Home » کالم » کیا ادب زوال پذیر ہے؟
Darwesh-sherazi

کیا ادب زوال پذیر ہے؟

کسی بھی زندہ قوم کی پہچان اس کی تہذیب، زبان،ادب اورفلسفے سے ہوتی ہے اہلِ علم کا خیال ہے کہ تمام ذرائع ابلاغ میں شاعری موثر ترین ذریعہ ہے اور شاعری ادب کے تمام اصناف اور تمام فنونِ لطیفہ میں لطیف ترین صنف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ’’ادب‘‘ تہذیب کا چہرہ ہوتاہے اور شاعری چہرے کا حسن اور نزاکت ہوتی ہے ۔ چہرہ اور خاص کر چہرے کے حسن اور اس کی لطافت ونزاکت کے بغیر دنیا کی کسی بھی خوبصورت شے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ شاعر کے دل سے نکلی ہوئی بات قاری یا سامع کے دل تک براہ راست پہنچتی ہے اوردیر تک اپنا اثرقائم رکھتی ہے۔ شاعری سے تخریبی اور تعمیری دونوں کام لیے جا سکتے ہیں اس لیئے باشعور قومیں علم وادب کی سرپرستی کرتی ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کیوں نہ اس سے تعمیری کام لیا جائے اس لئے وہ شاعری میں کمال حاصل کرتے ہیں اور اس سے تعمیری کاموں کو انجام دینے کی ترغیب دلاتے ہیں اس لیئے جہاں بھی سماجی تبدیلی واقعہ ہوتی ہے اور یا انقلاب برپا ہوا ہے اس میں شعراٗ کا کردار کلیدی رہا ہے۔کہتے ہیں جو قومیں ماضی سے کٹ جاتی ہیں ان کا جغرافیہ مٹ جاتا ہے وہ تمام قومیں صفحہء ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو اپنی تہذیب اور اپنے ادب کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ وہ قومیں آج بھی زندہ ہیں اور اپنے وجود کا احساس ساری دنیا کو دلاتی رہتی ہے۔جنہوں نے اپنی تہذیب اور اپنے ادب کو مٹنے نہیں دیا۔لہٰذا ادب اور شاعری قوموں کو زندہ و تابندہ رکھنے کے وسیلے ہیں اور بیان کا سب سے بہتر ین ذریعے ہیں۔
زمانہ گواہ ہے کہ مشاعرے اور ادبی و شعری محفلیں جہاں عوامی تفریح کے ذرائع تھیں وہیں تہذیب سیکھنے ،ذہنی سکون حاصل کرنے اور تصوف کی پہلے زینہ سے آخری زینہ تک کا سفر طے کرنے کے لئے شاعری کی مدد لی جاتی تھی کیونکہ جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے اس سے بہتر اور موثر ذریعہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔شاعری کا جادو خانقاہوں سے شرفاء کی محفلوں تک اور گلی کوچوں سے طوائفوں کے کوٹھوں تک سر چڑھ کر بولتا تھا۔میر، غالب ، حالی، حسرت، اور اقبال جیسی عظیم شخصیات نے شاعری کے ذریعہ معاشرے کی اصلاح کی بات کی اور شعر ونظم لکھ کر معاشرے کی اصلاح کی تحریکات چلائیں۔ شاعری کی زبان میں اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کیاہے۔ فارسی اور اردو کے بیشتر شعرانے صوفیوں کے نظریہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مشکل ترین مسائل کو شاعری کی زبان میں آسان اور موثرطریقہ سے پیش کیا ہے مگر آ ج پوری دنیا کا نقشہ تبدیل ہو چکا ہے ایک ملک کی تہذیب دوسرے ملک کی تہذیب پر اثر انداز ہو رہی ہے اورنوجوان طبقہ مشاعروں اور دیگر علمی و ادبی محفلوں سے محظوظ ہونے کے بجائے دیگر خرافات کے کلچر سے محظوظ ہو رہے ہیں اورذہنی و قلبی سکون ختم ہو رہا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں نوجوان نسل کو روحانیت اور تصوف کے راستے پر گامزن کر نے کی ضرورت ہے اور ان راستوں پر چلنے کے لئے جس راہبر کی ضرورت ہے وہ صرف صرف علم وادب ہے۔شاعری ہمیں عشق مجازی کے راستے عشق حقیقی کی منزل تک پہنچاتی ہے جہاں پہنچ کر انسان دنیا کے تمام غموں اور الجھنوں سے نجات پا لیتا ہے۔کیوں کہ اس مقام پر صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں ۔اس بنا پر شاعری محض تفریح ہی نہیں بلکہ یہ ہمیں اعلیٰ اقدار اور فکر کی طرف لے جاتی ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ شاعری کو کثافتوں سے بچایا جائے اور شعر وادب کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی جائے تاکہ ہمارے قوم کے نوجوان تفریح کے ساتھ ساتھ ہماری کھوئی ہوئی تہذیب سے روشناس ہو سکیں اور قلبی وذہنی سکون پھر سے حاصل کر سکیں کیونکہ ادب سے انسان کا رشتہ اتنا گہرا ہے کہ وہ اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ پھر یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک صحتمند معاشرے کی تشکیل کا ضامن ایک ادیب ہی ہوتا ہے جو انسان کو خوش اخلاقی و خوش کرداری کا پیکر بنانے میں اہم رول ادا کرتا ہے اور ادب کسی کے پروفیشن میں قطعاً آڑے نہیں آتاہے ایک ادیب صرف ادیب ہوتا ہے اور کچھ نہیں، وہ اپنے آپ کو فنا کر کہ تخلیقی عمل سے گزرتا ہے اور اس میں اپنی ذندگی کھپا دیتا ہے اور پھر پکار کر کہتا ہے ؂
کر چکا جب وہ مر ا ہاتھ قلم
تب اسے میر ا ہنر یاد آیا

About Admin

Google Analytics Alternative