خیبر پختونخوا کی سرزمین جہاں اپنی خوبصورتی اور مہمان نوازی میں بے مثال ہے، وہاں یہ صوبہ ملکی معیشت کو سہارا دینے والے دو انتہائی اہم ستونوں کا گھر بھی ہے۔ تمباکو اور ماربل صنعتیں صوبے کے وہ دو بڑے سیکٹرز ہیں جو نہ صرف قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس فراہم کرتے ہیں، بلکہ صوبے کے لاکھوں خاندانوں کا چولہا بھی انہی سے جل رہا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں عائد کیے جانے والے بھاری اور غیر منصفانہ ٹیکسوں نے ان دونوں صنعتوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر آئندہ بجٹ میں انہیں فوری ریلیف نہ دیا گیا تو لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔اگر تمباکو کی بات کی جائے تو یہ نقد آور فصل صوبہ خیبر پختونخوا کے لگ بھگ نو اضلاع (صوابی، مردان، نوشہرہ، سوات، مانسہرہ، چارسدہ اور بونیر وغیرہ) میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ سیکٹر حکومتی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور سالانہ قومی خزانے کو صرف ٹوبیکو سیکٹر سے لگ بھگ 320 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس(فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی مد میں)حاصل ہوتا ہے۔ اس صنعت سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر کئی لاکھ خاندان وابستہ ہیں، جن میں غریب کاشتکار، دہاڑی دار مزدور اور فیکٹری ملازمین شامل ہیں۔آخر تمباکو کاشتکاروں اور صنعتکاروں کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر سال بجٹ میں آمدن بڑھانے کی غرض سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بے تحاشا اضافہ کر دیتی ہے۔ مزید برآں، حکومت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مقامی صنعت پر یکساں ٹیکس لاگو کر رکھا ہے۔ جو ٹیکس پانچ سو روپے والے سگریٹ کے ڈبے پر ہے، وہی ٹیکس ڈھائی سو روپے میں بکنے والے ڈبے پر بھی عائد ہے۔ چھوٹی صنعتوں کی نگرانی کے لیے قومی اداروں سمیت ‘ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم’ تو لگا دیا گیا ہے، لیکن اس پالیسی کے نفاذ کے طریقے سے صنعتکاروں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔اس کے نتیجے میں زیادہ تر مقامی صنعتیں بند ہو چکی ہیں، جس سے نہ صرف حکومت کے ریونیو میں کمی آئی بلکہ مارکیٹ میں نان ڈیوٹی پیڈ (ٹیکس چوری کرنے والے) اور اسمگل شدہ سگریٹوں کی بھرمار ہو گئی۔ قانونی سگریٹ مہنگے ہونے سے ان کی فروخت کم ہوئی، یوں انڈسٹری کے ساتھ ساتھ خود حکومت کے ٹیکس ہدف کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ دوسری جانب، مقامی صنعتوں کی بندش سے ہزاروں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔ صوبے کا کاشتکار اپنی فصل سستے داموں بیچنے پر مجبور ہے، بلکہ اس بار تو یہ انتہائی اقدام بھی دیکھا گیا کہ مجبور کاشتکار اپنے ہاتھوں سے اپنی فصل تلف کرنے پر مجبور ہو گیا؛ کیونکہ جس تمباکو کا ریٹ دو سے ڈھائی ہزار روپے ہونا چاہیے تھا، اس کا نرخ گر کر سات سو روپے فی کلو تک آ گیا ہے۔اب آتے ہیں ماربل انڈسٹری کی طرف، یعنی خیبر پختونخوا کا "سفید سونا” جو ٹیکسوں تلے دب چکا ہے۔ صوبے کے کئی اضلاع مثلا بونیر، مہمند، صوابی، مردان اور ملاکنڈ ماربل اور گرینائٹ کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہیں۔ یہاں کا ماربل اندرون و بیرونِ ملک سپلائی ہوتا ہے۔ صوبے میں ماربل کی ہزاروں پروسیسنگ ملز اور مائنز (کانیں) موجود ہیں، جو سالانہ اربوں روپے کا ریونیو پیدا کرتی ہیں اور پسماندہ علاقوں میں لاکھوں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔مگر اس صنعت پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، صوبائی رائلٹی اور خاص طور پر بجلی کے بلوں میں بھاری فکسڈ چارجز اور ٹیکسز عائد ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے اور ماربل فیکٹریوں پر عائد ‘ڈبل ٹیکسیشن’ (صوبائی اور وفاق کے ٹیکسوں کا ٹکرا) نے پیداواری لاگت کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ بونیر، گدون مردان اور مہمند جیسے اضلاع میں سینکڑوں ماربل فیکٹریاں مستقل طور پر بند ہو چکی ہیں، اور جو چل رہی ہیں وہ بھی اپنی اصل گنجائش سے بہت کم پر کام کر رہی ہیں۔اگر صنعتکاروں کے بنیادی مسائل اور مطالبات پر بات کی جائے، تو صوبے کے ٹوبیکو اور ماربل کے صنعت کاروں اور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ ٹیکسوں کے نظام کو آسان، معقول اور حقیقت پسندانہ بنایا جائے۔ ٹوبیکو پر ڈیوٹی کو اس سطح پر لایا جائے جہاں قانونی صنعت سانس لے سکے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلے میں چھوٹے مقامی صنعتکاروں کے لیے الگ ٹیکس سلیب بنایا جائے۔ اسی طرح ماربل انڈسٹری پر سے بھی ٹیکسوں کا جال کم کیا جائے۔چونکہ یہ دونوں صنعتیں بجلی پر چلتی ہیںتمباکو سکھانے کے عمل سے لے کر سگریٹ بنانے تک بجلی اور گیس ضروری ہے، اور ماربل صنعت کا بھی بجلی کے بغیر چلنا ناممکن ہیاس لیے صنعتی صارفین کے لیے بجلی پر عائد اضافی ٹیکسز اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کیے جائیں۔ ٹوبیکو کمپنیوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے ہراسمنٹ (ہراسگی) اور خوف کی فضا کا خاتمہ ضروری ہے۔ ماربل سیکٹر کے لیے بلاسٹنگ (دھماکوں) کے پرانے طریقوں کی جگہ جدید مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے اور مائننگ لیز کے عمل کو آسان بنایا جائے۔آئندہ مالیاتی بجٹ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور موقع بھی۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیکس کی شرح بڑھانے سے ٹیکس کی آمدن نہیں بڑھتی، بلکہ ٹیکس دینے والوں کی تعداد اور کاروبار کو فروغ دینے سے بڑھتی ہے۔ خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جغرافیائی دوری کی وجہ سے صنعتی پسماندگی کا شکار رہا ہے، ایسے میں صوبے کی اپنی ان دو بڑی صنعتوں کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا کر مار دینا معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔آئندہ بجٹ میں ٹوبیکو سیکٹر پر مزید ٹیکس لگانے کے بجائے اس سیکٹر کو سہولیات دی جائیں اور ایکسپورٹ (برآمدات) کے مواقع بڑھا کر ایکسپورٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی مراعات دی جائیں۔ ہراسمنٹ کی فضا کے خاتمے سمیت مقامی ٹوبیکو صنعت کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈوں کا قلع قمع کیاجائے ماربل انڈسٹری کو "ایکسپورٹ اورینٹڈ” (برآمدی صنعت) کا درجہ دے کر خصوصی سبسڈیز دی جائیں۔ اگر ان دونوں صنعتوں کو ٹیکسوں میں ریلیف اور آسانیاں فراہم کی گئیں، تو یہ نہ صرف حکومت کو دگنا ریونیو کما کر دیں گی، بلکہ صوبے کے لاکھوں خاندانوں کو بے روزگاری کے اندھیرے سے بھی بچا لیں گی۔ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ انڈسٹری کو بچاتی ہے یا ٹیکسوں کے بوجھ تلے دفن کرتی ہے۔
کے پی معیشت کا دھڑکتا دل:ٹوبیکو اور ماربل صنعتیں

