیل کردیاگیاہے ،ترکی میں باجماعت نمازپرپابندی عائدہوگئی، متحدہ عرب امارات ،مراکش میں بھی عبادت گاہیں بند ہیں ، قبلہ اول بھی بند ہوچکاہے ، حرم پاک میں بھی طواف بندہے، سوءٹزرلینڈ میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیاگیاہے، بغداد میں کرفیونافذ ہے،بھارت میں تاج محل کوتالے لگادیئے گئے ہیں ،بالی ووڈ کی فلموں کی شوٹنگ بند کردی گئی ہے،برطانیہ میں شٹ ڈاءون ہے،امریکہ میں دس افرادکے اجتماع پرپابندی ہے، پاکستان میں بھی کوروناوائرس نے پنجے گاڑھ دیئے ہیں ،سٹاک مارکیٹ میں تاریخ کی بڑی مندی سامنے آئی ہے،ٹریڈنگ روکناپڑی ہے، ڈالرمہنگاہوگیاہے، آئی ایم ایف سے رعایت مل گئی ہے ،پاکستان میں کوروناکے مریضوں کی تعداد184ہوگئی ہے،سندھ میں 150، خیبرپختونخوا میں 15، پنجاب میں دو،بلوچستا ن میں دس، اسلام آباد میں چار،گلگت بلتستان میں تین جبکہ تفتان سے780 زائرین ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ میں منتقل ہوگئے ہیں ، ابھی سعودی عرب سے ایک بھاری تعداد میں عمرہ زائرین واپس آرہے ہیں ، ان سب کو بھی قرنطینہ میں منتقل کردیاجائے گا،اٹلی اورسپین دنیا میں دوایسے ممالک ہیں جنہوں نے وائرس سے بچاءو کےلئے اپنے ملک مکمل طور پر بندکردیئے ہیں ،اٹلی یورپ کاسب سے زیادہ اوردنیا کاچین کے بعد دوسرا متاثرہ ملک ہے ،روم،میلان میں ہوکاعالم ہے ،سڑکیں ویران ہیں ،اٹلی میں 349افرادہلاک ہوچکے ہیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد2158تک پہنچ چکی ہے، مزید3233نئے کیسزسامنے آئے ہیں ، جن میں سے کل مریضوں کی تعداد27980تک پہنچ چکی ہے ۔ دراصل یہ وباء اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک ناراضگی کا اظہارہے جب دنیا اتنی بے راہ روی کاشکار ہوجائے ، ہرطرف گناہ ہی گناہ ہو،نیکی اوربدی میں تمیزختم ہوچکی ہے ،قتل وغارت گری عام ہو، کسی کی حق تلفی کرناکوئی معنی ہی نہ رکھتاہو،امت مسلمہ دنیاومافیہا میں اتنی گم ہوچکی ہوکہ اسے نمازروزے کا خیال ہی نہ ہو، کوئی تلاوت قرآن پا ک نہ کرتاہو،اللہ اوراس کے رسول پاکﷺ کے احکامات پر عملدرآمدنہ ہوتاہو اسلام میں نئی اختراعت پیداکرلی گئی ہوں ، یہودوہنود سے ڈانڈے بڑھتے ہوں ہرطرف کفرکاغلبہ ہوتاجارہاہو تو پھراللہ رب العزت اسی طرح کے عذاب نازل کرتاہے چاہے وہ طاعون کی بیماری ہو،کوروناوائرس ہو،سارس وائرس ہو، سونامی ہو، زلزلے ہوں ، ہاتھ صاف ہوں ، استحصالی ہو،فاقہ کشی ہو،اسی صورت میں عذاب نازل ہوتے ہیں ،ایسے میں مسلمانوں کواللہ اوراس کے رسولﷺ کی طرف رجوع کرناچاہیے ۔ یہ دنیاچاردن کی ہے اللہ تعالیٰ یہا ں پرانسان کوآخرت کی کھیتی بونے کےلئے بھیجتے ہیں لیکن شاید انسان اس زمین پربوناناخدابن کرفرعون وقت بن جاتاہے مگراللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آوازہے ،ہ میں دیکھناہوگا کہ ہم اسلام سے کتنے دورہوگئے ہیں ،اپنے گناہوں کی توبہ کرنی ہوگی،اللہ کے حضورسربسجود ہوناہوگا ،نمازروزہ کی پابندی کرناہوگی، ہرصورت اطاعت خداوندی لازم کرناہوگی پھرہم ان آسمانی عذاب سے نجات پاسکیں گے ورنہ اسی طرح تباہی پھیلتی چلی جائے گی ۔ کوروناوائرس دراصل اسی تباہی کا ایک حصہ ہے چونکہ کردقیامت ہے قیامت کی نشانیاں پوری ہوچکی ہیں چودھویں صدی کی کوئی حدنہیں کسی وقت بھی اللہ تعالی کی جانب سے کوئی بھی وعیدنازل ہوسکتی ہے ۔ آج دنیاکو اس وباء نے اپنے شکنجے میں جکڑ لیاہے اوریہ پھیلتی جارہی ہے فرانس میں کیسزکی تعداد میں اضافہ ہورہاہے، وہا ں ہلاکتوں کی تعداد148ہوچکی ہے، دوارکان پارلیمنٹ بھی وائرس سے متاثرہوچکے ہیں ، فرانسیسی صدرنے وائرس کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے فوج طلب کرلی اور عوام کو گھروں میں مقیدرہنے کی ہدایات کردی ہیں ۔ لوگوں میں خوف و ہراس پایا جارہاہے ۔ دُنیا ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے ۔ اکیس دسمبر سے لے کر اب تک ہر کسی کو اگر ڈر ہے تو صرف کورونا کا ہے ۔ اِس میں تو کوئی دوسری ر اہے نہیں کہ انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اِس کا کوئی نعم البدل نہیں اور یہ زندگی سب کو ایک بار ہی ملے گی ۔ کورونا وائرس کے علاوہ ہم کس کس وائرس کا شکار ہیں یہ تو ہمارے علم میں ہی نہیں لیکن بچانے والا اللہ تعالیٰ ہے وہ اپنی حفاظت میں ہم سب کو رکھے ۔ ہ میں کسی کورونا وائرس سے نہیں ڈرنا چاہیئے تا ہم احتیاط بھی ضروری ہے جیساکہ پر ہیزعلاج سے بہتر قرار دیا جاتا ہے ۔ وطن عزیز میں کورونا وائرس سے تحفظ کےلئے اقدامات کرنے کےلئے انتظامات کیے جا رہے ہیں جو حفاظتی اقدامات کے طور پر تمام قسم کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں ۔ کورونا وائرس سے ہلاک ہونےوالوں کی شرح سات فیصد ہے جبکہ صحت یاب ہونےوالوں کی شرح 93 فیصد ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔ خوف بذات خود موت ہے جب موت کا خوف طاری ہوتا ہے تو انسان اندر سے مر جاتا ہے ۔ آج بھی دُنیا میں سے اگر ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کی جائے ،ظلم نہ کیا جائے، طاقت کا استعمال نہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا سے نہ صرف میرا رب کورونا وائرس کا خاتمہ کرنے کےلئے آسمان سے اپنی رحمت کا نزول فرما سکتا ہے کیونکہ وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور وہی بہترین نگہبان ہے ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان سمیت پوری دنیا کے انسانوں کو ہر قسم کے وائرس سے محفوظ رکھے ۔ ہم تو مسلمان ہیں اور ہمارا مہذ ہبِ ہاتھ ملانے میں پہل کرنے والے کو اجر و ثواب ملنے کا درس دیتا ہے ۔ تا ہم احتیاط کرنا بھی ضروری ہے موجودہ صورتحال میں ہم سب کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے ۔ کورونا وائرس کی کوئی ویکسین نہیں ہے اِس وائر س کو ایک انسان سے دوسرے میں پھلنے سے روکنے کےلئے حفاظتی اقدامات ہی کاریگر ثابت ہو رہے ہیں ۔ اِس وقت پوری دنیا میں سب کو کورونا وائرس سے تحفظ کےلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

عوام کے لئے اچھی خبر

حکومت نے کرونا وائرس کے تناظر میں ملکی معیشت پر روزانہ کی بنیاد پر نظر رکھنے اور پیشگی اقدامات تجویز کرنے کےلئے مشیر خزانہ کی سربراہی میں بین الوزارتی کمیٹی قائم کردی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوروناوائرس کے منفی اثرات سے ملکی معیشت کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھنا، معاشی سرگرمیوں کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنانا اور خصوصا عام آدمی کےلئے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، کسی بھی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے جامع حکمت عملی تیار کی جائے اور اشیائے ضروریہ کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا جائے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائزمنافع خوری کی شکایت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور شکایت کی صورت میں ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائےگا ۔ دوسری جانب مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ;200;ئی ایم ایف سے اہم رعایت لینے میں کامیاب ہوگئی جبکہ ;200;ئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا بھی عندیہ دے دیا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ کورونا وائرس پر اٹھنے والے اخراجات مالی خسارے میں شامل نہیں ہوں گے، ;200;ئی ایم ایف کورونا اخراجات خسارے میں شامل نہ کرنے پر رضامند ہے ۔ وزیراعظم نے معاشی اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی کی ذمہ داری سونپ دی، ایسی حکمت عملی وضع کرینگے کہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں ، کوشش ہوگی اشیائے خوردونوش کی قلت یا قیمتوں میں اضافہ نہ ہو ۔ کوشش ہے کورونا وائرس کے باعث بے روزگاری کا خطرہ پیدانہ ہو اور کسانوں کوبھی ان کی مصنوعات کاپورا معاوضہ ملتا رہے ، بر;200;مدات متاثر ہونے کا خدشہ ہوا تو معاہدوں میں توسیع کی کوشش کریں گے ۔ مختلف ممالک، عالمی مالیاتی اداروں سے مالی وتکنیکی مدد لیں گے، جو ملک اس صورتحال سے نکل رہے ہیں ان سے بھی مدد لی جاسکتی ہے ۔