’’کورونا‘‘ کا رونا درست مگر گھبرانے کی ضرورت نہیں

226

ایسے ماحول میں جب دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد84 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ لگ بھگ 3 ہزار کے قریب اموات دیکھی گئی ہیں ،لیکن تسلی بخش پہلو یہ ہے کہ وائرس سے متاثر 36 ہزار 874 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں ۔ صد شکر کہ پاکستان میں اب تک محض چار کیس سامنے ;200;ئے ہیں ۔ یہ بھی وہ افراد تھے جوایران کے راستے پاکستان داخل ہوئے ۔ دنیا بھر میں پچپن سے زائد ممالک اب تک اس کی زد میں ;200;چکے ہیں ۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے دو کیس سامنے ;200;تے ہی قومی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک کہرام سا مچنے سے ،پہلے دو تین روز میں ہی ملک بھر میں سراسیمگی سی پھیل گئی ۔ صبح دوپہر شام ہر چینل نے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر قیاس ;200;رائیوں بھرے ایسے تجزیے تبصرے کار خیر سمجھتے ہوئے کئے کہ عوام کی نیندیں اڑ گئیں ۔ بعض میڈیا چینلز کے اس غیرذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے جہاں عوام میں خوف کی لہر دوڑی وہاں منافع خور مافیا نے ماسک کی خریداری پر خوفزدہ شہریوں کی جیبوں پر خوب ہاتھ صاف کئے پانچ روپے والا ماسک پانچ سو میں بکنے لگا ۔ اگر یہ سلسلہ کچھ دن مزید چلتا تو سسکیاں لیتی ملکی معیشت کا بھٹہ ہی بیٹھ جاتا ۔ بلاشبہ عالمی ادارہ صحت نے وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھتے ہوئے اسکے پھیلنے کا خطرہ بلند ترین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی ملک یہ نہ سمجھے کہ وائرس اس تک نہیں پہنچے گا ۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے اگر جارحانہ انداز میں اقدام کئے گئے تو اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ ماہرین اس خطرے کو خوف سے نہیں حکمت سے شکست دینے پر زور دے رہے ہیں ۔ اگر اسے ذمہ دارانہ طریقے سے نہ نمٹا گیا تو پھر خطرہ ہے ملکی معیشت پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں جیسے چین کو اس صورتحال سے دو چار ہونا پڑا ۔ ہمارے ہاں پہلے ہی ایکسپورٹ اور سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ مختلف رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث عالمی معیشت کو کھربوں ڈالرز نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے،جبکہ سیاحت کو بھی اربوں ڈالرز خسارے کا سامنا ہے ۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے سربراہ کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلے خوف کے باعث دنیا بھر کی سیاحت کو 22ارب ڈالرز کا خسارہ ہوسکتا ہے جس کی خاص وجہ چینی سیاحوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی ہے ۔ چینی ہی ایسے سیاح ہیں جو سیاحت پر سب سے زیادہ خرچ کرتے ہیں ، انہوں نے کہاکہ اگر یہ وائرس سارس وائرس کی مدت کے برابر رہ جاتاہے تو اس سے عالمی سیاحت کو 49ارب ڈالرز تک کا نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ تیل کی قیمتیں رواں سال کے آغاز سے لیکر ابتک 20فیصد تک کم ہوگئی ۔ ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان ہے اور کھربوں ڈالرزنکال کئے گئے ہیں ۔ ٹوکیو، شنگھائی، سڈنی ، سنگاپور ، سیءول ،ممبئی ، فرانکفرٹ ،لندن ، اور پیرس یوں دنیا بھر کی مارکیٹوں کیلئے وائرس کا خوف بھاری ثابت ہوا اور عالمی مالیاتی بحران ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر نے اس کا ذمہ دار میڈیا کی جانب سے کورونا وائرس کی کوریج کو ٹھہرایا ہے ۔ پاکستان میں بھی ڈاکٹر بار بار عوام کو ;200;گاہ کر رہے ہیں کہ بلا وجہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ، چند احتیاطی تدابیر سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔ بعض میڈیا چینلز کی پھیلائی گئی سنسنی خیزی کے نتیجے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ٹوٹکوں اور تعویز دھاگے والوں نے بھی اپنے جال پھینکنا شروع کر دئیے ہیں ، حتیٰ کہ نیم حکیم سنیاسی بنگالی بابوں نے وائرس کے شافی علاج کی تشہیری مہم بھی چلا دی ہے ۔ چین سے گہرے تجارتی مراسم کی وجہ سے خطرہ تھا کہ پاکستان اس سے بہت زیادہ متاثر ہو گا لیکن حکومت نے بروقت اقدامات اُٹھا کر چین کے راستے اس وائرس کو اندرون ملک داخل نہیں ہونے دیا،چونکہ ایران اس وائرس سے براہ راست متاثر نہیں تھا ،لہٰذا اس جانب توجہ نہیں تھی، جوں ہی ایران سے کورونا کی اطلاعات سامنے آئیں تو تمام سرحدی آمدورفت معطل کرکے اقدامات اُٹھانا شروع کردیئے اور پاکستان یا بلوچستان میں وہ صورتحال پیدا نہیں ہوئی کہ جس طرح ایران اچانک اس کی لپیٹ میں آگیا ۔ پاکستان کے اقدامات سے عالمی ادارہ صحت بھی مطمئن ہے، پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کےلئے کیے گئے فوری اقدامات سے میں متاثر ہوا ہوں اور اگر پاکستان کو اس سلسلے میں ہماری مدد کی ضرورت پڑی تو، مدافعتی اقدامات اور تیاریوں کےلئے حکومت سے مزید تعاون کریں گے ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو کئی ایسی بیماریاں جو وباء کی شکل میں دنیا بھر میں موجود ہیں اور ہزاروں انسان ہر سال اس کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ،لیکن کہیں بھی اس حوالے سے پینک نہیں پایا جاتا ۔ موسمی فلو کا وائرس بھی کورونا کی طرح دوسرے شخص کو لگنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ پچاس لاکھ کے لگ بھگ افراد اس بیماری کا ہر برس نشانہ بنتے ہیں ۔ ٹی بی بھی متعددی مرض ہے، ہر برس ایک کروڑ افراد بیمار ہوتے ہیں ۔ یہی حال پولیو کا ہے،ہر روز پاکستان میں کوئی نیا کیس سامنے آتا ہے ۔ دنیا بھر میں نمونیا سے ہر برس دس لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں ،ملیریا سے ہر برس 23 کروڑ افراد بیمار ہوتے ہیں اور پانچ لاکھ کے قریب افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ خسرہ سے سالانہ مرنے والوں کی تعداد لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ہے ۔ ڈینگی سے سالانہ متاثر ہونے والوں کی تعداد چالیس کروڑ کے قریب ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی نصف آبادی کو ڈینگی سے خطرات لاحق ہیں ۔ پاکستان میں گزشتہ برس اکتوبر میں ڈینگی کا شدید حملہ ہوا تھا اور ہر روز سینکڑوں کیس سامنے آ جاتے تھے ۔ اسی طرح ہیپاٹاءٹس اے ، بی اور سی سے ہونے والی اموات بھی دنیا بھر میں لمحہ فکر ہیں ۔ صرف پاکستان میں ہی ڈیڑھ کروڑ افراد اس سے متاثر ہیں ۔ مختصر یہ کہ ان سب بیماریوں کا مقابلہ خوف سے نہیں بلکہ حکمت سے کیا جارہا ہے ۔