Home » کالم » کھلی کچہریوں کا انعقاد محکموں میں انقلابی اصلاحات کا ضامن

کھلی کچہریوں کا انعقاد محکموں میں انقلابی اصلاحات کا ضامن

معزز قارئین ارادہ تھا کہ ڈی سی سیالکوٹ سید بلال حیدر کی بالغ نظری،کام اور خود کو بطور ایک اچھا ضلعی منتظم ثابت کرنے پر کچھ اظہار خیال کیا جائے لیکن اس موضوع کو موخر کرتے ہوئے اس پر کسی اگلے کالم میں تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔کسی بھی معاشرے میں قوانین اور ضوابط وضع کرنے کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ معاشرہ کے باسیوں کی مشکلیں آسان کرتے ہوئے معاشرتی مسائل حل کئے جائیں ۔کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بنیادی ضرورت انصاف کی فراہمی اور امن و امان کا قیام ہے جس میں بنیادی کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے ۔قانون سازی اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر قوانین پر عمل نہ ہو تو قانون مذاق بن کر رہ جاتا ہے اور معاشرے کی اساس پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو کر رہ جاتی ہے ۔بد قسمت عوام جن کی آواز کبھی سرکار تک نہیں پہنچ پاتی تھی اگر کبھی پہنچ بھی جاتی تو اپنے مسائل کے حل سے محرومی ہی مقدر ٹھہرتی ۔یہ تو بھڑاس تک نہیں نکال سکتے تھے ۔یہ اسی خواب و خیال میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہوتے کہ دیوا رگریہ اک بنانا چاہیے جو سب کا غم بانٹ سکے ۔محروم لوگوں کی سرد آہیں جب لفظوں کا روپ دھارتی ہیں تو پھر قرطاس ابیض کو بھی سیاہ کر دیتی ہیں ۔ایسی روسیاہ عرضداشتوں کو امن بھرے محلات میں بھلا کون جانے دیتا ہے؟ داروغوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ آہ و فغاں کی خاموش آواز پر سکون صاحبان اختیار کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے اور ان کے خوشگوار مزاج کو مکدر نہ کر دے ۔زمانہ قدیم میں انصاف کی زنجیریں ہوا کرتی تھیں جن کو ہلا کر فریادی اپنی فریاد سنا دیا کرتا تھا ۔اب اس ترقی یافتہ دور میں بے شمار زنجیریں ہیں جو جذبات و احساسات صاحبان اختیار تک پہنچانے میں کوشاں ہیں ۔ان میں سے ایک زنجیر کا نام ’’ کھلی کچہریاں‘‘ ہیں جہاں براہ راست عرضداشتیں متعلقہ افسران کی خدمت میں پہنچ کر لوگوں کی حالت زار اور مسائل سے واقفیت کا ذریعہ بنتی ہیں ۔امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے ۔عام آدمی میں تحفظ پیدا کرنا،تھانہ کلچر میں تبدیلی ،تھانوں میں عوام سے شائستہ رویہ ،تشدد و ناجائز حراست کا حاتمہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔یہ ہمارے ہاں دستور رہا ہے کہ تھانے جرائم اور مجرموں کی بہتات پر نیلام ہوتے رہے ہیں ۔یہ بات ہے سمجھنے کی ،آگے کہوں میں کیا ۔جہاں آوے کا آوا ہی بگڑ جائے وہاں شاہیں تراشنے ،وارننگ دینے سے کچھ نہیں ہوتا ۔برائی ختم کرنے کیلئے جڑوں تک پہنچنا پڑتا ہے ۔ان کا گزارہ صرف تنخواہ میں نہیں ہوتا اور بھی کچھ سلسلے کام آتے ہیں

ٹوٹ ہی جاتی گرانی سے کمر لیکن
اور بھی کچھ سلسلے یاروں کی تنخواہوں میں ہیں
امن و امان کے قیام اورناجائز حراست کا خاتمہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔پولیس کا محکمہ امن و امان کے قیام اور معاشرے سے جرائم کی بیخ کنی اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے کیلئے وجود میں آیا ۔اس محکمہ کے افسرواہلکار اس مقصد کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور کوششوں کو بروئے کار تو لائے ہوں گے لیکن عوام میں اس محکمہ کا تاثر بہتر نہیں ہو سکا اور مجموعی طور پر وہ پولیس سے نالاں ہی نظر آئے۔اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے عوام کے مسائل کے حل کیلئے ضلعی پولیس سربراہان (ڈی پی او) اور انتظامی سربراہان (ڈی سی)کو اپنے اضلاع میں کھلی کچہریاں لگانے کا حکم صادر فرمایا ہے۔عوام کی شکایات کے ازالہ کیلئے ضلعی افسران کا روزانہ اپنے دفاتر میں شہریوں کے مسائل سننااور کھلی کچہریوں کا انعقاد حکومت کی ایک بہتراور قابل تعریف حکمت عملی ہے ان کھلی کچہریوں کا ایک خاص مقصد تھانہ کے روائتی کلچر میں تبدیلی اور عوام پولیس کے مابین فاصلے کم کرنا ہے۔اس سے وہ زیادہ توجہ اور دلجمعی سے عوام کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کر سکیں گے ۔ان کھلی کچہریوں سے چٹ سسٹم کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی ۔شہر سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں مختلف جرائم کا غلبہ ہے ۔کسی علاقے میں چوری کی وارداتوں کی کثرت ہے ،کوئی غنڈہ گردی کیلئے مشہور ہے اور کوئی علاقہ ناجائز فروشوں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یہاں ڈکیتیاں اور ناجائز قبضے کے جرائم بھی ہوتے ہیں لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ ناجائز قبضوں کے معاملات میں پولیس اپنا حصہ وصول کر کے ایک طرف ہو جاتی ہے جبکہ معاملہ دو گروپوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔جسم فروشی اور ناجائز فروشی جیسے جرائم بھی ہیں ۔شہر کی سڑکوں پر سرشام ایسی عورتیں کھڑے ہو کر لوگوں کو ورغلاتی ہیں ۔بعض اطلاعات کے مطابق پولیس کی ملی بھگت سے یہ عورتیں کئی شہریوں کو تھانے کا خوف دلا کر بھی لوٹ لیتی ہیں ۔ہیروئن فروشی اور شراب کا کاروبار بھی ہے ۔یہ ناجائز فروش جس دیدہ دلیری سے اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اڈوں پر سے پولیس اپنا حصہ بھی وصول کرتی ہے اس سے عام آدمی کے اندر یہ جذبہ ہی دم توڑ جاتا ہے کہ وہ معاشرے میں پھیلے جرائم کی نشاندہی کیلئے پولیس کو معلومات فراہم کرے ۔کھلی کچہریاں کسی حد تک اس کمی کو پورا کرتی ہیں ۔ایک ایسا مرکز بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں کوئی بھی شہری معاشرے میں بد امنی اور لاقانونیت پھیلانے والے عناصر کی محفوظ طریقہ سے نشاندہی کر سکے اور اسے یقین ہو کہ اس کی اطلاعات پر پولیس ضرور کاروائی کرے گی۔معاشرے میں جہاں دیگر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہاں جرائم پیشہ افراد کے طریقہ واردات میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں ۔سٹریٹ کرائم جس میں موبائل فون ،زیورات ونقدی چھیننے کا رجحان پایا جارہا ہے ۔ان واقعات کے تدارک کیلئے سائنسی خطوط پر ایک جامع سروے کرا کر زیادہ جرائم والے علاقوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے وہاں ایسے علاقوں میں موثر پٹرولنگ اور اضافی نفری تعینات کرنا بھی ضروری ہے ۔موجودہ حکومت نے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کروا کر ایک خوش آئیند قدم اٹھایا ہے یہ سلسلہ مفیدہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ان کھلی کچہریوں میں سینکڑوں سائلین شرکت کر کے اپنی شکایات پیش کرتے ہیں جس سے افسران کا نہ صرف عوام سے رابطہ رہتا ہے بلکہ ان کے مسائل کو جاننے میں بھی مدد ملتی ہے ۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ ان کھلی کچہریوں میں عوام کا سراپا احتجاج نظر آنا اور مختلف سرکاری محکموں کے خلاف شکایات کے انبار لگا دینا سرکاری محکموں کی ناقص کارکردگی اور بد عنوانی کا ثبوت ہے حکومت کی طرف سے شہریوں کی شکایات کے ازالے کیلئے زور دیا جا رہا ہے اور جہاں شہریوں کو انصاف بھی پہنچایا جا رہا ہے وہاں محکموں میں تعینات بدعنوان اہلکار اور بعض افسران عوامی مشکلات میں اضافہ اور حکومت کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر پولیس اور انتظامی سربراہان کا عوام کی دہلیز پر جا کر عوامی مسائل کا خود جائزہ لینا اور ان کی شکایات کی روشنی میں محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے ۔ان کھلی کچہریوں میں دیہی علاقوں کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ شہریوں کا ضلعی دفاتر میں رابطہ کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ دیہی علاقوں کے رہائشی افراد کیلئے شہروں میں آنا اتنا آسان نہیں ۔بہر حال ان کھلی کچہریوں میں لوگوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ،اپنی شکایات پیش کرتی ہے جس پر نہ صرف موقع پر احکامات صادر کئے جاتے ہیں بلکہ موقع پر ہی درخواستیں متعلقہ افسران کے حوالے کر دی جاتی ہیں ۔ان کھلی کچہریوں پر نہ صرف عوام اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ ان میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت شائد محکموں کی کار کردگی بھی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو اور محکموں کا مجموعی تاثر بہتر ہو سکے۔راقم کے خیال میں ان کھلی کچہریوں کے انعقاد سے عام آدمی میں تحفظ کا احساس ضرور پیدا ہوا ہے۔راقم کی رائے ہے کہ اس وقت تک کسی بھی شکائت کنندہ کی فائل داخل دفتر نہ کی جائے جب تک سائل کو مکمل ریلیف نہیں ملتا اس سے کھلی کچہریوں کے حقیقی مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative