گجراتی مسلمانوں کا بے رحم قاتل ۔ نریندرامودی

18

جب ہم بھارتی ریاست گجرات کے بدنام زمانہ ’’مودی قصاب کے گجرات‘‘ میں آج سے اٹھارہ برس قبل ستائیس فروری دوہزار سات کو ہونے والے بدترین مسلم کش فسادات کو یاد کرتے ہوئے خون کے آ نسوروتے ہیں تو ہ میں برملا یہ بھی ماننا ہوگا ایک ارب چالیس کروڑ عوام کا دیش بھارت سکولرریاست ہے اور نہ ہی لبرل‘ اپنے زیرنظر کالم کی ابتدائی سطروں میں جیسا راقم نے لکھا ’’مودی قصاب کا گجرات‘‘ اس کی وجہ یہ ہے جن دنوں ریاست گجرات میں مسلم کش فسادات ریاستی سرپرستی میں ہوئے اْن دنوں گجرات کے وزیراعلیٰ تھے یہی نریندرا مودی جو آجکل بھارت کے ’’پردھان منتری‘‘بنے بیٹھے ہیں یہاں یہ بھی یاد رہے کہ 27 فروری 2007 کو آرایس ایس اور بجرنگ دل جیسی متشدد ہندو تنظیموں نے بہت ہی گہری سوچی سمجھی اور سازشی منصوبہ کے تحت مسلم فسادات کےلئے گجرات ریاست کا انتخاب اس لئے کیا تھا چونکہ چندماہ بعد ریاست گجرات میں اگلے پانچ برس کےلئے عام چناو کا وقت قریب تھا اگرگجرات ریاست میں ہونے والے ریاستی چناءو سے چندماہ قبل مسلم کش فسادات رونما نہ ہوتے تو آرایس ایس کے کارسیوک مودی اور اْن کے چیلے ریاستی انتخاب کبھی نہ جیت پاتے،جی ہاں صاحبو! آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی متشدد مسلح تنظیموں نے مسلم کش فسادات کی راہ ہموار کرنے کےلئے پہلے مرحلہ میں گودھرا کیمپ اسٹیشن پر کھڑی ہندو یاتریوں کی ایک ٹرین کو دوافراد کی معمولی سی تکرار کی آڑ آگ لگادی دیکھتے ہی دیکھتے ٹرین کی ایک بوگی جل کر خاکستر ہوگی یوں اس انتہائی افسوس ناک واقعہ میں 59 ہندو یاتری ہلاک ہو گئے اس افسوس ناک حادثہ کی ذمہ داری آرایس ایس اور بجرنگ دل کے مسلح غنڈوں نے فورا مسلمانوں پر ڈال کرمسلمان آبادیوں پر لگاتار حملوں کا سلسلہ شروع کردیا یوں یہ فرقہ ورانہ فسادات تین ماہ تک جاری رہے ان میں ایک ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے تھے جن عورتوں اور بچوں کی تعداد زیادہ تھی اس کے علاوہ شرمناک بات یہ ہے کہ ریاست گجرات کی حکومت نے مسلح دہشت گرد ہندو غنڈوں کی مکمل پشت پناہی کی چونکہ ریاست میں آرایس ایس کی کھلی حمایتی حکومت تھی جیسے اوپر بیان ہوا کہ دیش موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے لیکن ان کی حکومت نے مسلم کش فسادات کو روکنے کےلئے کوئی موَثر اقدام جان بوجھ کر نہیں کیا تھا نریندر مودی اور گجرات حکومت کی اس فرقہ وارانہ حکمت عملی کی دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کی تھی اس قتل عام میں مودی کے ملوث ہونے کے شبہ کی وجہ سے ہی 2014 میں بھارت کا وزیر اعظم بننے سے قبل انہیں امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کیا جاتا رہا بطور ریاستی وزیراعلیٰ ہونے نریندر مودی نے ان فسادات کے بارے میں اب تک کوئی واضح بیان نہیں دیا بالکل ٹھیک ہے مگروہ جو کہتے ہیں نا کہ’’خاموشی نیم رضامندی‘‘گجرات کے مسلم کش فسادات کی پشت پناہی والی باتیں ہوا میں نہیں کی جارہی ہیں ،مسٹر مودی کی اس بارے میں ’’خاموشی‘‘ کو دنیا’’نیم رضا مندی‘‘ سے خدارا تعبیر نہ کرئے، بطور وزیراعلیٰ ریاستِ گجرات نریندرامودی نے بخوشی ورغبت اپنی ماسٹر مائنڈ تنظیم آرایس ایس کے مسلح جتھوں کو مسلم آبادیوں میں جانے کی کھلی چھوٹ دی تھی آج سے چودہ برس قبل گجرات ریاست کے ریٹائرڈ کئی پولیس آفسروں نے اپنے ضمیروں کا بوجھ اپنے اعترافات میں کھل کر اتار پھینکا ہے سبھی ایک نکتہ پر متفق ہیں کہ ’’اْنہیں خاموش تماشائی بنادیا گیا تھا‘‘گجرات میں آر ایس ایس کے مسلح لوگوں نے اندھا دھند فائرنگ کی تھیں ،مسلم آبادیوں کو نذرآتش کیا گیا تھا یہی نہیں بلکہ مسلم خواتین کی دن دھاڑے عزتیں پائمال کی گئیں ، مودی کی کیسی’’خاموشی‘‘یا کیسی’’نیم رضامندی ‘ آرایس ایس کے غارت گر آپریٹس کے یہ ’’کل پرزے،نٹس اور بولٹس‘‘گجرات کے مسلمانوں کے مکمل تباہی وبربادی پر اگر اتنے دیدہ دلیری سے آمادہ تھے تو اْن کی پشت پر ریاستی اشرافیہ کا یقینی ہاتھ تھادوہزار سات میں آنجہانی بھارتی وزیراعظم واجپائی جی نے اس افسوس ناک موقع پر اپنے دوٹوک مذمتی بیان میں گجرات کے مسلم کش فسادات کی تمام تر ذمہ داری ریاستی حکومت پرڈالی اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ گجرات کے مسلم کش فسادات کے واقعات نے بھارت کا کہیں کا نہیں چھوڑا اب ہم دنیا کےسامنے اپنا کون سا چہرہ لے کر جائیں گجرات میں مسلم آبادیوں پر حملے اور مسلم خواتین کی بے حرمتی کے شرمناک قصے یہی کیا کم تھے اوپر سے گجرات میں رکن لوک سبھا احسان جعفری کے گھر گلبرگ سوساءٹی پر حملہ ہوگیا اْن کا فون کسی نے ریسیو نہیں کیا وہ مدد کےلئے پولیس کوکالیں کرتے رہے چونکہ اْس کے گھر کے احاطے میں علاقہ کے مسلمان جمع ہوگئے تھے یہ سوچ کر احسان جعفری رکن لوک سبھا ہیں شائد یہاں ہم محفوظ رہیں گے;238; گجرات کے مسلمانوں کا یوں قتل عام ہو گیا اور لوک سبھا کے رکن احسان جعفری کو اْن کے گھر میں پناہ گزیں مسلمانوں کے سامنے نہایت بےدردی کے ساتھ قتل کردیا گیا شہید کردیا گیا تقسیم ہند سے اب تک کانگریس کے بھارت میں یا بی جے پی دور میں بھارت کی سب بڑی مسلم اقلیت سمیت دیگر اقلیتوں پر کم ظلم وستم نہیں ہوا ایسے فرقہ ورانہ فسادات فہرست بہت طویل فہرست ہے لیکن دن ’’گجرات کے مسلم کش فسادات‘‘ کی درد ناک ٹیسوں کو شائد ہی بھول پائے کیونکہ ریاست کے امرا اور اشرافیہ جب خود ہی ظالم وسفاک بن جا ئیں اور اْس پر طرہ یہ کہ ’’منصف‘‘بھی خود بن جا ئیں جیسا بتایا جارہا ہے کہ ’’گجرات فسادات‘‘کی تحقیقات کرنےوالی بھارتی ایجنسیوں اور پھر عدالتوں نے نریندرامودی کو ان فسادات کی ذمہ داریوں سے علیحدہ قرار دیدیا ہے نہ صرف مودی بلکہ گجرات سانحہ میں جتنے افراد کیخلاف باقاعدہ مقدمات قائم ہوئے دیش کی عدالتوں نے سب کو ان فسادات میں ملوث ہونے سے بری الزمہ قرار دیا ہے توپھر سوال پیدا ہوتا ہے پھر ایک ہزار کے لگ بھگ ان مسلمانوں کو کس نے زندہ جلایا;238; گجرات میں دن دھاڑے مسلم خواتین کی عزتیں کس نے پائمال کی تھیں ;238;وہ مجرمان کون تھے;238; ’’سیکولر‘‘ دیش ہونے کے دعویدار بھارتی عدالتوں نے مسلمانوں کے قتل عام میں شریک آرایس ایس کے جنونی قاتلوں کو رہائی کا پروانہ تھما کر اپنے مکروہ چہرے سے نقاب سرکا کر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت ایک شدت پسند مذہبی ریاست ہے جہاں مسلمان طبقہ انصاف سے آج بھی کوسوں دور ہے مودی بھگت عدالتیں انصاف نہ کریں مگر تاریخ اور وقت کا پہیہ ان ظالموں کے چہروں پر پڑے ہوئے صحیح سلامت کیسے چھوڑ دے گا آرایس ایس اور نریندرامودی زور آزمائی کے کتنے ہی پینترے بدل لے کسی صورت وہ اپنے کیئے کی مجرمانہ وارادتوں سے بچ نہیں سکتے، کالم میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے زیادہ تفصیلاً بتا نہیں سکتے، جو مودی اور آرایس ایس کو ’’گجرات فسادات‘‘ اور ’’دیش بھر میں ‘‘ہونےوالے فرقہ ورانہ کامجرم نہیں سمجھتے وہ ذرا آربی سری کمار جو گجرات فسادات کے ایام میں گجرات میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی ذمہ داری نبھا رہے تھے وہ ریاستی محکمہ خفیہ کے سربراہ بھی تھے ،جب انہوں نے دیکھا کہ مسلم کش فسادات دانستہ کرائے جارہے ہیں اور ساری سرکاری مشنریوں کا استعمال ایک مسلم فرقہ کے خلاف کیا جارہا ہے، کیا سرکاری افسران کیا پولیس افسران سب ہی’’ مودی کی ریاستی حکومت ‘‘کے ہاتھوں کاکھلونا بنے ہوئے ہیں ، تب انہوں نے آواز اٹھائی ،اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو للکارا، فسادیوں کو بے نقاب کرنے کی مہم شروع کی‘انہیں سرکاری عتاب جھیلنا پڑا،انتقامی تبادلے کے عذاب سے وہ گذرے‘مقدمہ ہوا ، مگر انہوں نے حق اورسچ سے منہ نہیں موڑا،آج تک وہ گجرات2002کی لڑائی لڑرہے ہیں اْن کی کتاب ‘‘پس پردہ گجرات‘‘ کے انکشافات نے سبھی آرایس ایس کی اشرافیہ کو بے نقاب کردیا ہے ۔