Home » کالم » کیا مودی پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے؟

کیا مودی پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے؟

 بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے کشمیر میں تشدد کو پروان چڑھا رہی ہے ۔ مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے ساتھ جنگ بھی چھیڑ سکتی ہے۔ مودی نے آج تک اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا ۔ بی جے پی کے غنڈوں کا حوصلہ مزید بڑھ چکا ہے اور اترپردیش میں ہندو مسلم فسادات کرائے جا سکتے ہیں۔ ریاست کے انتخابات میں کامیابی کیلئے بی جے پی کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔ مرکز میں جب سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے تب سے ملک میں مسلم سمیت دیگر اقلیتوں کے ساتھ غلط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں مضبوط ہوگئیں۔گاﺅں رکھشا اور تبدیلی مذہب کی آڑ میں اقلیتوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ نئی دہلی کے لاءاینڈ آرڈر کو بھی جب یہ بی جے پی کی حکومت نہیں سنبھال سکتی تو اتر پردیش کو کس طرح سنبھالے گی ؟ موجودہ حکمراں پارٹی جو اپنے جرم کیلئے ہمیشہ سے جانی جاتی رہی ہے ، لیکن اس مرتبہ تو غنڈوں کا حوصلہ مزید بلند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ریاست میں لوٹ مار، جرائم، عصمت دری اور فرقہ وارانہ فسادات جیسے واقعات خوب ہورہے ہیں۔ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ جب سے مودی اقتدار میں آیا وہ پاکستان کے اندر اور بارڈر پر جنگ کر رہا ہے۔ حکومت پاکستان، افواج پاکستان اور عوام کو سنجیدگی سے غور کرکے دفاعی حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے۔بھارت کے ساتھ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے۔برسرِ اقتدار آنے کے بعد بھارت کی مودی سرکار پاکستان کے خلاف اعلانیہ اور غیر اعلانیہ محاذ کھولے ہوئے ہے۔ نریندر مودی نے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ مودی نے کہاکہ جب پاکستان پر ہزاروں گولے برسیں گے تو اس کی چیخیں نکل جائیں گی۔ اس ہرزہ سرائی کے فوری بعد بھارت کی طرف سے ورکنگ باو ¿نڈری اور لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا اور بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں مارٹر گولے پاکستانی سرزمین پر برسائے گئے۔ گجرات میں 2000 مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے نریندر مودی کی پاکستان اور اسلام دشمنی کوئی نئی بات نہیں،لیکن مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ اور ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھی اپنی اوقات دکھانے لگی ہیں۔ نریندر مودی سن لے اگر پاکستان سے جنگ کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ حکمران بھارت سے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے تاریخ لیں اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق وہ مسئلہ کشمیر حل نہیں کرتا تو اعلان کیا جائے کہ اب بھارت سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔ بھارت نے پاکستان کے ہر شہر میں جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ دفاعی پالیسی مضبوط بنانا ہو گی۔ بھارت کی جارحیت کو روکنا ہے تو پھربھرپور فیصلے کرنا ہوں گے۔ بھارت کی پالیسی صرف اور صرف یہ ہے کہ کسی طرح پاکستان مضبوط و مستحکم نہ ہو۔ اس کے لئے وہ اتنے اسلحہ کے انبار جمع کر رہا ہے۔ ان سنگین حالات میں اب ہمیں ضرور سوچنا چاہئے کہ بھارت کے ان خوفناک اور خطرناک عزائم پر کیسے قابو پانا اور مقابلہ کرنا ہے۔ بھارت کی ساری تیاری کا مرکز و محور صرف اور صرف پاکستان ہے۔ ہم جنگ کے طالب ہیں نہ رسیا لیکن اپنی خودداری کسی صورت قربان نہیں کر سکتے ۔اگر بھارت اپنے سارے ملک کی پروا نہ کرتے ہوئے صرف اور صرف پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف ہے تو ہمیں بھی سوچنا چاہئے کہ ہم نے کب تک یوں بھارت کے سامنے جھک کر اور بزدلانہ پالیسی اختیار کر کے جینا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تو یہ لامحالہ ایٹمی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے جو بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری اور باعزت طریقے سے تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ہم ایٹمی ملک ہونے کے ناطے بھارت سمیت تمام ہمسائیہ ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آنے والے وقت میں اگر جنگ ہوئی تو وہ محدود نہیں ہو گی۔بھارت اور پاکستان کئی مرتبہ ایٹمی جنگ کے قریب آچکے ہیں اوران کے درمیان یہ خطرہ تاحال موجود ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative