Site icon Daily Pakistan

کیا ہم واقعی بے ایمان ہیں؟

زندگی کے ستر برس دیکھنے کے بعد، دنیا کے مختلف ممالک کی خاک چھاننے کے بعد اور انسانی رویوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد ایک سوال آج بھی میرے ذہن میں گونجتا ہے:ہم بے ایمان کیوں ہوئے؟یہ سوال میں کسی اور سے پہلے خود اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔ اس لیے کہ ہم اس نبی کریم ۖ کی امت ہیں جنہیں دشمن بھی "الصادق” اور "الامین” کہہ کر پکارتے تھے۔ امانت داری آپ ۖ کی ایسی صفت تھی کہ نبوت سے پہلے بھی لوگ اپنی قیمتی امانتیں آپ کے پاس رکھواتے تھے۔ اسلام نے نماز، روزہ اور حج کے ساتھ ساتھ دیانت، سچائی اور حقوق العباد کو بھی ایمان کا بنیادی حصہ قرار دیا۔ہمارے اکابرین کی زندگیاں بھی انہی اصولوں کی روشن مثال ہیں۔ امام ابو حنیفہ کا ایک واقعہ تاریخ میں محفوظ ہے۔ ان کے ایک ملازم نے گندم کی ایک کھیپ فروخت کی جس میں کچھ اناج خراب تھا۔ ملازم کو ہدایت تھی کہ خریدار کو خرابی سے آگاہ کیا جائے، لیکن وہ ایسا نہ کر سکا۔ جب امام ابو حنیفہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے صرف منافع واپس نہیں کیا بلکہ پوری رقم صدقہ کر دی تاکہ کسی مسلمان کے حق میں ذرہ برابر زیادتی بھی ان کے ذمے نہ رہ جائے۔سوچنے کی بات ہے کہ جن لوگوں کے اسلاف کا معیار یہ تھا، وہ آج کس مقام پر کھڑے ہیں؟چند روز پہلے ایک بار پھر یہ سوال میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔ پاکستان میں آج ایک عام آدمی کے لیے صرف مہنگائی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ ناقص کسٹمر سروس اور روزمرہ بددیانتی بھی ایک مستقل عذاب بن چکی ہے۔ اگر آپ انشورنس کمپنی سے بیمہ کروائیں اور خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے۔ نقصان پورا کرنے کے بجائے ایسی باریک خامیاں تلاش کی جاتی ہیں جن کا مقصد صرف ادائیگی سے بچنا ہوتا ہے۔ آن لائن خریداری کی دنیا بھی اسی المیے کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا پر خوبصورت تصاویر، دلکش ویڈیوز اور بڑے بڑے دعوے دکھائے جاتے ہیں۔ خصوصاً بزرگ افراد ان اشتہارات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کیلئے بازار جا کر خریداری کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تصویر کچھ اور ہوتی ہے اور پارسل میں پہنچنے والی چیز کچھ اور۔مجھے اپنا ایک ذاتی تجربہ یاد ہے۔ چند سال پہلے گھر میں شادی تھی۔ میں نے پشاور سے ایک پشاوری چپل آن لائن منگوائی۔ تصاویر دیکھ کر اندازہ ہوا کہ شاید اعلی معیار کی چیز ہوگی۔ تقریبا ڈھائی ہزار روپے ادا کیے۔ جب پارسل کھولا تو ایسا لگا جیسے کسی نے استعمال شدہ چپل دوبارہ پیک کرکے بھیج دی ہو۔ میں نے ناراضی میں ایک تبصرہ لکھ دیا۔ اگلے دن سپلائر کا فون آیا۔ میں سمجھا شاید معذرت کرے گا، لیکن وہاں سے معذرت کے بجائے گالیوں کی بارش شروع ہوگئی۔ میں نے خاموشی اختیار کی، فون بند کیا اور چپل آج تک ایک طرف پڑی ہے۔ یہ صرف میری کہانی نہیں۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ روزانہ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں۔ کسی کو جعلی سامان ملتا ہے، کسی کا آرڈر کبھی پہنچتا ہی نہیں، کسی کی شکایت سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔اسی دوران مجھے دبئی میں چند ماہ گزارنے کا موقع ملا۔ وہاں جا کر احساس ہوا کہ اصل فرق دولت کا نہیں بلکہ کردار اور نظام کا ہے۔ آپ کوئی چیز خریدیں، وقت پر پہنچتی ہے۔ پسند نہ آئے تو واپس کر دیں۔ خرابی نکل آئے تو کمپنی معذرت کرتی ہے۔ تاخیر ہو جائے تو اطلاع دی جاتی ہے۔مجھے اپنے طالب علمی کے زمانے کا ایک اور واقعہ یاد آتا ہے ۔ ان دنوں ای میل اور سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا ۔ میں نے ایک برطانوی کمپنی کا جوتا خریدا۔ کچھ عرصے بعد کمپنی کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ۔ خط میں لکھا تھا کہ ہماری فیکٹری کے ایک مخصوص بیچ میں معمولی فنی خرابی کا امکان سامنے آیا ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ جوتا موجود ہے تو براہِ کرم واپس بھیج دیں، ہم آپ کو نیا جوڑا فراہم کریں گے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ مجھے خود اس خرابی کا علم بھی نہیں تھا۔ کمپنی چاہتی تو خاموش رہ سکتی تھی، مگر اس نے اپنی ساکھ اور صارف کے اعتماد کو ترجیح دی۔تب میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ آخر وہ قومیں ہم سے آگے کیوں نکل گئیں؟ کیا ان کے پاس سونے کی کانیں زیادہ تھیں؟ کیا ان کے وسائل ہم سے کئی گنا زیادہ تھے؟ یا ان کے پاس کوئی جادوئی نظام تھا؟میرے نزدیک جواب بہت سادہ ہے ۔ انہوں نے اعتماد کو سرمایہ بنایا اور ہم نے اعتماد کو سستا کر دیا۔ہم خیرات دینے والی قوم ہیں۔ ہم زکو دیتے ہیں، صدقات دیتے ہیں، فلاحی ادارے بناتے ہیں، ہسپتال قائم کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت دنیا کی سب سے زیادہ سخاوت کرنے والی قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں دیانت داری کا معیار کیوں گرتا جا رہا ہے؟ہمیں حدیث یاد ہے کہ "جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں”۔ ہمیں امانت داری کے فضائل بھی یاد ہیں، لیکن کاروبار کے میدان میں انہی اصولوں کو سب سے پہلے بھلا دیا جاتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ دکاندار نقل کو اصل بنا کر بیچنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتا؟ کیوں ایک کمپنی صارف کی شکایت کو بوجھ سمجھتی ہے؟ کیوں ایک آن لائن تاجر تصویر کچھ اور دکھاتا ہے اور سامان کچھ اور بھیجتا ہے؟ اور کیوں ایک عام آدمی دوسرے عام آدمی کو دھوکہ دینے کو ذہانت سمجھتا ہے؟ بلاشبہ قانون کی کمزوری بھی ایک سبب ہے۔ کنزیومر کورٹس موجود ہیں، قوانین بھی موجود ہیں، مگر ایک عام شہری کیلئے وہاں تک پہنچنا آسان نہیں۔ وقت، اخراجات اور پیچیدگیاں اکثر لوگوں کو انصاف مانگنے سے روک دیتی ہیںلیکن سچ یہ بھی ہے کہ قوموں کا اخلاقی معیار صرف قانون سے بلند نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی ہر ترقی یافتہ ریاست فرشتوں کا معاشرہ بن چکی ہوتی۔اصل فرق کردار پیدا کرتا ہے۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر ہمیں موقع ملے تو کیا ہم خود ہمیشہ اصولوں پر قائم رہتے ہیں؟ کیا ہم قطار توڑنے کی کوشش نہیں کرتے؟ کیا ہم سفارش نہیں ڈھونڈتے؟ کیا ہم کبھی اپنے فائدے کیلئے دوسروں کا حق نہیں مارتے؟ شاید تبدیلی کا آغاز یہی سوال خود سے پوچھنے سے ہوتا ہے۔ترقی صرف موٹرویز، میٹرو بسوں اور بلند عمارتوں کا نام نہیں۔ ترقی دراصل اعتماد کا نام ہے۔ جب خریدار کو یقین ہو کہ اسے دھوکہ نہیں دیا جائے گا، جب مریض کو یقین ہو کہ ڈاکٹر اس کے مفاد میں فیصلہ کرے گا، جب شہری کو یقین ہو کہ ادارے اس کے ساتھ انصاف کریں گے، تب ایک قوم مضبوط بنتی ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ ہم بے ایمان قوم ہیں۔ میرے ملک میں آج بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو معمولی تنخواہوں پر کام کرتے ہوئے بھی حلال روزی کماتے ہیں، جو امانت میں خیانت نہیں کرتے، جو وعدہ پورا کرتے ہیں اور جو دوسروں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بے ایمانی کو برداشت کرنا سیکھ لیا ہے۔ ہم نے غلط کو معمول سمجھ لیا ہے۔ ہم نے دھوکہ دینے والے کو چالاک اور دیانت دار کو سادہ لوح سمجھنا شروع کردیا ہے جس دن ہم نے یہ سوچ بدل دی، جس دن ہم نے اپنے کاروبار، اپنی ملازمت اور اپنی روزمرہ زندگی میں امانت داری کو دوبارہ عزت دی، اسی دن تبدیلی کا آغاز ہو جائے گا۔کیونکہ قومیں صرف قوانین سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔اور کردار کی تعمیر ہمیشہ اپنے گریبان میں جھانکنے سے شروع ہوتی ہے ۔ تو پھر آئیے، دوسروں سے پہلے خود سے پوچھتے ہیں: ہم بے ایمان کیوں ہوئے؟

Exit mobile version