Site icon Daily Pakistan

کوٹ رادھا کشن کی سیاست

v

آٹھ فروری الیکشن کا دن ہے۔اسی مناسبت سے کوٹ رادھا کشن میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے۔ مختلف پارٹیاں الیکشن کے حوالے سے اپنے انتظامات کرتی نظر آتی ہیں۔ اس چیز نے شہر بھر میں مختلف پارٹیوں اور جماعتوں کے وجود میں ایک نئی امنگ ترنگ پیدا کر دی ہے۔سبھی پارٹیاں اور ان کے خواہشمند امیدواران اپنے اپنے فلیکس آویزاں کر رہے ہیں۔کچھ جماعتوں کے امیدوار جو فائنل ہو چکے ہیں اپنی الیکشن مہم شروع کر چکے ہیں جبکہ کچھ پارٹیاں مسلم لیگ ن،تحریک انصاف،پیپلز پارٹی ابھی انتظار میں ہیں۔تحصیل کوٹ رادھا کشن میں NA 132، پی پی 175 سیٹ کے لیے بے شمار امیدواران اپنے کاغذ جمع کروا چکے ہیں۔کوئی کسی پارٹی کا امیدوار ہے تو کوئی کسی جماعت کا امیدوار۔یہ سبھی لوگ جو الیکشن میں کھڑے ہیں ان میں سے کچھ کھڑے رہیں گے اور زیادہ تر ہو سکتا ہے کہ اپنے کسی نہ کسی پسندیدہ امیدوار کے حق میں بیٹھ جائیں۔کہنے کو تو اس حلقے سے بے شمار امیدواران قومی وصوبائی سیٹ کے لیے کھڑے ہیں مگر ان میں سے چند نام ہی سیاست میں زیادہ نمایاں ہیں جو عوام کے اندر ابھر کر سامنے آ سکتے ہیں یا الیکشن میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔الیکشن جیتنے یا مقابلہ کرنے کی بھرپور سکت رکھتے ہیں۔کچھ تو ایسے بھی ہیں جو سیاسی اپ سیٹ کرنے کی اہلیت و صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ان میں کچھ دینی جماعتیں بھی میدان عمل میں ہیں جن میں سب سے نمایاں نام تحریک قران و سنہ کے سربراہ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر ، جماعت اسلامی کے پروفیسر را¶ اختر علی ، جے یو ائی (ف) کے مولانا ذکریا جمال اور تحریک لبیک اور نورانی گروپ کے مشترکہ امیدوار چوہدری محمد علی روڈو کا ہے۔ ان کی ڈور ٹو ڈور الیکشن مہم شروع ہو چکی ہے۔ ان کو بھرپور عوامی پذیرائی مل رہی ہے۔الیکشن میں مذید اپنا اچھا خاصا نام و مقام بنا لیں گے۔تین اہم،اور بڑی سیاسی جماعتیں ن لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا یہاں خاصا ووٹ بینک ہے۔ان تینوں پارٹیوں کے یہاں مضبوط امیدوار ہیں اور پھر یہاں سے ن لیگ اور پی پی کے لوگ بطور ایم پی اے جیت بھی چکے ہیں جبکہ تحریک انصاف کا بھی ووٹ بینک متاثرکن ہے۔تحریک انصاف 2018 کے الیکشن میں ضلع قصور سے پہلی بارایک ایم این اے اور تین ایم پی ایز کی سیٹ جیت چکی ہے،بھی میدان میں ہے۔اب کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کا تو کچھ کہہ نہیں سکتے کیا کرتی ہے اپنا امیدوار لاتی ہے کہ نہیں مگر ن لیگ اور پی ٹی آئی میں زور کا میچ پڑے گا اور دیکھنے والا ہوگا ۔ اس بار این اے 132 کی سیٹ پر ن لیگی قائد وسابق وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد شہباز شریف میدان میں ہیں جو کہ ایک مضبوط امیدوار ہے۔ایسے میں پی پی 175 سیٹ کے لیے سابق ایم این اے ملک رشید احمد خان بہترین شخص ہیں۔جو پچھلے الیکشن میں یہاں سے بھاری اکثریت سے ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔شہبازشریف کے این اے 132 سے الیکشن لڑنے کی صورت میں پی پی 175 کی سیٹ پر ان کو الیکشن لڑوانا بنتا ہے اور ان کا حق بھی ٹھہرتا ہے۔لیکن اگر شہباز شریف این اے 132 سے الیکشن نہیں لڑتے تو سابق ایم این اے ملک رشید احمد خان ہی ایم این اے کا الیکشن لڑیں گے ۔ایسے میں پھر ایم پی اے کےلئے سیاسی نقطہ نظر سے چوہدری عامر کبیر خان یاچوہدری کامران خوشی میں سے کوئی ایک امیدوار بہترین آپشن ہو سکتے ہیں ۔ دونوں امیدوار انتہائی قابل ، نوجوان ، ملنسار ہیں ۔ اگر ن لیگ ٹکٹ عامر کبیر خان کو ملتا ہے تو بھی ٹھیک بات ہے اور اگر کامران خوشی کو ن لیگ کا ٹکٹ ملتا ہے تو وہ تعلیم یافتہ،خوش مزاج اور لوگوں کے کام آنے والا آدمی ہے اور میو برادری کے لحاظ سے ان کا ووٹ بینک بھی خاصا بنتا ہے اور سیاسی و خاندانی پس منظررکھتے ہیں۔ن لیگ کےلئے ایک اچھا امیدوار ثابت ہوگا۔لیکن اگر پی ٹی آئی ان کے مقابلے میں کوئی اچھا،بہتراور مضبوط امیدوار میدان میں اتار دیتی ہے تو سیاسی اپ سیٹ کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے وگرنہ سبھی جانتے ہیں کہ یہ دونوں قومی و صوبائی سیٹیں ہمیشہ مسلم لیگ ن کے حصے میں ہی آئی ہیں۔

Exit mobile version